← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
اصل مسئلہ
Urdu · 7 min
گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو اس معاملہ میں قابل غور مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہاں رشدی جیسے لوگ ہیں جو اسلام کے خلاف لکھتے اور بولتے ہیں ۔ بلکہ اصل قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ وہ کون سے حالات ہیں جس نے انہیں یہ موقع دیا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف لکھیں اور بولیں۔
اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ بر طانیہ میں 17ویں صدی سے ایک قانون موجود ہے جو مسیحیت (اینگلیکن چرچ)کے خلاف کفریہ کلمات(Blasphemy) کو قابل ِ سزا جرم قرار دیتا ہے۔ مگر اس تعزیری قانون کے ہو تے ہو ئے بر طانیہ میں ایک فلم بنائی گئی ہے جو سراسر اس کی منشا کے خلاف ہے ۔ اس فلم کا نام ہے
"The Last Temptation of Christ" (1988)
اس فلم میں نعوذباللہ حضر ت مسیح علیہ السلام کی جنسی زندگی کے مناظر دکھائے گئے ہیں ۔ ان کو اور ان کی والدہ محترمہ( حضرت مریم ) کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے ان کے تقدس پر حرف آتا ہے۔ یہ فلم برطانیہ میں کھلے طور پر دکھائی جارہی ہے مگر مذکورہ قانون کے باوجود اس فلم پر آج تک پابندی نہیں لگائی گئی اور نہ اس کے بنانے والوں کو کوئی سزا دی گئی۔
اب اسی ملک کی ایک بر عکس مثال لیجیے۔ پیٹر رائٹ(Peter Wright)ایک انگریز ہے جو ریٹائرہو نے کے بعد اب آسٹریلیا میں رہتا ہے۔ وہ بر طانیہ کے محکمہ انٹلجنس میں ایک اعلی افسر تھا۔ ریٹائر ہو نے کے بعد اس نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے — اسپائی کیچر
"Spycatcher: The Candid Autobiography of a Senior Intelligence Officer" (1988)
other sourceWords of another person or source
اس کتاب میں برطانیہ کے محکمہ جاسوسی کے بہت سے راز بتائے گئے ہیں۔ پیٹر رائٹ نے اپنی یہ کتاب لندن کے ایک پبلشر کے ہاتھ فروخت کی مگر اس کی اشاعت سے پہلے حکومت بر طانیہ کو اس کا علم ہو گیا۔ اس نے فوراً یہ کہہ کر اس پر پابندی لگا دی کہ یہ کتاب سرکاری رازوں کی پردہ داری کے خلاف ہے۔ مصنف اور پبلشر کی تمام کوششوں کے باوجود یہ کتاب لندن میں چھپ نہ سکی۔ 1988میں وہ ایک بیرونی ملک میں چھاپی گئی ہے۔ تا ہم برطانی حدود میں اس کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے۔
اس تقابلی مثال پر غور کیجیے۔ ایک ہی ملک ہے۔ وہاں ’’ توہین پیغمبر‘‘ کا واقعہ ہو تا ہے مگر باقاعدہ قانون کے ہو تے ہو ئے بھی اس پر پابندی نہیں لگائی جاتی۔ دوسری طرف اسی ملک میں ’’توہین ریاست‘‘ کا واقعہ ہوتا ہے تو حکومت اس کے خلاف فوراً سر گرم ہو جاتی ہے اور پورا ملک اس کو اپنے اندر جگہ دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ برطانیہ تو ہین ریاست کی اہمیت سے واقف ہے، مگر توہین نبوت کی اہمیت کا اسے احساس نہیں ۔ یہی وہ فرق ہے جس نے ان کے یہاں دونوں مثالوں میں فرق پیدا کر دیا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔
اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ آج اسلام کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کی عظمت و اہمیت جدید لوگوں کے ذہن سے نکل گئی ہے۔ وہ اسلام کو ایک بے قیمت اور آج کے لحاظ سے بے ضرورت چیز سمجھنے لگے ہیں۔ یہی وہ حالات ہیں جس نے لوگوں کو اسلام کے خلاف بولنے کے لیے جری کردیا ہے۔ نہ صرف غیر مسلموں میں بلکہ خودمسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو مذکورہ قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں، چنانچہ وہ اسلام کے خلاف نہایت سطحی انداز میں لکھتے اور بولتے رہتے ہیں ۔
اس وقت جڑ کاکام یہ ہے کہ اسلام کے بارے میںجدید انسان کی غلط فہمی کو دور کیا جائے۔ اسلام کی اہمیت کو آج کے انسان کے لیے دوبارہ ایک ثابت شدہ حقیقت بنا دیا جائے۔ اسلام کی تصویر کو لوگوں کی نظر میں اتنا با عظمت بنا دیا جائے کہ کو ئی آدمی اس کے خلاف بولنے کی جرأت نہ کرسکے۔ اور اگر بالفرض کوئی شخص اس قسم کی نازیباحرکت کرے تو اس کی بات ماحول کے اندر اپنے آپ میں بے وزن ہو کر رہ جائے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے آج کوئی شخص جمہوریت (ڈیموکریسی) کے خلاف بولے تو اس کی بات موجودہ ماحول میں اپنے آپ بے وزن ہو کر رہ جائے گی۔