Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

اصل کام

Urdu · 15 min

سلمان رشدی کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے— آدھی رات کے بچّے 

"Midnight's Children"

اس کتاب میں سلمان رشدی نے اپنے بارے میں کہا ہے کہ میں عقیدہ اور بےعقیدگی کے درمیان جھول رہا ہوں

other sourceWords of another person or source

"I am hanging between belief and disbelief."

رشدی کا یہ کہنا کہ میں مذہب کے معاملے میں یقین اور بے یقینی کے درمیان لٹکا ہوا ہوں۔ یہ صر ف ایک شخص کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک پوری نسل کا معاملہ ہے۔ سلمان رشدی نے جو بات اپنے بارے میں کہی ہے یہی کروروں مسلمانوں کی بات ہے۔ مسلمانوں کی نئی نسل جس کی تعلیم جدید ماحول میں ہو ئی ہے اس کا کم از کم 75فیصد حصہ اسی قسم کی بے یقینی میں مبتلا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان میں سے کسی شخص نے رشدی والا قلمی پیشہ اختیار کیا اور وقتی فائدے کی خاطر اپنے دل کی گندگی کو کاغذ پر اُنڈیلنے لگا۔ اس کے بر عکس، دوسرے لوگ کسی اور میدان میں کھانے کمانے میں مشغول ہیں۔ چنانچہ انہیں رشدی جیسی گندی کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں۔

دسمبر1988ء میں جب کہ میں امریکا میں تھا، مجھے وہاں کے ایک اسلامی مر کز میں لے جایا گیا۔ یہ مرکز جس خطہ میں واقع ہے وہاں تقریباً ایک لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ میں نے منتظمین سے پو چھا کہ اس علاقہ کے ایک لاکھ مسلمانوں میں سے کتنے لوگ ہیں جو اسلامی مرکز سے جڑے ہو ئے ہوں۔ ایک ذمہ دار نے جواب دیا کہ دس فیصد مسلمان ہے۔ حاضرین میں سے دوسرا شخص بولا کہ آپ مبالغہ کر رہے ہیں، بمشکل 5فیصد تعداد ہو گی جو اس مرکز سے جڑی ہو ئی ہو۔

مجھے بتایا گیا کہ جو مسلمان امریکا میں آباد ہیں ان کی نئی نسلوں کی بیشتر تعداد اسلام سے بالکل ناواقف ہو چکی ہے۔ ان کو نماز، روزے سے کوئی مطلب نہیں ، جنس اور شراب اور غذا کے معاملہ میں ان کے طریقے وہی ہیں جو دوسرے آزاد خیال امریکیوں کے ہیں۔ وہ بس برائے نام مسلمان ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کوئی انکشاف کی بات نہیں ۔ ہر وہ شخص جو مسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل سے واقف ہے، وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’ رشدی ‘‘ ہمارے درمیان ایک نہیں، بلکہ کروروں کی تعداد میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی’’رشدیت‘‘ظاہر ہو چکی ہے اور کسی کی اب تک چھپی ہوئی ہے۔

مسلم نسل کی یہ صورتِ حال موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کے لیے ایک زبردست چیلنج ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کی ترقی یافتہ زبانوں میں اعلیٰ معیار کا اسلامی لٹریچر تیار کر کے شائع کیا جائے تا کہ ’’ارتداد ذہنی‘‘ میں مبتلا ہو نے والے ان بے شمار مسلمانوں کی بے یقینی کو دوبارہ یقین میں تبدیل کیا جاسکے۔ ان کو بے عقیدگی کے دلدل سے نکال کر دوبارہ عقیدہ کی صالح زمین پر کھڑا کیا جائے۔

مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں سے کو ئی ایک شخص بھی نہیں جو اس کام کو موثر اسلوب اور مطلوبہ معیار پر انجام دے رہا ہو۔ اپنے دعویٰ کے مطابق بہت سے لوگوں نے عصری کتابیں چھاپ رکھی ہیں مگر یہ نام نہاد عصری کتابیں عصری کوڑا خانہ سے زیادہ کو ئی حقیقت نہیں رکھتیں ۔

راقم الحروف نے الرسالہ جولائی1987ء میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا ’’دور جدید کی تحریکیں‘‘۔ اس مضمون میں جدید لٹریچر کی اہمیت کو بتاتے ہو ئے کہا گیا تھا کہ جدید لٹریچر دورِ جدید میں اسلام کے احیاء کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگر کتابوں کے ان گنت انبار کے باوجود، یہ ضرورت ابھی غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہو ئی ہے۔ حتی کہ لوگوں کے اندر اس کا حقیقی شعور بھی موجود نہیں ۔

میں نے مزید لکھا تھا کہ میں اُردو، عربی ،فارسی اورانگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما کو ئی ایک بھی ایسی قابل ذکر کتاب وجود میں نہ لاسکے جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کر نے والی ہو۔ اگر بالفرض کسی صاحب کو اصرار ہو کہ ایسی کتابیں لکھی جا چکی ہیں تو میں ان سے گزارش کروں گا کہ وہ ایسی صرف ایک کتاب راقم الحروف کے پتہ پر روانہ فرمائیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس مضمون کی اشاعت پر اب کئی سال کی مدّت پوری ہو چکی ہے۔ مگر آج تک کسی مسلم ذمہّ دارکی طرف سے ایسی کو ئی کتاب میرے پاس نہیں بھیجی گئی۔

موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کا اولین اور اہم ترین کام یہ تھا کہ وہ جدید علوم کو پڑھیں۔ وقت کی زبانوں کو سیکھیں ۔آج کے طریقِ استدلال اور اسلوب ِ تحریر میںمہارت پیدا کریں۔ اور اس کے بعد اسلام کی ابدی تعلیمات کو موثر اور طاقتور انداز میں پیش کریں تاکہ آج کا انسان اور جدید مسلم نسل اس کو پڑھے اور اس کے ذریعہ سے اپنے کھوئے ہو ئے عقیدہ کو دوبارہ حاصل کرے۔ مگر جدید اسلوب میں طاقتورلٹریچر وجود میں لانا تو درکنار، موجودہ مسلم رہنما قرآن کا ایک صحیح انگریزی ترجمہ بھی تیار کر کے شائع نہ کر سکے۔

ایسی حالت میں مسلم رہنماؤں کا سلمان رشدی کے خلاف ہنگامہ کرنا حقیقتاً خود اپنی نالائقی پر پردہ ڈالنے کے ہم معنی ہے۔ یہ اس کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرنا ہے جس کو انھوں نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا اور قرآن کا فیصلہ ہے کہ جو لوگ کچھ کیے بغیر کریڈٹ لینا چاہیں ان کے لیے خدا کے یہاں عذاب ہے ، نہ کہ انعام (3:188)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہمارے لکھنے والوں نے موجودہ زمانہ میں جو اسلامی کتابیں تیار کی ہیں وہ غیر منحرف ذہن کے لیے مفید ہو سکتی ہیں ۔ مگر منحرف ذہن کے لیے وہ سراسر غیر مفیدہیں ۔ کیونکہ وہ منحرف ذہن کے تقاضے کو بالکل پورا نہیں کرتیں۔

ان تمام کتابوں کا یکساں طور پر یہ حال ہے جیسے ان کے لکھنے والوں کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اعتقادی استد لال کیا ہے۔ اور عقلی استد لال کیا۔ جو لوگ ان دونوں چیزوں کے فرق کو نہ جانیں وہ کبھی جدید نسل کے لیے اسلامی لٹریچر فراہم نہیں کر سکتے۔

یہ کتابیں تقریباً سب کی سب اعتقادی استد لال کے اصول پر لکھی گئی ہیں۔ اعتقادی استدلال صرف وہاں کار آمد ہو تا ہے جہاں زیر بحث مسئلہ میں دونوں فریق بنیادِ استدلال کے بارے میںایک رائے رکھتے ہوں ۔ مگر جہاں اس بارے میں دونوں فریق کی سوچ الگ الگ ہو، وہاں اعتقادی طریق استدلال بالکل بے اثر اور بے قیمت ہو جاتا ہے۔

جدید نسل جو جدید افکار سے متاثرہے، اس کامسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی پیشگی مسلّمہ پر یقین نہیں رکھتی ۔ اس کا تصوریہ ہے کہ جو دعویٰ کیا جائے اس کو سائنس اور تاریخ کے معلوم حقائق کی بنیاد پر ثابت ہونا چاہیے۔ گویا پہلے طریق استدلال کی بنیاد اگر اعتقادی مسلّمات پر قائم ہے تو دوسرے طریق استد لال کی بنیاد عقلی مسلّمات پر۔ مگر موجودہ زمانہ میں عربی، فارسی، اردو اور انگریزی میںہمارے لکھنے والوں نے جو کتابیں لکھی ہیں ، ان میں کو ئی کتاب ایسی نہیں جس میں اسلام کو حقیقی معنوں میں جدید انسان کے اپنے مسلمات کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہو۔

دوسری کمزوری جو ان تمام کتابوں میں مشترک طور پر پا ئی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کتابیں افضلیت اور برتری کی اصطلاحوں میں لکھی گئی ہیں۔ ان کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہ ہو تا ہے کہ اسلام یا مسلمانوں کی برتری ثابت کریں۔ اس قسم کا لٹریچر کچھ مسلمانوں کو خوش کر سکتا ہے مگر وہ جدید ذہن کے لیے ہر گز مؤثر نہیں ہوسکتا۔

جدید ذہن کو اپیل کرنے والا لٹریچر صرف وہ ہو گا جس میں یہ دکھایا گیا ہو کہ اسلام کی تعلیمات عین فطرت کے مطابق ہیں۔ اسلام اور انسانی فطرت دونوں ایک دوسرے کا مثنی (counter part) ہیں۔

تیسری کمزوری جو جدید پیدا شدہ لٹریچر میں بہت زیادہ عام ہے، وہ یہ كه يه کتابیں دعوت کی زبان میں نہیں لکھی گئیں، بلکہ عداوت کی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں کے لکھنے والے تقریباً سب کے سب اپنے سینہ میں یہ احساس لیے ہو تے ہیں کہ موجودہ دنیا اسلام کی دشمن ہو گئی ہے۔ ہر طرف اسلام کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ ہر قوم اسلام کو مٹانے پر تلی ہو ئی ہے۔ اس نفسیات کے تحت جو لٹریچر تیار کیا جائے وہ عداوتی لٹریچر ہو گا ، نہ کہ دعوتی لٹریچر۔

جو شخص اپنے سینہ میں مدعو کے خلاف نفرت لیے ہو ئے ہو وہ پہلے مر حلہ ہی میں اس کام کے لیے اپنے آپ کو نا اہل ثابت کر رہا ہے۔ دعوتی کلام کے لیے مدعو کے حق میں محبت کی نفسیات درکار ہے ، نہ کہ نفرت کی نفسیات۔ اس لیے ہمارے لکھنے والے جب تک اپنے سینہ کو منفی نفسیات سے خالی نہ کریں ، ان کا دعوتی لٹریچر تیار کرنا ایک جرم ہے ، نہ کہ کوئی واقعي اسلامي خدمت۔

سلمان رشدی جیسے واقعات کے مقابلہ میں مسلم رہنماؤں کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ اس کو مرتد قرار دے کر ان کے اوپر اسلامی سزا کے نفاذ کا اعلان کریں ۔ اس کے بر عکس، ان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ان کے کیس کو سمجھیں ۔ ان کی ذہنی پیچیدگیوں کا مطالعہ کریں۔ ان کے فکر و نظریہ سے پوری واقفیت حاصل کریں۔

اس طرح کے گہرے مطالعہ کے بعد ان کا فرض ہے کہ وہ اسلام پر ایسی کتابیں تیار کریں جو اس قسم کے لوگوں کو مطمئن کرنے والی ہوں۔ جو ان کی سوئی ہو ئی فطرت کو جگا کر انہیں ان کے رب کے قریب کر سکیں۔

موجودہ زمانہ کے منحرف ذہنوں میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جوامکانی طور پر اس کے لیے تیار ہیں کہ وہ اسلام کو اپنے دل کی آواز پاکر اسے قبول کر لیں۔ مگر یہ امکان صرف اس وقت واقعہ بن سکتا ہے جب کہ دین حق کو اس کی مانوس زبان اور ان کے قابل قبول اسلوب میں ان کے سامنے پیش کر دیا جائے۔

ایک پیا سا آدمی پانی کا گلاس صرف اس وقت اپنے ہاتھ میں لیتا ہے جب کہ اسے یقین ہو کہ اس گلاس کے اندر جو چیز ہے وہ پانی ہے۔ اسی طرح ہر پیدا ہو نے والا بلا شبہ حق کا طالب ہے۔ مگر جو تحفہ اس کے سامنے پیش کیا جائے اس کی بابت پہلے اس کو اس کی مانوس زبان میں یہ یقین دلانا ہو گا کہ یہ وہی مطلوب چیز ہے جس کو تم اپنی فطرت کے زیر اثر تلاش کر رہے تھے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content