جیسا کہ عرض کیا گیا ، اِس طرح کے معاملے میں قصاص کا آپشن ثانوی آپشن ہے۔ اگر مسلمانوں کو قصاص کا آپشن لینا ہے تو لازمی طورپر انھیں یہ کرنا ہوگا کہ وہ فریقِ ثانی کے ساتھ برابر کا معاملہ کریں، یعنی یہ کہ جتنا کسی نے کیا ہے، مسلمان بھی اس کے خلاف اتنا ہی کریں۔ اگر کسی شخص نے ایک کتاب چھاپی ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں ایک کتاب شائع کریں۔ کسی نے اگر کوئی قابلِ اعتراض آرٹکل یا کارٹون چھاپا ہے تو اس کے جواب میں مسلمان بھی اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے ایک اور آرٹکل چھاپیں۔ اگر کسی نے اسٹیج پر ایک تقریر کی ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں اسٹیج پر ایک تقریر کریں۔ اگر کسی نے ایک اخباری بیان دیا ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں ایک مدلل اخباری بیان دیں۔ مسلمان اگر اِس طرح کے معاملے میں پیغمبر کے اسوہ کے مطابق، عفو وصبر کا طریقہ اختیار نہیں کرسکتے تو اسلامی شریعت کے مطابق، اُن کو صرف یہ حق ہے کہ وہ قلم کا جواب قلم سے دیں اور تقریر کا جواب تقریر سے دیں۔ اِس کے برعکس، قلم کا جواب پرتشدد مظاہرہ کے ذریعے دینا یا پر امن اعتراض کے جواب میں توڑ پھوڑ کرنا ایک ایسا فعل ہے جو بلاشبہ حرام کے درجے میں قابلِ ترک ہے۔رسول اور اصحاب رسول کی مثال سے یہی طریقہ ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مخالفین نے بہت بڑے پیمانے پر وہ سب کچھ کیا جس کو ’’شتمِ رسول‘‘ کہاجاتا ہے، مگر رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اس کے جواب میں احتجاج اور ہنگامے کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اِس کے برعکس جو کچھ ہوا، وہ صرف یہ تھا کہ حسان بن ثابت انصاری اپنے اشعار کے ذریعے سے اس کا جواب دیتے تھے(هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى وَاشْتَفَى) صحیح مسلم، حدیث نمبر 2490۔ واضح ہو کہ اُس زمانے میں شاعری کا وہی درجہ تھا جو موجودہ زمانے میں صحافت کا درجہ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔