Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Tajdeed-e-Deen
Tajdeed-e-Deen

تجدیدِ دین

Urdu · 10 min

تجدید کے معنی ہیں نیا کرنا۔ تجدیدِ دین کا مطلب یہ ہے کہ دین کے اوپر جب گرد و غبار پڑ جائے تو اس کو صاف کر کے دوبارہ دین کو اس کے اصلی رنگ میں پیش کر دیا جائے۔ دین کے اوپر گرد و غبار کی وجہ ہمیشہ ایک ہی رہی ہے، اور وہ ہے آسمانی متن میں انسانی اضافہ۔

یہ اضافہ ابتداً وقتی محرکات کے تحت وجود میں آتا ہے، اور اس کے بعد رفتہ رفتہ مقدس بن کر اصل خدائی مذہب کا جز بن جاتا ہے۔ اس کو لوگ اسی طرح ماننے لگتے ہیں جس طرح خدائی وحی کو ماننا چاہیے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ اپنے احبار و رہبان کو خدا کے سوا اپنا رب بنا لیتے ہیں؛ سورۃ توبہ، آیت 31۔ اس اضافے کے محرکات عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک، مذہب کی حقیقت کو خارجی طور پر متعین کرنے کی کوشش، یعنی ایکسٹرنلائزیشن؛ دو، مذہب کی تعلیمات کو عقلی اصطلاحوں میں بیان کرنا، یعنی ریشنلائزیشن۔

پہلی غلطی کی ایک مثال بائبل، یعنی پرانے عہد نامے کے ابتدائی ابواب ہیں، جو قربانی کی انتہائی جزئی تفصیلات سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ بے شمار آداب اور طریقے، یا قرآن کے الفاظ میں اسر و اغلال (سورۃ اعراف، آیت 156) جو موجودہ بائبل میں درج ہے، ان کا حقیقی موسوی شریعت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ بعد کے یہودی علماء کی پیدا کردہ فقہ تھی جس کو کتاب مقدس میں شامل کر دیا گیا۔ اسی طرح وہ بدعت (سورۃ حدید، آیت 27) جو مسیحیت میں رہبانیت کے نام سے رائج ہوئی، وہ بھی بعد کو پیدا ہونے والا مسیحی تصوف تھا جس کا حضرت مسیح نے کبھی حکم نہیں دیا تھا۔

یہ چیزیں جو ابتداً یہودی عبادت یا مسیحی روحانیت کا خارجی ڈھانچہ بنانے کی کوشش کے سلسلے میں وجود میں آئیں، دھیرے دھیرے خود یہودیت اور مسیحیت کا جز بن گئیں، یہاں تک کہ ان کے ہجوم میں اصل دینِ خداوندی گم ہو کر رہ گیا۔ دوسرے بگاڑ کی مثال موجودہ مسیحیت کے عقائد: تثلیث، کفارہ، ابنیتِ مسیح وغیرہ ہیں۔ یہ عقائد نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح نے کبھی تلقین نہیں کیے، بلکہ آج بھی وہ متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی انجیلوں میں نہیں پائے جاتے۔ کفارے کا عقیدہ سینٹ پال نے ایجاد کیا، تاہم تثلیث اس کے یہاں بھی نہیں۔

یہ سب مسیحی متکلمین کی باتیں تھیں جو بعد کے دور میں وجود میں آئیں۔ مسیحیت جب شام سے باہر نکلی تو دوسری قوموں، خاص طور پر مصریوں اور یونانیوں کو مسیحی بنانے کی خاطر مسیحی علماء نے یہ کیا کہ اپنی تعلیمات کو ان کی مانوس زبان میں بیان کرنا شروع کیا، جس کو قرآن میں مضاحات (سورۃ توبہ، آیت 31) کہا گیا ہے۔ مسیحی بزرگوں کی یہ باتیں دھیرے دھیرے مقدس ہوتی چلی گئیں، یہاں تک کہ رومی شہنشاہ قسطنطین اول کے زمانے میں جب ان کو سیاسی حمایت بھی حاصل ہو گئی تو نیقیہ کونسل 325 کے ذریعے اس خود ساختہ مسیحیت کو انہوں نے حقیقی مسیحیت کی حیثیت سے بزور رائج کر دیا۔ گویا وہ چیز جس کو آج مسیحی عقائد کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت کسی زمانے کا مسیحی علمِ کلام تھا جو بالآخر مسیحیت کا جز، بلکہ اصل مسیحیت بن گیا۔

آج اسلام پر یہ سارے گرد و غبار اسی طرح پڑ چکے ہیں جس طرح وہ پچھلی امتوں کے دین پر پڑے تھے۔ اسلام کی تجدید کا کام سب سے پہلے ان آمیزشوں کو اس سے الگ کرنا ہے۔ خدا کے دین کو از سرِ نو زندہ کرنے کی کوئی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کو انسانی گرد و غبار سے پاک نہ کر دیا جائے۔ پیغمبر اسلام نے مختلف انداز سے اپنی امت کو واضح تنبیہ کر دی تھی کہ وہ اس فتنے سے بچیں۔

دنیا سے جاتے ہوئے آپ نے جو آخری نصیحت کی وہ یہ تھی: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنَ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِ مَا. کتاب اللہ و سنت رسولہ۔ (موطأ، امام مالک) میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان کو پکڑے رہو گے، گمراہ نہ ہو گے: خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔ مگر بعد کے دور میں، جیسا کہ خود پیغمبر اسلام نے پیشنگوئی فرما دی تھی، اس وراثتِ نبوی پر اضافے شروع ہو گئے، حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسلام کی فہرست میں بھی نہایت معصومانہ طور پر وہ ساری چیزیں شامل کر دی گئیں جنہوں نے دوسرے مذاہب کو بگاڑ ڈالا تھا۔

تاہم دونوں مثالوں میں ایک زبردست نوعی فرق ہے۔ دیگر مذاہب میں فقہ و تصوف یا علمِ کلام کے اضافے ان کے اصل آسمانی متن کا حصہ بن گئے، یہاں تک کہ اب یہ معلوم کرنا ہی ناممکن ہو گیا کہ ان کی کتاب مقدس کا کون سا جز وہ ہے جو خدا نے ان کے رسول پر اتارا تھا، اور کون سا وہ ہے جو بعد کے لوگوں نے اضافہ کر کے اس میں شامل کر دیا۔ اس کے برعکس اسلام، اس قسم کے اضافوں کا شکار ہونے کے باوجود اصل خدائی متن یعنی قرآن کو آج بھی مکمل طور پر محفوظ کیے ہوئے ہے، اور کسی بھی شخص کے لیے ممکن ہے وہ انسانی اضافوں کو الگ کر کے اصل خدائی دین کو دریافت کر سکے۔ جبیر بن نفیر نے عوف ابن مالک اشجعی کے واسطے سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔

آپ نے آسمان کی طرف نظر کی اور فرمایا: "وہ وقت آنے والا ہے جب کہ علم اٹھا لیا جائے گا۔ " انصار میں سے ایک شخص نے کہا، جس کا نام زیاد ابن لبیب تھا: "اے خدا کے رسول! کیا علم ہم سے اٹھا لیا جائے گا، حالانکہ ہمارے درمیان خدا کی کتاب ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں؟ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں تم کو مدینے کا سمجھدار آدمی جانتا تھا۔

یہود و نصاریٰ کیا تورات و انجیل نہیں پڑھتے، پھر بھی ان کی کتابوں پر ان کا عمل نہیں ہے۔ " جبیر بن نفیر کی ملاقات شداد ابن اوس سے ہوئی۔ انہوں نے ان کو یہ حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: "عوف نے سچ کہا۔

" پھر شداد نے کہا: "جانتے ہو علم کا اٹھ جانا کیا ہے؟ " انہوں نے کہا: "نہیں۔ " شداد نے کہا: "اس کے برتن کا چلا جانا۔ " ذہاب اویتہ۔

اس کے بعد شداد نے کہا: هل تدري أي العلم يرفع؟ قال: قلت لا أدري. قال: الخشوع حتى لا يرى خاشعًا. ابن عبدالبر، جامع بیان العلم وفضل، جز اول، صفحہ 153۔

کیا تم جانتے ہو کون سا علم اٹھا لیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: "نہیں۔ " فرمایا: "خشوع اٹھا لیا جائے گا، یہاں تک کہ کوئی خاشع دکھائی نہ دے گا۔ " جس گروہ کے پاس خدا کی کتاب ہو، اس پر جب دینی زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ دینداری کی صورتیں مٹ جاتی یا اس کا چرچا باقی نہیں رہتا۔

ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ان کا زوال دراصل یہ ہے کہ دین ان کے یہاں قصاوت کی سطح پر باقی ہو، خشوع کی سطح پر وہ ختم ہو جائے۔ (سورۃ حدید، آیت 16) خشوع والی دینداری قلب پر اتری ہوئی ہوتی ہے۔ خشوع والی دینداری قلب میں اتری ہوئی ہوتی ہے، جبکہ قصاوت والی دینداری صرف اعضاء و جوارح کو چھوتی ہے، وہ شعور کا حصہ نہیں ہوتی، وہ آدمی کے اندرونی وجود میں آگ نہیں لگاتی۔

حاملِ کتاب قوم میں یہ زوال اس وقت آتا ہے جب کہ خدا کے دین کو فن بنا دیا گیا ہو۔ فن نام ہے کسی حقیقت کو ناپ تول کی زبان میں متعین کرنے کا۔ اب چونکہ اندرونی حقیقت ناپ تول کی گرفت میں نہیں آتی، وہ صرف بعض ظاہری پہلوؤں کو بیان کر سکتی ہے۔ اس لیے جب کسی قوم کے اندر اس قسم کے فنون ترقی کرتے ہیں تو ظاہری بحثوں والے دین کے ماہرین تو ان کے یہاں خوب پیدا ہوتے ہیں، مگر ایسے لوگ ناپید ہو جاتے ہیں جو کیفیت والے دین سے آشنا ہوں۔

عبادت جو دل کی گھلاوٹ کا نام ہے، فقہی ناپ تول کے ایک ظاہری عمل کا نام رہ جاتی ہے۔ روحانیت جو خدا اور آخرت کی سطح پر جینے کا نام ہے، اس کے مقامات عملیاتی ورزشوں سے طے ہونے لگتے ہیں۔ دعوتِ دین جو دراصل بندوں کے ساتھ خیرخواہی کا اظہار ہے، وہ تقریر و تحریر، مناظرہ اور احتجاج، حتیٰ کہ ہڑبونگ اور توڑ پھوڑ کی صورت اختیار کر لیتی ہے وغیرہ۔ کتابِ الہی کا کوئی حامل گروہ جب قصاوت کی سطح پر آ جائے تو اس کو دوبارہ خشوع کی سطح پر لانے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ دین کو انسانی آمیزشوں سے پاک کیا جائے۔

حقیقی دینداری خدا و رسول کے بتائے ہوئے دین سے آ سکتی ہے، نہ کہ انسانوں کے وضع کیے ہوئے دین سے۔ تجدیدِ دین ایک لفظ میں دین کو انسانی اضافوں سے پاک کر کے اس کو ابتدائی ربانی صورت میں نمایاں کرنا ہے، تاکہ انسان براہ راست خدا سے مربوط ہو جائے، تاکہ خدا اور انسان کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ رہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.