تجدید و احیائے دین کو بعض لوگوں نے اقامت نظام اور سیاسی انقلاب کے ہم معنی قرار دیا ہے؛ یہ تعبیر لغویت کی حد تک غلط ہے۔ تجدید سے مراد روحِ اسلامی کو از سرِ نو زندہ کرنا ہے، نہ کہ کسی قسم کا سیاسی انقلاب برپا کرنا۔ یہاں مختصر طور پر بعض تجدیدی کاموں کی تفصیل درج کی جاتی ہے جو کہ موجودہ زمانے کے لحاظ سے مطلوب ہے۔ نمبر 1: موجودہ زمانے میں تلفظِ کلمے کو "ایمان" سمجھا جانے لگا ہے؛ اب ضرورت ہے کہ اس حقیقت کو لوگوں کے سامنے اچھی طرح واضح کیا جائے کہ معرفتِ کلمے کا نام ایمان ہے، نہ کہ مجرد تلفظِ کلمے کا۔
نمبر 2: موجودہ زمانے میں قرآن کو کتابِ تلاوت بنا دیا گیا ہے؛ موجودہ زمانے میں قرآن کو کتابِ تلاوت بنا دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں تجدیدی کام یہ ہے کہ قرآن کو دوبارہ لوگوں کے لیے نصیحت اور تدبر کی کتاب بنانے کی کوشش کی جائے۔ نمبر 3: موجودہ دینی مدارس میں حدیث کو عملاً فقہ کے تابع کر دیا گیا ہے؛ اب ضرورت ہے کہ حدیث کو خود ایک مستقل علم کی حیثیت سے پڑھانے کا رواج ڈالا جائے۔ نمبر 4: موجودہ زمانے میں عبادت کو مسائل پر مبنی قرار دے دیا گیا ہے؛ ضرورت ہے کہ دوبارہ صحیح تصورِ عبادت کو نمایاں کیا جائے، جس میں عبادت کو خشوع پر مبنی قرار دیا گیا ہو۔
نمبر 5: موجودہ زمانے میں کچھ ایسی تحریکیں اٹھی ہیں جنہوں نے اسلام کی اس طرح تعبیر کی، گویا اسلام کا نشانہ اجتماعی نظام ہے۔ اس تعبیری غلطی کو واضح کرتے ہوئے یہ بتانا کہ اسلام کا اصل نشانہ فرد کے اندر تبدیلی لانا ہے، نہ کہ اجتماعی نظام بدلنے کے نام پر سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کرنا۔ نمبر 6: موجودہ زمانے کے مسلمان اپنی داعیانہ ذمہ داری کو بھول چکے ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے دوسرے دوسرے کاموں کو دعوت کا عنوان دے رکھا ہے۔ اس صورتحال کو ختم کرنا اور دعوت و شہادت کے کام کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کرنا۔
نمبر 7: رسول کے معاملے میں مسلمانوں کو اتباعِ رسول کا حکم دیا گیا ہے، مگر اس کو انہوں نے عشقِ رسول کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ اس مبتدیانہ عقیدۂ رسالت کو ختم کرنا اور صحیح قرآنی عقیدے کو زندہ کرنا۔ نمبر 8: موجودہ مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانے پر خدا پرستی کے نام پر اکابر پرستی رائج ہو گئی ہے؛ اس گمراہی کو ختم کر کے مسلمانوں کو سچی خدا پرستی پر قائم کرنا۔ نمبر 9: سیرت اور اسلامی تاریخ کی موجودہ کتابوں میں جنگوں کو سب سے زیادہ نمایاں کیا گیا ہے؛ اس کے بجائے سیرت اور تاریخ پر ایسی کتابیں تیار کرنا جن میں دعوت کو نمایاں حیثیت سے بیان کیا گیا ہو۔
نمبر 10: موجودہ زمانے میں ایک روایتی مذہبی ڈھانچہ بن گیا ہے؛ مسلمان اسی کو دین سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کو اس خود ساختہ ڈھانچے سے نکالنا اور ان کو خدا و رسول والے اصل دین سے وابستہ کرنا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.