پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر مسٹر سلمان تاثیر(عمر 66 سال( کو اسلام آباد میں 4جنوری 2011 کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اخباری اطلاع کے مطابق، ان کو گولی مارنے والا خود اُن کا باڈی گارڈ ممتاز حسین قادری(عمر 26سال( تھا۔ اس نے گورنر کے اوپر سرکاری گن سے فائرنگ کی۔ اِس حملے میں گورنر پنجاب کو 6 گولیاں لگیں۔ وہ فوراً ہی ہلاک ہوگئے۔ پولس نے قاتل کو گرفتار کرلیا۔ پولس کا کہنا ہے کہ قاتل کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ حراست میں لیے گئے ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اُس نے یہ حملہ اِس لیے کیا کہ گورنر پنجاب نے پاکستان کے ناموسِ رسالت قانون کو ایک کالا قانون کہا تھا۔ (روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، 5 جنوری، صفحہ 12 ؛ ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی، 5 جنوری 2011 ، صفحہ 1)
اِس طرح کسی فرد کا کسی شخص کو گولی مار کر ہلاک کرنا بلا شبہ اسلام میں حرام ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ناموسِ رسالت کا قانون ایک بے بنیاد قانون ہے۔ اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف وہ فعل کرے جس کو سب وشتم کہا جاتا ہے، تب بھی اس کا جواب دلیل سے دیا جائے گا، نہ کہ گولی سے۔ بالفرض اگر ایسا کوئی قانون ہو، تب بھی شاتمِ کے خلاف کوئی عام آدمی کارروائی نہیں کرسکتا۔ وہ صرف یہ کرسکتا ہے کہ وہ ایسے شاتم کے معاملے میں عدالت سے رجوع کرے اور پھر باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد عدالت جو فیصلہ کرے، اس کے مطابق، اس پر عمل کیا جائے۔
موجودہ زمانے کے مسلمان ہر جگہ شتمِ رسول(blasphemy)کے نام پر اِسی قسم کے رد عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں، کہیں جلوس اور مظاہرے کی صورت میں اور کہیں شاتم کو قتل کرنے کی صورت میں۔ اس کے نتیجے میں مفروضہ شتم تو بند نہیں ہوا، البتہ اسلام بہت زیادہ بدنام ہوگیا۔ جو لوگ کسی کو شاتمِ رسول قرار دے کر اُس کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، وہ خود شاتم سے بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں۔ ایسے لوگ کسی بھی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔