Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

جذباتی ہنگامہ ارائی

Urdu · 6 min

جذباتي هنگامه آرائي

ستمبر 2012 میں امریکا میں ایک فلم بنائی گئی۔ اِس فلم کا نام تھا — مسلمانوں کی معصومیت (Innocence of Muslims)۔ اِس فلم میں ایسے مناظر دکھائے گئے تھے جو مسلمانوں کی نظر میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ’’گستاخی‘‘کے ہم معنی تھے۔ اِس کے بعد دنیا بھر کے مسلمان بھڑک اٹھے۔ شرق سے غرب تک، ہر جگہ اس کے خلاف پرشور احتجاج ہونے لگا۔ ہر جگہ دھوم کے ساتھ جذباتی مظاہرے اور تقریریں کی گئیں۔ اِن مواقع پر مسلمان جگہ جگہ اپنے مظاہروں کے دوران جو پلے کارڈ (placard) بلند کیے ہوئے تھے، اُن کی نوعیت کا اندازہ اُن پر لکھے ہوئے حسب ذیل الفاظ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے

"Obama, Obama, we like Osama!

Behead all those who insult the Prophet!

Insulting the Prophet is insulting 1.5 billion Muslims!

The Prophet is dearer to us than our lives!"

اِس سلسلے میں دنیا کے مختلف ملکوں میں جو پرشور مظاہرے کیے گئے، اُن میں سےایک پاکستان کا وہ مظاہرہ تھا جو 28 ستمبر 2012 کو ’’یومِ عشقِ رسول‘‘ کے طور پر منایا گیا۔ اِس واقعے کی رپورٹ لاہور کے ہفت روزہ سنڈے میگزین نوائے وقت (30 ستمبر 2012) میں شائع ہوئی ہے۔ اِس رپورٹ کے کچھ حصے یہاں نقل کیے جاتے ہیں ’’پاکستانی قوم نے جمعہ کو یومِ عشقِ رسول منایا۔ گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف ’’یومِ عشقِ رسول‘‘ پر عوامی رد عمل کے دوران غیر معمولی توڑ پھوڑ اور تشدد کے واقعات ہوئے۔اِن پر تشدد واقعات میں صرف جمعہ کو 32 افراد جاں بحق ہوئے اور 200سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ کراچی میں 5 سینما گھر، تین بینک اور لاتعداددکانیں لوٹنے کے بعد جلا دی گئیں، گاڑیوں کو توڑا گیا، لوگوں پر ڈنڈے برسائے گئے، 4پولیس موبائلیں اور بکتر بند گاڑیاں بھی جلا دی گئیں۔ اس دوران اسپتالوں پر بھی حملے کیے گئے اور اربوں روپیے کی املاک دھوئیں کی نذر ہوگئیں‘‘۔ (صفحہ 4)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

’’گستاخی ِ رسول‘‘کے سوال پر اِس طرح کے پرتشدد واقعات مسلمانوں کی طرف سے ہر جگہ ہورہے ہیں، پاکستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی۔ اِن واقعات کی رپورٹ برابر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں آرہی ہے۔ اِس صورتِ حال کو دیکھ کر ساری دنیا میں ایک سوال کیا جارہا ہے، وہ یہ کہ — پُر امن گستاخی کے جواب میں مسلمان خود پرتشدد گستاخ کیوں بن جاتے ہیں۔ رسول کی شان میں ’’گستاخی‘‘ کرنے والا صرف یہ کرتا ہے کہ وہ اِس قسم کی ایک کتاب شائع کرتا ہے، یا اخبار میں ایک کارٹون چھاپ دیتاہے، یا ایک فلم بنا کر اس کو انٹرنیٹ پر ڈال دیتا ہے۔ یہ اگر گستاخی ہے تو وہ یقینی طور پر ایک پرامن گستاخی ہے، لیکن اس کے جواب میں مسلمان جو کچھ کرتے ہیں، وہ مبیّنہ طورپر ایک پرتشدد رد عمل یا پرتشدد گستاخی کا معاملہ ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

پیغمبر ِآخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسلامی شریعت دی ہے، اُس میں واضح طورپر اِس طرح کے معاملات میں ایک اصول بتایا گیا ہے ، وہ قِصاص(2:178) کا اصول ہے، یعنی برابر کا بدلہ (Equal Retribution)۔ قصاص کی تعریف قرآن میں اِن الفاظ میں دی گئی ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ (16:126)۔ تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا کہ تمھارے ساتھ کیا گیا ہے۔

Qur'anQuotes the Qur'an

اِس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کے الفاظ یہ ہیں

وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ(42:40) یعنی برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی، پھر جس نے معاف کردیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content