Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

خاتمہ سوچنے کی بات

Urdu · 5 min

سوچنے کی بات

قرآن خدا کی کتاب ہے جو کائناتی حقیقتوں کو بیان کرتی ہے۔ قرآن میں جن حقیقتوں کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں سے ایک عالمگیرحقیقت وہ ہے جو ان لفظوں میں ظاہرکی گئی ہے فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (94:5-6)۔پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بےشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا میں جس طرح کانٹے کے ساتھ پھول ہو تا ہے، اسی طرح یہاں دشواری کے ساتھ آسانی کا پہلو بھی ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کو ئی ناخوشگوار واقعہ کبھی خوشگوار امکانات کو ختم نہ کر سکے۔ ہر نا پسند صورت حال میں دوبارہ ایک پسندیدہ موقع آدمی کے لیے باقی رہے۔ امکانات کی یہ فہرست اتنی لمبی ہے کہ اس کا سلسلہ سلمان رشدی جیسے نازیبا واقعات تک پہنچ جاتاہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم مدینہ میں سلمان رشدی جیسا ایک برا کردار موجود تھا۔ یہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہے۔ اس ظالم نے ایک بار ایک معمولی واقعہ کو شوشہ بنایا اور اس کے ذریعہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر نعوذ باللہ بد کرداری کا الزام لگایا۔ یہ جھوٹی کہانی اس طرح پھیلی کہ پورے مدینہ میں ایک مہینہ تک ہنگامی حالت طاری رہی۔ اس کے بعد قرآن میں اس کی تردید میں سورۃالنور (آیات 11 تا 20) اتاری گئی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان تردید ی آیات میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ  لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ (24:11)۔ یعنی اے مسلمانو، یہ طوفان جو تمہارے خلاف برپا کیا گیا ہے، اس کو تم اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے حق میں اچھا ہے۔ بہتان تراشی کا واقعہ بظاہر’’عسر‘‘ کا ایک واقعہ تھا۔ مگر قرآن نے بتایا کہ اس میں بھی تمہارے لیے ’’یسر‘‘ کا یقینی پہلو چھپا ہوا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس یُسر (موافق پہلو) کی بہت سی صورتیں ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ جب داعی کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈاکیا جاتا ہے تو اس کی ذات اور اس کی دعوت لوگو ںکے درمیان گفتگو کا موضوع بن جاتی ہے۔ وہ لوگوں کے لیے ایک سوالیہ نشان کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس طرح داعی کو موقع ملتا ہے کہ وہ ان جھوٹے پروپیگنڈوں کی تردید کر کے اصل حقیقت کو واضح کرے۔ وہ اپنی بات کو ازسرِ نو مزید وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کر سکے۔

اس طرح ایک طرف مخالفین کا بر سر باطل ہونا معلوم ہو تا ہے اور دوسری طرف داعی کا برسرِ حق ہو نا اور زیادہ واضح ہو جا تا ہے۔ وہ اور زیادہ ثابت شدہ حقیقت بن کر سامنے آجاتا ہے۔ اس کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئے لوگ دعوتِ حق سے متعارف ہو تے ہیں۔ اور جو لوگ ابھی تک شبہات کا شکار تھے، وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ کر داعی کے ساتھی بن جا تے ہیں۔ لوگ اپنی آنکھوں سے عیاناً دیکھ لیتے ہیں کہ حق کا داعی ٹھوس حقیقت کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مخالفین کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content