← Tajdeed-e-DeenTajdeed-e-Deen
اتباعِ صراط اتباعِ سبل
Urdu · 9 min
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ الدین کی اقامت کرو، اس میں تفرق کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ الشوریٰ 13۔ دوسری جگہ یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَٰلِكُمْ وَصَّوَاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ الانعام 154۔
اور اللہ نے حکم دیا ہے کہ یہ میری سیدھی شاہراہ ہے، پس اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گی۔ یہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچتے رہو۔ دین کے معاملے کو یہاں راستے کی مثال سے واضح کیا گیا ہے: سفر کرنے کے لیے ایک سیدھی اور چوڑی سڑک ہوتی ہے، دوسری طرف اس سڑک کے اردگرد پگڈنڈیاں ہوتی ہیں۔ جو آدمی سیدھی اور چوڑی سڑک پر اپنا سفر طے کرے، وہ بھٹکے بغیر اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔
اس کے برعکس جو آدمی اطراف کی پگڈنڈیوں پر چلے، اس کے متعلق سخت اندیشہ ہے کہ وہ ادھر ادھر بھٹک جائے گا، وہ اپنی مطلوبہ منزل پر نہیں پہنچے گا۔ اسی طرح دین میں کچھ بنیادی اصول ہیں، وہ متفق علیہ ہیں، ان میں کوئی شبہ یا اختلاف نہیں۔ اسی کے ساتھ کچھ جزئی اور فروعی امور ہیں، یہ دوسرے قسم کے امور قیاس اور استنباط کے ذریعے نکالے جاتے ہیں، اور ان میں ہمیشہ ایک سے زیادہ رائے ہوتی ہے۔ اختلاف ہمیشہ انہی دوسرے قسم کے امور میں پیدا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اہلِ اسلام سب سے زیادہ دھیان اثاثی امور پر دیں جن کو الدین کہا گیا ہے، اور جو گویا دین کی شاہراہ ہیں، وہ جزئی اور فروعی امور کو ہرگز اپنی اصل توجہ کا مرکز نہ بنائیں۔ تمام زور اور تاکید اتفاقی باتوں پر ہو، نہ کہ اختلافی باتوں پر۔ اول الذکر کا نام اتباعِ صراط ہے، اور ثانی الذکر کا نام اتباعِ سبل۔ اتباعِ سبل عین وہی چیز ہے جس کو انتقالِ تاکید یعنی shift of emphasis کہا جاتا ہے، یعنی جس چیز پر حقیقتاً زور دینا چاہیے، اس کو چھوڑ کر کسی اور چیز پر زور دینے لگنا۔
جس چیز کو اصلًا قابلِ توجہ بنانا چاہیے، اس سے ہٹ کر کسی اور چیز کو قابلِ توجہ بنا لینا۔ مثلاً ایمان میں اصل اہمیت کی چیز معرفتِ رب ہے، مگر معرفت کو چھوڑ کر کلمے کے صحتِ تلفظ پر زور دینے لگنا۔ ذکر میں یادِ خداوندی کے بجائے تکرارِ الفاظ کی بحث کرنا۔ نماز میں خشوع کے بجائے ظاہری آداب پر ساری گفتگو مرتکز کر دینا۔
دینی اعمال کو کیفیت کے بجائے کمیت کے اعتبار سے جانچنا۔ عقیدۂ خدا کے معاملے میں تعلق باللہ کے بجائے کلامی موشگافیاں پیدا کرنا۔ رسالت کے باب میں اتباعِ رسول کے بجائے عشقِ رسول کی دھوم مچانا۔ حقیقی برائی کی اصلاح میں محنت کرنے کے بجائے کچھ شخصیتوں کو برا قرار دے کر ان کے خلاف جھنڈا اٹھانا وغیرہ۔
یہ اور اس طرح کی دوسری تمام چیزیں نامطلوب انتقالِ تاکید یعنی shift of emphasis کے حکم میں داخل ہیں۔ پچھلی امتیں اسی قسم کی غیر متعلق بحثوں اور سرگرمیوں میں مبتلا ہو کر صراطِ مستقیم سے بھٹک گئیں۔ یہی اندیشہ دوبارہ امت مسلمہ کے لیے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کو قرآن و حدیث میں بار بار آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ اس گمراہی میں پڑنے سے بچیں۔
وہ دین کی اصل شاہراہ کو چھوڑ کر اس کے متفرق اور ضمنی پہلوؤں میں نہ کھو جائے، ورنہ وہ بھی اسی طرح گمراہی کا شکار ہو جائے گی جس طرح پچھلی امتیں گمراہی کا شکار ہوئیں اور آخر کار خدا کی رحمت سے دور ہو گئیں۔ انتقالِ تاکید سے کیا خرابی پیدا ہوتی ہے؟ اس کو ایک عام مثال کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے: دو آدمی مل کر ایک دکان کھولیں، اب ایک شکل یہ ہے کہ وہ اپنی ساری توجہ دکان کے تجارتی پہلوؤں پر لگائیں۔ دکان کو وقت پر کھولنا، سامان کی صحیح انداز سے خریداری، گاہکوں کو مطمئن کرنے کی کوششیں، متعلق شعبوں سے روابط قائم کرنا، حساب کتاب کو درست کرنا وغیرہ۔
ان امور پر توجہ دینا دکانداری کے اثاثی پہلوؤں پر توجہ دینا ہے۔ اور جو لوگ ان پہلوؤں پر توجہ دیں، وہ ضرور اپنی تجارت میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں آدمی ان باتوں پر لامتناہی بحثیں کریں کہ دکان کی دیواروں پر پرنٹنگ کس رنگ کی ہو، سائن بورڈ کتنا بڑا ہو، کون سا فرنیچر وہاں رکھا جائے، فرش کی جگہ قالین ہو یا سنگ مرمر۔ یہ تمام جزئی اور فروعی باتیں ہیں۔
جو لوگ اس طرح کی باتوں پر بحث و تکرار کرنے لگیں، وہ کبھی کامیاب تاجر نہیں بن سکتے۔ تجارت اور دکانداری کے معاملے میں کوئی ایسی نادانی نہیں کرے گا، مگر دین کے معاملے میں آج تمام لوگ اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہیں۔ وہ اثاثی امور کو چھوڑ کر جزئی امور کی دھوم مچا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار ہنگاموں کے باوجود موجودہ زمانے میں اب تک دین کا احیا نہ ہو سکا۔
موجودہ زمانے میں مسلمان عام طور پر اس حکم قرآنی سے دور ہو گئے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے دینی مدرسوں میں جب نماز کا باب پڑھا جاتا ہے تو نماز کے خشوع و خضوع پر کوئی خاص کلام نہیں کیا جاتا۔ البتہ نماز کے فقہی مسائل پر پورے تعلیمی سال کے دوران بحثیں جاری رہتی ہیں۔ مسلمانوں کے اجتماعات ہوتے ہیں تو ان میں مسلمانوں کی داخلی کمزوریوں پر انہیں متنبہ نہیں کیا جاتا۔
البتہ دوسری قوموں کے ظلم اور سازش کا انکشاف کر کے ان پر دھواں دار تقریریں ہوتی ہیں۔ مسلم ملکوں میں اصلاحِ فرد اور اصلاحِ معاشرے کو کوئی حقیقت مسلم ملکوں میں اصلاحِ فرد اور اصلاحِ معاشرے کی کوئی حقیقی مہم جاری نہیں کی جاتی۔ البتہ انقلابِ حکومت کے نام پر ہر چھوٹا بڑا لیڈر سیاسی مجاہد بنا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ تمام صورتیں راستے سے بھٹکنے کی صورتیں ہیں۔
یہ اتباعِ صراط کو چھوڑ کر اتباعِ سبل کے طریقے پر دوڑنا ہے۔ اور جو لوگ ایسا کریں، ان کے لیے خدا کی کتاب کا فیصلہ ہے کہ وہ ہمیشہ غیر متعلق راہوں میں بھٹکتے رہیں گے، وہ کبھی منزلِ مقصود تک نہیں پہنچیں گے۔ ایک شخص خالص ذہن ہو کر قرآن کو پڑھے اور یہ دیکھے کہ وہ اسلام کیا ہے جس کو قرآن میں پیش کیا گیا ہے، دوسری طرف وہ اس اسلام کا مشاہدہ کرے جو موجودہ مسلمانوں میں رائج ہے، تو وہ دونوں کے درمیان زبردست فرق پائے گا۔ حتیٰ کہ وہ یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان عین اسی بگاڑ میں مبتلا ہو چکے ہیں جس کی نشاندہی قرآن کی مذکورہ آیت میں کی گئی تھی۔
قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ آج کے مسلمان اتباعِ صراط پر قائم نہیں، وہ اتباعِ سبل میں مبتلا ہیں۔ قرآن میں جو دین ہے اس میں سارا زور حقیقت پر دیا گیا ہے، جبکہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے یہاں سارا زور مظاہر پر دیا جانے لگا ہے۔ قرآن میں عبادت کی بنیاد خشوع پر ہے، اور مسلمانوں کے یہاں عبادت کی بنیاد مسائل پر۔ قرآن کے مطابق رسول پر ایمان کا معیار اتباعِ رسول ہے، اور مسلمانوں کے یہاں رسول پر ایمان کا معیار عشقِ رسول۔
قرآن کے مطابق اسلام تواضع کا عنوان ہے، اور مسلمانوں کے نزدیک اسلام فخر کا عنوان۔ قرآن کے نزدیک دعوت نجاتِ انسانی کی ناصحانہ جدوجہد ہے، اور مسلمانوں کے نزدیک دعوت قومی جھگڑوں کے لیے مارہ کارائی۔ قرآن کے نزدیک آخرت کی کامیابی کا انحصار عملِ صالح پر ہے، اور مسلمانوں کے نزدیک آخرت کی کامیابی کا انحصار کلمہ گوئی پر۔ قرآن کے نزدیک اسلامی تحریک فرد کی اصلاح کا نام ہے، اور مسلمانوں کے نزدیک اسلامی تحریک حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کرنے کا۔
قرآن کا دین آخرت رخی یعنی آخرت اورینٹڈ ہے، اور مسلمانوں کا دین سیاست رخی یعنی پولیٹکس اورینٹڈ۔ اس طرح کے بے شمار فرق ہیں جو قرآن کے بتائے ہوئے دین میں اور مسلمانوں کے مروجہ دین میں پیدا ہو گئے ہیں۔ قرآن اتباعِ صراط کی تاکید کرتا ہے، اور موجودہ مسلمان اتباعِ سبل میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی حد تک تشویش ناک ہے۔
مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی اس روش کو بدلیں۔ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو یقینی طور پر وہ خدا کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔ اور جو لوگ خدا کی رحمت سے دور ہو جائیں، ان کے لیے خدا کی دنیا میں بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔