دو آپشن
قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس طرح کے معاملے میں اہلِ ایمان کے لیے دو میں سے ایک کا آپشن (option) ہے— ایک، عفو اور صبر کا آپشن اور دوسرا، قصاص کا آپشن۔ اِس طرح کے معاملے میں مسلمانوں کے لیے اِنھیں دو میں سے ایک کا آپشن جائز ہے، اس کے سوا کوئی تیسرا آپشن لینااُن کے لیے سرے سے جائز ہی نہیں۔قتل کے معاملے میں اسلامی شریعت کا ایک مسلّمہ قانون یہ ہے کہ زمانہ جنگ میں بھی صرف مقاتل(combatant) کو مارا جائے گا، غیر مقاتل (non-combatant)کو مارنا جنگ کے زمانے میں بھی جائز نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کیسے اجازت دے سکتاہے کہ امن کی حالت میں غیر مقاتل یا پرامن افراد کو مارا جائے۔
عفو اور صبر کے آپشن کا مطلب یہ ہے کہ آپ پیش آمدہ معاملے پر رد عمل کی نفسیات کے تحت نہ سوچیں، بلکہ اصلاح کی نفسیات کے تحت سوچیں۔ آپ یہ سوچیں کہ جو شخص اِس ’’گستاخی‘‘ میں ملوث ہوا ہے، وہ بھی ایک انسان ہے۔ اس کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر ہوتی ہے۔ اِس لیے آپ ہمدردانہ انداز میں اس کی فطرت کو ایڈریس کرنے کی کوشش کریں۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی اصلاح ہوجائے اور وہ توبہ کرکے اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہوجائے۔
اِس معاملے میں دوسرا آپشن وہ ہے جس کو قرآن میں قصاص کہا گیا ہے۔ یہ ثانوی درجے کا آپشن ہے۔ اِس کی حیثیت صرف ایک قانونی جواز کی ہے۔ جہاں تک اسوۂ رسول کا معاملہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس طرح کے معاملے میں ہمیشہ عفو اور صبر اور اصلاح کے طریقے کو اختیار فرمایا، کیوں کہ یہی طریقہ عزیمت اور خُلقِ عظیم کا طریقہ ہے۔ جیسا کہ اِس سلسلہ کلام کے تحت اگلی آیت میں ارشاد ہوا ہےوَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(42:43)۔ یعنی جس شخص نے صبر کا طریقہ اختیار کیا اور معاف کردیا، توبےشک یہ بڑی عزیمت کے اوصاف میں سے ہے۔
ایذا (harm) کی دو قسمیں ہیں— ایک، جسمانی ایذا (physical harm) اور دوسرے، نفسیاتی ایذا(psychological harm) ۔ دونوں قسم کی ایذاؤں کی نوعیت ایک دوسرےسے مختلف ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطابق، جسمانی ایذاکی صورت میں ہمارے لیے دو آپشن ہیں— قصاص، اورعفو۔
جیسا کہ عرض کیاگیا ، قصاص کا مطلب ہے برابر کا بدلہ لینا، یعنی جتنا کسی نے کیا ہے، ٹھیک اتنا ہی اس کے ساتھ کرنا۔ اِس کے مقابلے میں، عفو کا مطلب ہے یک طرفہ طورپر صبر کرلینا، نہ کوئی عملی کارروائی کرنااور نہ زبان سے اس کے خلاف شکایت یا احتجاج کے الفاظ بولنا۔ گویا اسلامی تعلیم کے مطابق، جسمانی ایذا کی صورت میں اہلِ ایمان کے لیے دو آپشن ہیں، لیکن نفسیاتی ایذا کی صورت میں اُن کے لیے صرف ایک آپشن ہے، اور وہ صبر کا آپشن ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔