قرآن میں کیوں حکم دیا گیا ہے کہ زور و تاکید کا سارا معاملہ اثاثاتِ دین کے ساتھ کیا جائے، نہ کہ فروعاتِ دین کے ساتھ؟ اس کا خاص سبب ہے۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ اثاث سے فراہ نکلتی ہے، مگر فراہ سے اثاث پیدا نہیں ہوتی۔
ایک شخص درخت کی کچھ پتیاں اور شاخیں لے آئے اور ان پر زراعتی محنت شروع کر دے، وہ ان کو پانی دے، ان میں کھاد ڈالے، ان کو زمین میں نصب کرے، تو یہ بے فائدہ کام ہوگا۔ اس کی تمام محنتوں کے باوجود پتیاں اور شاخیں سوکھتی رہیں گی، وہ شاداب درخت کی صورت اختیار نہیں کر سکتیں۔ لیکن جب آپ ایک بیج لے کر زمین میں بوئیں، تو اس کے بعد وہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک روز وہ سرسبز و شاداب درخت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ ہر قسم کی شاخوں اور پتیوں سے بھر جاتا ہے۔
یہی معاملہ دین کا ہے۔ اگر آپ فروعِ دین پر توجہ دیں تو ساری محنت کے باوجود کوئی حقیقی نتیجہ برآمد نہ ہوگا، حتیٰ کہ خود وہ فروع بھی برپا نہیں ہوں گے جن پر آپ اپنی قوت صرف کر رہے تھے۔ لیکن اگر آپ اثاثاتِ دین پر محنت کریں تو اس کے بعد دین کا اثاثی پہلو بھی مستحکم ہوگا، اور اسی کے ساتھ دین کی تمام شاخیں بھی اپنے آپ ظاہر ہوتی چلی جائیں گی۔ اتباعِ صراط کی روش اختیار کرنے سے صراط بھی حاصل ہوتی ہے اور سبل بھی۔
مگر اتباعِ سبل کی روش اختیار کی جائے تو آدمی صراط کو بھی کھو دیتا ہے، اور اسی کے ساتھ سبل کو بھی۔ وہ درخت سے بھی محروم رہتا ہے اور درخت کی شاخوں اور پتیوں سے بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.