مثبت طريقِ كار
راجوری (کشمیر) سے ڈاکٹر مظفرشاہین نے اپنے ایک مفصل خط میںلکھا تھا ’’ جب سے سلمان رشدی کی کتاب شائع ہوئی۔ وہ اخباروں اور رسالوں کی تو جہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ تمام دنیائے اسلام میں عالم محشر بپا کر دیا گیا۔ حتی کہ رہنماؤں کے احتجاج سے متاثر ہو کر اسلام آباد، سرینگر اور بمبئی وغیرہ میں فسادات رونما ہوئے۔ لیکن کہیں بھی کسی مسلم عالم نے اس کتاب کا عقلی اور علمی دلائل سے جواب دینے کی زحمت گوارا نہ کی۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ یہ کتاب دراصل ہمارے علماء کے لیے چیلنج ہے ، نہ کہ عام معنوں میں اسلام کی تذلیل۔ چنانچہ آج تک کسی مسلم عالم کی طرف سے اس کتاب کی مدلل تردید نظر سے نہیں گزری۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ اس کتاب کو پڑھ کر اس کے بیانات سے متاثر ہوئے ہوں گے، کیا ہمارا شور و غل ان کے تاثر کا علاج بن سکتا ہے۔‘‘
اس خط کے جواب میں میں نے لکھا کہ بلاشبہ یہ بے حد اہم بات ہے۔ مگر اس کاتعلق صرف سلمان رشدی کی کتاب سے نہیں ہے بلکہ اس طرح کی تمام چیزوں سے ہے۔ مسلم رہنماؤں کا عام طریقہ یہ ہے کہ جب اس قسم کی کوئی کتاب چھپتی ہے تو وہ اس کے خلاف پُر شور بیانات دیتے ہیں اور عوامی ہنگامے برپا کر تے ہیں۔ مگر اصل کتاب کا مدلل جواب نہیں دیتے۔
مجھے اس بات سے صد فی صد اتفاق ہے کہ ایسا ہر واقعہ اسلام کی اہانت سے زیادہ خود ہمارے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب کے مخالفین اشعار کے ذریعہ اس قسم کی تو ہین آمیز اور دل آزار ی کی باتیں کرتے تھے جو موجود ہ زمانہ کے مخالفین کرتے ہیں ۔ مگر اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یا صحابہ کرام کا وہ ردّ عمل نہیں ہو تا تھا جس کا مظاہرہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے مسلمانوں میں سے وہ لوگ کھڑے ہوتے تھے جو شعر اور خطابت کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ دلائل کی زبان میں مخالفین کا جواب دیتے تھے۔ یہی اس طرح کے معاملات میں اسلامی طریقہ ہے اور یہی موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کو اختیار کرنا چاہیے۔
قدیم عرب میں خبر رسانی(communication)کا سب سے بڑا ذریعہ شاعری تھی۔ جس خیال کو عوام تک پہنچانا مقصود ہوتا اس کو منظوم کلام کی صورت میں مرتب کر دیا جاتا تھا جو سننے والوں کو بآسانی یاد ہوجاتا تھا۔ لوگ اس منظوم کلام کو لے کر جگہ جگہ سناتے تھے۔ اس طرح وہ بات سارے عوام میں پھیل جاتی تھی۔
موجودہ زمانہ میں پریس کی ایجاد نے شاعری کی یہ اہمیت ختم کردی ہے۔ اب خبر رسانی کا سب سے بڑا ذریعہ صحافت ہے۔ موجودہ زمانہ میں جس فکر کو عوام تک پہنچانا مقصود ہو اس کو مرتب کر کے اخبارات میں شائع کر دیا جاتا ہے۔ یہ اخبارات پریس کے ذریعہ چھپ کر کثیر تعداد میں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
دور اول کے مسلمانوں نے خبر رسانی (comunication)کے قدیم ذریعہ (شاعری) کو استعمال کر کے مخالفین کی باتوں کی تردید عوام تک پہنچائی تھی۔ موجودہ زمانہ میں یہی کام ہم کو اخبار (یا کتاب) کے ذریعہ کرنا چاہیے۔ مسلم رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ایسے مواقع پر ایسا نہ کریں کہ وہ اسلام کی اہانت اور ناموس رسول پر حملہ جیسے الفاظ بول کر عوام کو بھڑ کائیں۔ یہ طریقہ ایک اعتبار سے بدعت ہے۔ اس سے مسلم عوام تو بھڑک جاتے ہیںمگر مخالفین کی باتوں کی تردید نہیں ہو تی۔ مخالفین کی باتیں بدستور لوگوں کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔ اس کے بجائے مسلم رہنماؤں کو سنّت کے طریقہ پر عمل کرنا چاہیے ۔ یعنی اخبار کا جواب اخبار سے اور کتاب کا جواب کتاب سے دینا چاہیے۔ اور وہ بھی اسلامی اخلاق اور علمی دلائل کی روشنی میں ہو ، نہ کہ سبّ و شتم کے انداز میں۔ مسلم رہنما اگر اس انداز پر عمل کریں تو زیادہ بہتر طور پر اسلا م کی خدمت کریں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔