Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

خاموشی کی طاقت

Urdu · 5 min

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک بہت با معنی قول ہے۔ آپ نے فرمایا کہ باطل کو مارو اس کی طرف سے چپ رہ کر(امیتوا الباطل بالصمت عنہ حلیۃ الاولیا، جلد1، صفحہ 55)۔

other sourceWords of another person or source

یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات شر اورباطل کے بارے میںخاموش رہ جانا اور اس کے خلاف کو ئی جوابی کاروائی نہ کرنا ہی اس کو ختم کرنے کے لیے کافی ہو تا ہے۔

اس صمت عن الباطل (باطل کے بارے میں خاموشی)کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کچھ لوگ محض ذاتی بغض کی بنا پر آپ کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلاتے ہیں اور بیہودہ مضامین شائع کرتے ہیں۔ایسے موقع پر اگر آپ ان کا جواب دیں تو آپ صرف اپنا وقت ضائع کریں گے۔ ایسی باتوں کا بہترین جواب یہ ہے کہ ان کا جواب نہ دیا جائے۔ قدیم مثل ہے کہ ’’ کتّے بھونکتے رہتے ہیں، ہاتھی چلتا رہتا ہے‘‘۔آپ ’’ہاتھی‘‘ والا کردار ادا کیجیے، شر پسندوں کے چھیڑے ہو ئے فتنے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔

ایک شخص آپ کے اوپر کیچڑ پھینکتا ہے۔ آپ کے گھر میں گندگی ڈال دیتا ہے۔ اب اگر آپ مشتعل ہوکر اس سے لڑنے لگیں تو آپ نے اس کے مقصد کو پورا کیا۔ آپ کی اشتعال انگیز کاروائی اس کو مزید موقع دے گی۔ وہ اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے آپ کے خلاف مکمل فساد برپا کردے گا۔ لیکن اگر آپ اس کی اشتعال انگیزی پر مشتعل نہ ہوں تو گویا آپ نے اس کے بم کو ناکارہ کردیا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وہی بات ایک اور انداز سے فرمائی ہے کہ جس کو قرآن میں اعراض کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اعراض کا مطلب ہے اوائڈ کرنا، نظر انداز کرنا۔ اعراض محض ایک سلبی فعل نہیں وہ ایک ایجابی کاروائی ہے۔ وہ خود ایک طاقت ور عمل ہے۔ وہ ناطق جواب کے مقابلہ میں خاموش جواب ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ چپ کی طاقت بول کی طاقت سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں نظر انداز کرنا کسی شر کو دفع کرنے کی سب سے زیادہ موثر تدبیر ہوتی ہے ۔ جہاں سب سے بڑی کار روائی یہ ہوتی ہے کہ سرے سے کوئی کار روائی ہی نہ کی جائے۔

فرض کیجیے کہ ایک شخص آپ کے خلاف ایک بے ہودہ جھوٹ گھڑتا ہے اور اس کو کتاب کی صورت میں چھاپ کر بازار میں لے آتا ہے۔ اب آپ کی کامیابی کس چیز میں ہوگی۔ آپ کی کامیابی اس میں ہو گی کہ یہ کتاب لوگوں کے درمیان غیر مقبول ہو کر رہ جائے۔ کوئی اس کو حاصل کرکے پڑھنے کی ضرورت نہ سمجھے۔

یہ مقصد سب سے زیادہ خاموشی کے ذریعہ حاصل ہو تا ہے۔ اگر آپ اس کتاب کے خلاف شور وغل کریں تو اس کا اشتہار ہو گا۔ لوگ غیر ضروری طور پر اس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ اس کی طرف سے خاموشی اختیار کر لیں تو اس کو شہرت حاصل نہ ہو سکے گی۔ اس کی کتاب اپنے آپ مر جائے گی۔

یہ زندگی کی ایسی حقیقت ہے جس کا بار بار تجربہ کیا گیا ہے اور تاریخ میں اس کو باربارریکارڈ کیا گیا ہے۔ مثلاً انگریزی کے ایک مصنف نے اس حقیقت کو ان لفظوں میں بیان کیا— افتراپردازی ہمیشہ مخالفت سے ترقی کرتی ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

"Scandal ever improves by the opposition."

کوئی شخص آپ کے خلاف جھوٹی تہمت لگائے تو اس کے بارے میںخاموشی اختیار کر لیجیے۔ اس کے خلاف بول کر آپ اس کو پھیلائیں گے۔ اس کے بارے میںچپ رہ کر آپ عین اسی مقام پر اس کا خاتمہ کردیں گے جہاں وہ ابتداء ً گھڑی گئی تھی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content