← Tajdeed-e-DeenTajdeed-e-Deen
کارِ تجدید
Urdu · 14 min
تجدید یا جدتہ کے معنی ہیں نیا کرنا، یعنی to renew۔ کسی چیز پر بات کو پیش آنے والے بگاڑ کو ختم کر کے اس کو اپنی پہلی صورت پر لے آنا۔ یہ تجدید بااعتبارِ تبیین، یعنی فکری وضاحت، مراد ہے، نہ کہ بااعتبارِ تنفیض، یعنی عملی اقامت۔ چنانچہ اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں جو روایتیں آئی ہیں، ان میں بعض روایات میں "تجدید" کا لفظ ہے اور بعض روایات میں "تبیین" کا لفظ۔
تجدید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین میں کوئی نئی چیز نکالی جائے۔ موجودہ زمانے میں کچھ لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام کو ماڈرنائز کرنے کی کوشش کی، مثلاً انہوں نے کہا کہ اسلام میں عقیدہ ابدی ہے اور قانون، یعنی شریعت، زمانی۔ ایک طبقے نے ایسے لوگوں کو "مجدد" کہنا شروع کیا، مگر یہ بالکل لغو بات ہے۔ یہ لوگ مجدد نہیں بلکہ متجدد تھے، اور متجدد کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
اسی طرح کچھ لوگوں نے دیکھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان سیاسی مغلوبیت یا معاشی انحطاط میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے قوم کو سیاسی اور معاشی اعتبار سے اٹھانے کی کوشش کی۔ ایسے لوگوں کو بھی مجدد کہا جانے لگا، مگر اس قسم کے ایک کام کو قومی خدمت تو کہا جا سکتا ہے، مگر اس کو تجدید کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح کچھ مفکرین نے اسلام کو عالمگیر سیاسی نظام کے طور پر پیش کرنا شروع کیا۔
اس مقصد کے لیے وہ حکمرانوں سے ٹکرا گئے۔ انہوں نے مختلف ملکوں میں اپوزیشن کی سیاست جاری کر دی، اور اسلام کے نام پر دنیا میں ریاستی اور تمدنی انقلاب کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔ ایسے لوگوں کو بھی کچھ لوگ مجدد کے لفظ سے پکارتے ہیں، مگر یہ بھی سراسر غلط ہے۔ اس قسم کی نظریہ سازی یا سیاسی اکھیڑ پچھاڑ بھی وہ چیز نہیں جس کو حدیث میں تجدید کہا گیا ہے۔
حدیث میں جس تجدیدی عمل کا ذکر ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ دین کی تعلیمات کو از سر نو اس کی اصل صورت میں واضح کرنا۔ دین کو انسانی ملاوٹوں سے پاک کر کے اس کو اس ابتدائی صورت میں سامنے لے آنا، جیسا کہ پیغمبر نے اس کو اپنے زمانے میں پیش کیا تھا۔ قرآن میں ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر یاد دہانی اتاری ہے تاکہ تم لوگوں پر اس چیز کو واضح کر دو جو ان کی طرف اتاری گئی تھی۔ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ سورہ النحل، آیت 44۔
ذکرِ منزل کی اسی تبیینِ نو کا نام تجدید ہے۔ یہاں تجدید سے متعلق کچھ حدیثیں نقل کی جاتی ہیں۔ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِئَةِ سَنَةٍ مَن يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا اللہ اس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پر کسی کو بھیجے گا جو اس کے دین کی تجدید کرے گا۔ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِئَةِ سَنَةٍ مَن يُجَدِّدُ لَهَا أَمْرَ دِينِهَا اللہ اس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پر کسی کو بھیجے گا جو اس کے معاملے کی تجدید کرے گا۔
إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِئَةِ سَنَةٍ مَن يُجَدِّدُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ أَمْرَ دِينِهَا اللہ ہر سو سال کے سرے پر کسی کو بھیجے گا جو اس امت کے دینی معاملے کی تجدید کرے گا۔ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِئَةِ سَنَةٍ رَجُلًا يُقِيمُ لَهَا أَمْرَ دِينِهَا اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پر ایک شخص کو بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دینی معاملے کو درست کرے گا۔ إِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى أَهْلِ دِينِهِ فِي رَأْسِ كُلِّ مِئَةِ سَنَةٍ بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيُبَيِّنُ لَهُمْ أَمْرَ دِينِهِمْ اللہ ہر سو سال کے سرے پر اپنے دین کے لوگوں پر میرے اہل بیت کے ایک آدمی کے ذریعے احسان کرے گا۔ وہ ان کے لیے ان کے دین کے معاملے کو بیان کرے گا۔
دعوت الحق، الرباط، ربیع الاول، 1405 ہجری۔ تجدید دین کی روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ جس طرح حدیث کی کتابوں میں آئی ہے، اس کو ہم نے اوپر نقل کر دیا ہے۔ ان کو ملا کر دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تجدید دراصل تبیین کے ہم معنی ہے۔ تجدید دین سے مراد ہے دین کو خالص صورت میں بیان کر دینا۔
چونکہ اس دین کو قیامت تک کے لیے باقی رہنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام فرمایا کہ ہر صدی میں کم از کم ایک ایسا شخص پیدا ہوتا رہے جو لوگوں کے سامنے دین کو اس کی صحیح اور بےعام صورت میں بیان کر دے۔ وہ حق کو ناحق سے جدا کر دے تاکہ جس کو پانے کی طلب ہے وہ پا لے، اور جس کو پانے کی طلب نہیں ہے اس کا غیر طالب ہونا ثابت ہو جائے۔ دین کا نام کبھی دنیا سے ختم نہیں ہوتا۔ جو چیز دنیا سے ختم ہوتی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی سنت ہے۔
ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِئَةِ شَهِيدٍ الحدیث۔ میری امت میں بگاڑ کے وقت جس نے میری سنت کو پکڑا، اس کے لیے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔ اسلام کی راہ میں لڑ کر اپنی جان دے دینا ایک ایسا عمل ہے جس کا اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑا انعام ہے۔ مگر بگاڑ کے زمانے میں اپنے آپ کو سچے دین پر قائم کرنے کا اجر اس سے سو گنا زیادہ بتایا گیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اول الذکر اپنے آپ کو ایک دن قربان کرتا ہے، جبکہ ثانی الذکر کو ہر روز اپنے آپ کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ امت کے اندر جب بگاڑ آتا ہے تو اس وقت یہ حال ہو جاتا ہے کہ ایک بگڑے ہوئے مذہب کا نام دین بن جاتا ہے۔ سارے دینی ادارے، تمام دینی اعزازات اسی بگڑے ہوئے مذہب سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ دین کے تمام شعبوں میں ایسے لوگ قبضہ پا لیتے ہیں جو دین کو تجارت بنا چکے ہوتے ہیں۔
خواص اپنے مصالحے کی بنا پر اور عوام اپنی جہالت کی بنا پر اسی بگڑے ہوئے دین کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب کوئی بندہ خدا کے سچے اور بےعامس دین کو لے کر اٹھتا ہے تو سارے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اس شخص کا دین ان کے اپنے دین کو بے اعتبار بنا رہا ہے۔ وہ فوراً اس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رسول خدا والے طریقے کو پکڑنے والا آدمی خود اپنے معاشرے میں بے جگہ ہو جاتا ہے۔
وہ سب کے درمیان ایک غیر مطلوب شخص بن جاتا ہے۔ بگاڑ کے زمانے میں یہ ہوتا ہے کہ وقتی اور رسمی عملیات کو لوگ جنت کا ٹکٹ سمجھ لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں سنت رسول کو پکڑنے والا آدمی حقیقی اعمال پر جنت کا مدار رکھتا ہے۔ لوگ مذہبی مناظرے اور سیاسی مجادلے کے مشغلوں کو دینی کارنامے سمجھنے لگتے ہیں۔
وہ بتاتا ہے کہ صبر اور قربانی کے طریقوں کو اختیار کرنے کا نام دین ہے۔ لوگ اپنے دنیاوی ہنگاموں کو دین کا عنوان دیے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ آخرت کے لیے جینے اور مرنے کا نام دین ہے۔ لوگ احبار و رہبان کے دین کو پکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
وہ کہتا ہے کہ دین وہ ہے جو خدا اور رسول سے ملا ہو۔ لوگ اپنے بزرگوں کے ارشادات و ملفوظات سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ قرآن و سنت والے دین کو اپنا دین بناؤ۔ لوگ قصے کہانیوں کے ذریعے اپنا ایک دینی ایڈیشن تیار کر کے اس کی تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں۔
وہ کہتا ہے کہ اس کے بجائے محکم آیات اور ثابت شدہ سنت رسول پر اپنے دین کی بنیاد رکھو۔ لوگ اپنے طور پر مختلف قسم کی مذہبی مشگافیاں ایجاد کرتے ہیں اور اس کو دین کا قائم مقام بنا لیتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اس صاف اور سیدھے دین کو اختیار کرو جو خدا اور رسول نے بتایا ہے اور جو اصحاب رسول کے ذریعے ہم کو پہنچا ہے۔ جو شخص اس قسم کا دین بگڑے ہوئے زمانے میں لے کر اٹھے، وہ لوگوں کی نظر میں کافر و مشرک سے بھی زیادہ مبغوض ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ان کی دینی حیثیت کو بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔
اس سے ان کو اپنی قیادت پر ضرب پڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس سے ان کے معاشی مفادات درہم برہم ہوتے ہیں۔ اس سے ان کی گدیاں چھنتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس کو ماننا اپنے آپ کو جمے ہوئے مفادات سے محروم کرنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔
ایسا شخص ایک طرف عوام کی عافیت کوشش زندگی کے لیے تازیانہ بن جاتا ہے اور دوسری طرف خواص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کے شہسوار اسلام ہونے کو مشتبہ بنا رہا ہے۔ یہ چیزیں اس شخص کو اتنی بے شمار قسم کی مخالفتوں اور مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ اس کے مقابلے میں ایک دن میدان جنگ میں لڑ کر مر جانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ ان مخالفتوں میں سب سے زیادہ شدید مخالفت ان قائدین کی طرف سے سامنے آتی ہے جو دین کے نام پر دنیاوی فائدے حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت کا راز صحیح دین کا علمبردار بننا نہیں ہوتا۔
وہ یہ کرتے ہیں کہ بگاڑ کے زمانے میں پائی جانے والی دینی دینی شکلوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ وہ یہ کرتے ہیں کہ بگاڑ کے زمانے میں پائی جانے والی دینی شکلوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی کسی ادارے کی گدی پر بیٹھ جاتا ہے۔ کوئی دینی جشنوں اور تقریبوں میں خطابت کا جوہر دکھا کر مرجع خلائق بن جاتا ہے۔
کوئی دین کو رائج الوقت پیمانوں میں ڈھال کر لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ کوئی گزری ہوئی مقدس شخصیتوں کا سہارا لے کر ان کے نام پر اپنا کاروبار چلا رہا ہوتا ہے۔ کوئی دین کے ایسے سستے نسخوں کی کامیاب تجارت کر رہا ہوتا ہے جس میں لوگوں کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلے بغیر جنت کی بشارتیں مل رہی ہوں۔ صحیح دینی دعوت کا اٹھنا اس قسم کے تمام لوگوں کے لیے چیلنج بن جاتا ہے۔
اس کے فروغ میں اس کو اپنا عزت و اقتدار مٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک عرصے تک عزت و استقبال کے جلو میں رہنے کے نتیجے میں اس ان کے اندر ایک قسم کا دینی کبر پیدا ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک عرصے تک عزت و استقبال کے جلو میں رہنے کے نتیجے میں ان کے اندر ایک قسم کا دینی کبر پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو اور دین کو ہم معنی سمجھ لیتے ہیں۔
فطری طور پر وہ ایک ایسے شخص کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ان کی امتیازی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کرے۔ اعظم و اکابر کی یہ مخالفت سچے دین کے علمبردار کے لیے انتہائی شدید مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ وقت کے دینی حلقوں کی طرف سے اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ اس کی بے دینی کے فتوے دیے جاتے ہیں۔
اس کی معاشیات کو برباد کیا جاتا ہے۔ اس کو ماحول میں بے جگہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف ہر قسم کی معاندانہ کارروائیوں کو جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ اکابر قوم کی مخالفت سے اصاغر قوم کو مزید جرات ہوتی ہے۔
بالاخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اپنی قوم کے اندر رہنا اس کے لیے انگاروں کے درمیان رہنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ان حالات میں فساد امت کے وقت سنت رسول کو زندہ کرنے کے لیے اٹھنا اتنی بے پناہ مشکلات کا سبب بن جاتا ہے جو سو بار قتل ہونے کے برابر ہے۔ اسی بنا پر آپ نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لیے اللہ کے یہاں سو شہیدوں کا اجر ہے۔ جس طرح خدا کی کوئی حد نہیں، اسی طرح خدا کے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کی بھی کوئی حد نہیں۔
خدا کا دین گویا دنیا میں رزق الہی کا ایک عظیم دسترخوان ہے۔ اس رزق کا سب سے بڑا حصہ اسی کو ملتا ہے جو اس راہ میں اپنے کو ملیامیٹ کرنے کے لیے تیار ہو۔ یہ عزت و شہرت کا اسٹیج نہیں، بربادی کے مقامات ہیں۔ ان مقامات کو طے کرنا بلاشبہ سولی پر چڑھنے سے زیادہ سخت ہے۔
مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آدمی دین کو اس کی اعلیٰ سطح پر اس وقت تک پا نہیں سکتا جب تک وہ قربانیوں کی قیمت پر دین کو حاصل کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ وَمَا يُلَقَىٰهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَىٰهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ سورہ حام سجدہ آیت 35 کتاب تجدید دین مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر پانچ.