کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ احتجاج (protest) ہمارا ایک مسلّمہ حق ہے، اِس لیے مسلمانوں کو لازماً اِس طرح کے واقعات پر احتجاج کرنا چاہیے، البتہ یہ ضروری ہے کہ اُن کا یہ احتجاج پرامن ہو۔ مگر یہ شرط ایک ایسی شرط ہے جو عملاً کبھی پوری ہونے والی نہیں۔ عوامی احتجاج میں دو میں سے ایک برائی کا پیش آنا یقینی ہے، یا تو وہ بظاہر پر امن احتجاج کسی مرحلے میں پہنچ کر لوگوں کو مشتعل کردے گا اور پر امن احتجاج فوراً ہی پرتشدد احتجاج میں تبدیل ہوجائے گا۔ آغاز میں بظاہر وہ ایک پرامن احتجاج کی حیثیت سے شروع ہوگا، لیکن آخر میں وہ توڑ پھوڑ اور فساد اور تخریب کی شکل اختیار کرلے گا، جس کی ایک مثال پاکستان کے مذکورہ احتجاجی واقعے میں نظر آتی ہے۔
اگر بالفرض کوئی احتجاج واقعةً پرامن احتجاج ہو، وہ اول سے آخر تک امن کی شرط پر قائم رہے، تب بھی عملاً وہ ایک فساد کی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ اس کے نتیجے میں وہ سنگین برائی پیدا ہوتی ہے جس کو باہمی نفرت کہاجاتا ہے، اور نفرت بلاشبہ ایک منفعل تشدد (passive violence) ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تشدد اگر ایک بم ہے تو نفرت ایک ٹائم بم (time-bomb) ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔