حبل الله، حبل الناس
’’شتمِ رسول ‘‘ کے مسئلے پر ساری دنیا کے مسلمان پُر شور احتجاج (protest) کررہے ہیں۔ اِس پُر شور احتجاج کے جواز کے لیے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ — حقوقِ انسانی (human rights) کے مسلّمہ اصول کے تحت احتجاج ہمارا ایک جائز حق ہے۔
سڑکوں پر احتجاجی جلوس نکالنا کوئی سادہ بات نہیں۔ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کو رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ مسلمان آج جس طرح کے واقعات پر جگہ جگہ احتجاجی جلوس نکالتے ہیں، اُس طرح کےناخوش گوار واقعات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زیادہ بڑے پیمانے پر موجود تھے۔ مثلاً مقدس کعبہ میں مشرکین کی طرف سے سیکڑوں کی تعداد میں بتوں کا نصب کیا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلے طورپر، نعوذ باللہ، مذمَّم اور مجنون کہنا، وغیرہ۔ مگر حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اُس کے خلاف احتجاج کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ رسول اور اصحابِ رسول کے اِس ثابت شدہ عمل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ احتجاج کا طریقہ یقینی طور پر اسلام کا طریقہ نہیں۔
پھر احتجاج کا طریقہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو کہاں سے ملا۔ یہ طریقہ انھوں نے حقوقِ انسانی کی جدید شریعت سے اخذ کیا ہے۔یہ انسانی شریعت کی ایک دفعہ ہے جس کو 1948میں اقوامِ متحدہ کے یونی ورسل ڈیکلریشن (universal declaration) کے ذریعہ وضع کیا گیا ۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زندگی کے دو طریقے ہیں — ایک ہے، حبل اللہ کے تحت جینا، اور دوسرا ہے، حبل الناس کے تحت جینا (3:112)۔ حبل اللہ کے تحت زندگی کا حق ملنا کسی امت کی مطلوب حالت ہے، اور حبل الناس کے تحت زندگی کا حق ملنا سرتا سر غیرمطلوب حالت۔ قرآن میں حبل اللہ اور حبل الناس کے الفاظ کسی امت کی دو مختلف حالتوں کو بتانے کے لیے آئے ہیں۔ امت کی ایک حالت وہ ہے، جب کہ اس کے اندر خوفِ خدا کی روح موجودہو اور وہ اپنے عمل کا نقشہ حبل اللہ، بالفاظِ دیگر، خدائی تعلیمات (قرآن وسنت) سے اخذ کرے، اور حبل الناس کا مطلب یہ ہے کہ امت بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوگئی ہو اور اتباعِ شہوات (19:59)کی بنا پر وہ اپنے عمل کا نقشہ تعلیمات الٰہی سے اخذ کرنے کے بجائے انسان کے وضع کردہ ضابطوں سے اخذ کرنے لگے۔
حبل اللہ اور حبل الناس کی اِس قرآنی تقسیم کے مطابق دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خود اپنی زبان سے یہ اعلان کررہے ہیں کہ اِس معاملے میں وہ حبل اللہ پر قائم نہیں ہیں، بلکہ وہ حبل الناس پر قائم ہیں۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اپنی احتجاجی روش کا جواز حبل اللہ میں نہ پاکر اس کو حبل الناس سے اخذ کررہے ہیں۔ اور اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اپنی غیراسلامی روش کے لیے وہ حبل اللہ کے بجائے حبل الناس کا حوالہ دے رہے ہیں، جو کہ ان کی قومی خواہشات کے مطابق ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اتباعِ شہوات (19:59)کہاگیا ہے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ آپ قرآن کی مذکورہ آیت (3:112) کا مطالعہ کیجیے اور دیکھیے کہ اس میں کس گروہ کے بارے میں یہ کہا گیاہے کہ وہ حبل اللہ کے بجائے حبل الناس سے اپنے لیے زندگی کا حق حاصل کررہا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک نہایت سنگین بات ہے۔ اِس طرح مسلمان اپنے آپ کو اُس گروہ کے ساتھ بریکٹ کررہے ہیں جس کے بارے میں وہ خود صبح وشام یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک ایک مغضوب اور ملعون گروہ کی حیثیت ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔