امت مسلمہ کے اندر آج دین کے نام پر بے شمار سرگرمیاں پائی جاتی ہیں، مگر یہ سرگرمیاں تقریباً سب کے سب اتباعِ سبل یا فروعاتِ دین کے میدان میں جاری ہیں۔ آج سب سے بڑا تجدیدی کام یہ ہے کہ امت کو دوبارہ اثاثاتِ دین پر کھڑا کیا جائے۔ یہ بلاشبہ مشکل ترین کام ہے، مگر اس مشکل ترین کام کو انجام دینے کے سوا تجدید و احیا کی اور کوئی صورت نہیں۔ اس کام کے مشکل ہونے کا سبب یہ ہے کہ اس میں خود اپنی قوم کے خلاف اٹھنا پڑتا ہے۔
دوسری قوم کے خلاف اٹھنا آدمی کو لیڈر بناتا ہے، اور اپنی قوم کے خلاف اٹھنے والا شخص حاصل شدہ لیڈری کو بھی کھو دیتا ہے۔ دوسروں کو دشمن بتا کر ان کے خلاف تقریریں کرنے والا آدمی فوراً اپنی قوم کے اندر مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ مگر جو شخص یہ نشاندہی کرے کہ دشمن خود تمہارے اندر ہے، تمہارے باہر دشمن کا کوئی وجود نہیں، ایسا شخص اپنوں کے اندر بھی عزت و مقبولیت کھو دیتا ہے، اور باہر والوں کے اندر عزت و مقبولیت ملنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ تجدیدِ دین اور احیائے ملت کے کام کی ایک ہی لازمی قیمت ہے: اپنی قوم کے اندر غیر مقبول اور بے حیثیت ہو جانا۔
اس ضروری قیمت کو ادا کیے بغیر نہ پہلے کبھی تجدید کا کام ہوا ہے، اور نہ آج ہو سکتا ہے، اور نہ آئندہ کبھی ہوگا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.