موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ سلمان رشدی جیسے لوگ جب کو ئی شر پھیلاتے ہیں تو وہ ہمارے لیے صرف شر بن کر رہ جاتا ہے، وہ ہمارے لیے خیر کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے امام اور مفکر ایسے لوگوں کے سامنے اسلام کا جو تعارف پیش کررہے ہیں وہ صرف شور وغل ہے۔ اور شور وغل آج کے انسان کو صرف متنفر کر سکتا ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں اس کو متاثر کرنے والا نہیں۔
ایسے مواقع پر فطری طور پر اسلام کے مطالعہ کی فضابنتی ہے۔ لوگوں کے اندر اسلام کے بارے میںتجسّس پیدا ہوتا ہے، وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ اسلام کو جاننے کے خواہش مند ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ پاتے ہیں کہ موجودہ کتب خانوں میں ایسا لٹریچر موجود نہیں جو ان کی قابلِ فہم زبان میں اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کو پیش کر رہا ہو۔ جس کے اندر اتنی جاذبیت ہو کہ وہ اس کو دلچسپی اور شوق کے ساتھ پڑھ سکیں۔ آج کے انسان کے ارد گرد مخالف اسلام لٹریچر کا انبار موجود ہے، مگر موثر اسلوب میں تیار کیا ہواموافق اسلا م لٹریچر کا کہیں وجود نہیں۔
راقم الحروف نے چالیس سال پہلے عصر حاضر کی اس ضرورت کا احساس کیا تھا۔ اس کے مطابق میں نے اسلام کا تفصیلی مطالعہ کیا، اور اسی کے ساتھ جدید علوم کو اس کے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے عصری تقاضوں کے تحت ایسا اسلامی لٹریچر تیار کرنا شروع کیا جو آج کے انسان کے ذہن میں اسلام کی عظمت قائم کر سکے۔ میری تمام کتابیں کسی نہ کسی پہلو سے اسی خاص موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کام میں اگر چہ مجھے ملّت کا مطلوبہ تعاون حاصل نہ ہو سکا ۔ تاہم اپنی حد تک میں نے اپنی پوری طاقت اسی کام میں لگا رکھی ہے۔
اسی خاص ضرورت کے تحت میں نے ایک نئی کتاب مرتب کی ہے جس کا نام ہے ’’ اسلام دور جدید کا خالق‘‘۔ یہ کتاب ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ اور وہ الحمد اللہ اسلامی مرکز کے تحت چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔
مذکورہ کتاب میں واقعات و حقائق کی روشنی میں دکھایا گیا ہے کہ جدید سائنس اور موجودہ ترقی یافتہ دور جس پر آج کا انسان فخرکرتا ہے، وہ تمام تر اسلام کا عطیہ ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب ِ رسول کے ذریعہ لایا جانے والا اسلامی انقلاب ہے جس نے تاریخ ِ انسانی میں پہلی بار وہ عمل جاری کیا جس کے نتیجہ میں بالآخر دور ِ جدید کی تمام ترقیاں ظہور میں آئیں ۔ یہ کتاب اُردواور انگیریزی، وغیرہ زبانوں میںشائع ہوچکی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.