Maulana Wahiduddin Khan
14 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

اسلام قبول کرنے کے بعد

Urdu · 14 min

اوپر ان لوگوں کی مثال نقل کی گئی ہے جو قبول ِ اسلام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مرتکب ہو ئے مگر انھیں سزا دینے کے بجائے ان کو معاف کر دیا گیا۔ اب کچھ ایسی مثالیں درج کی جاتی ہیں جب کہ آدمی نے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی شان میں گستاخی کی اور آپ کو اذیت پہنچائی۔ اس کے باوجود اس مسلمان کو قتل کی سزا نہیں دی گئی۔

1۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ، مجھ سے ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے مقسم بن ابو القاسم مولیٰ عبداللہ بن الحرث بن نوفل کی روایت بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ میں اور تلید بن کلاب اللیثی دونوں نکلے، یہاں تک کہ ہم عبداللہ بن عمرو بن العاص کے پاس پہنچے۔ وہ اپنا جوتا ہاتھ میں لٹکائے ہو ئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا۔ کیا آپ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب حنین کے دن تمیمی نے آپ سے بات کی تھی۔ انھوں نے کہا ہاں۔ بنو تمیم کا ایک شخص آپ کے پاس آیا ۔ اس کو ذوالخویصرہ کہا جاتا تھا۔ وہ آپ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اس وقت آپ لوگوں کو مالِ غنیمت دے رہے تھے۔ (وہ دیکھتا رہا) یہاں تک کہ اس نے کہا کہ اے محمد! میں نے اس کو دیکھ لیا جو آپ نے آج کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، پھر تم نے کیا دیکھا۔ اس نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے عدل کیا ہو(لَمْ أَرَكَ عَدَلْت)۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہو گئے۔ آپ نے کہا تیرا بُرا ہو، اگر میرے پاس عدل نہیں ہوگا تو پھر کس کے پاس ہوگا ( فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَوَيْحَكَ، إِنْ لَمْ يَكُنِ الْعَدْلُ عِنْدِي، فَعِنْدَ مَنْ يَكُونُ)۔ حضرت عمر بن الخطاب نے یہ سن کر کہا اے خدا کے رسول ، کیا میں اسے قتل نہ کردوں ۔ آپ نے کہا کہ نہیں ، اس کو چھوڑ دو۔ عنقریب اس کی ایک جماعت ہو گی جو دین میں تعمق کرے گی، یہاں تک کہ وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کہ تیر شکار سے(مسند احمد، حدیث نمبر 7038 ) ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مذکورہ مسلمان(ذوالخویصرہ)کے معاملہ پر غور کیجیے۔ اس نے خدا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں جو گستاخی کی وہ سادہ معنوں میں صرف ایک لفظی گستاخی نہ تھی، وہ خود آپ کی حیثیتِ رسالت پر ضرب لگانے کے ہم معنی تھی۔ اس شخص نے آپ کی عدالت پر شبہ کیا تھا اور آپ کواپنے خیال کے مطابق غیر عادل بتایا تھا۔ یہ بات انتہائی حد تک سنگین ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت قرآن کے راوی کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے بواسطہ جبریل خدا کا کلام پایا ہے۔ اور اس کو تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں ۔ آپ کی اسی روایت پر یقین کر کے ہم قرآن کوخدا کی کتاب مانتے ہیں۔

یہ معلوم ہے کہ کسی روایت کو قبول کرنے کے لیے راوی کا عادل ہونا شرط لازم ہے۔ جس راوی کی عدالت مشتبہ ہو، اس کی روایت کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔ ایسی حالت میں مذکورہ تمیمی مسلمان کا آپ کو غیر عادل بتانا گو یاآپ کے راويِ قرآن ہو نے کی حیثیت کو مشتبہ قرار دینا ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے زیادہ سخت بات ہے جو آپ کے خلاف کہی جا سکتی ہے۔ مذکورہ شخص نے اتنی سنگین بات کہی ، اس کے باوجود اس کو نہ کوئی سزا دی گئی اور نہ اس کو قتل کیا گیا۔

کیا اس کے بعد بھی اس میں شبہ کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے بجائے خود کو ئی واجب القتل جرم نہیں ہے۔ کسی کے واجب القتل ہو نے کے لیے اسی کے ساتھ کچھ مزید اسباب درکار ہیں۔ مثلاً ریاستِ اسلامی سے بغاوت۔ چند افراد جو دورِ اول میں قتل کیے گئے ہیں، ان کا معاملہ اسی دوسرے حکم کے تحت آتا ہے۔ انہیں ریاست سے بغاوت کے جرم میں قتل کیا گیا ، نہ کہ مجردگستاخیِ رسول کے جرم میں۔

2۔ شعبان 6ھ میں وہ غزوۂ پیش آیا جس کو تاریخ میں غزوۂ بنی المصطلق کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ کے لیے جو لشکر روانہ ہوا، اس میں عبداللہ بن ابی اور دوسرے بہت سے منافق قسم کے مسلمان شریک تھے۔ یہ لوگ اپنی بے حسی اور بے خوفی کی بنا پر معمولی باتوں کو شوشہ بنالیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مخلص مسلمانوں کے خلاف فتنے برپا کرتے رہتے۔

اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ بنت ابی بکر بھی آپ کے ساتھ تھیں ۔ واپسی میں فوج نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا گیا۔ حضرت عائشہ حسب معمول رات کے آخری حصہ میں رفع حاجت کے لیے دور چلی گئیں۔ اس وقت ان کے گلے میں ایک معمولی قسم کا ہار تھا، وہ اتفاق سے ٹوٹ کر گر پڑا۔ حضرت عائشہ اس کو تلاش کرنے لگیں۔ اندھیرے کی وجہ سے اس میں بہت زیادہ دیر لگ گئی۔

حضرت عائشہ ابھی لوٹی نہیں تھیں کہ قافلہ روانہ ہو گیا۔ قاعدہ یہ تھا کہ کوچ کے وقت حضرت عائشہ اپنی ہودج میں بیٹھ جاتی تھیں جو چاروں طرف سے کپڑے سے ڈھکا ہوتا تھا، اور چار آدمی اس کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے۔ حضرت عائشہ اس وقت ایک چھوٹی اور دبلی خاتون تھیں۔ چنانچہ ہودج اٹھانے والوں کو یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ اس میں کو ئی سواری نہیں ہے۔ انھوں نے خالی ہودج کو اونٹ پر رکھ دیا اور اس کو لے کر روانہ ہو گئے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ بظاہر کوئی صورت نہ پاکر وہ وہیں چادر اوڑھ کر لیٹ گئیں ۔ صبح کے وقت صفوان بن معّطل سُلمی وہاں آئے جو قافلہ کے پیچھے چلنے پر مامور تھے۔ میدان میں ایک خاتون کو دیکھ کر وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ (عائشہ) ہیں۔ ان کی زبان سے نکلا اناللّٰہ واناالیہ راجعون۔ اس کے سوا انھوں نے کوئی کلام نہ کیا۔ صرف اپنا اونٹ لاکر حضرت عائشہ کے پاس بٹھا دیا۔ حضرت عائشہ اشارہ سمجھ کر اونٹ پر سوار ہوگئیں ۔ اس کے بعد وہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر تیزی سے آگے کی طرف روانہ ہو گئے۔

دوپہر کے قریب یہ اونٹ مسلمانوں کے قافلہ سے جا ملا جبکہ وہ اگلے مقام پر ٹھہرا ہوا تھا۔ ابن ابی مُلَیکہ نے عروہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ جب اس طرح قافلہ میںپہنچی تو منافقین کے ایک گروہ نے ان کو دیکھ لیا جو عبداللہ بن ابی کے ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے سردار عبداللہ بن ابی نے پو چھا یہ کون ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ عائشہ ہیں۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم ، نہ یہ بچی ہیں اور نہ وہ ان سے بچا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ تمہارے پیغمبر کی بیوی نے ایک غیر شخص کے ساتھ رات گزاری ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی، اب وہ ان کو لے کر آرہا ہے قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، رَئِيسُهُمْ مَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا عَائِشَةُ قَالَ وَاللَّهِ ‌مَا ‌نَجَتْ ‌مِنْهُ ‌وَمَا ‌نَجَا ‌مِنْهَا، وَقَالَ امْرَأَةُ نَبِيِّكُمْ بَاتَتْ مَعَ رَجُلٍ حَتَّى أَصْبَحَتْ ثُمَّ جَاءَ يَقُودُ بِهَا(تفسیر البغوی،جلد6،صفحہ23)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس کے بعد جب یہ قافلہ مدینہ پہنچاتو عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی سرگرم ہو گئے۔ انھوں نے اس معاملے کو پروپیگنڈا کا اشوبنا یااور اس کو بھر پور طور پر آپ کے خلاف استعمال کیا۔ یہاں تک کہ سارے شہر میں ہنگامی حالت پیدا ہوگئی۔ ہر طرف اس کا چرچا تھا، ہر زبان پر اسی کا تذکرہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید ذہنی اذیت میں مبتلا تھے۔ حضرت عائشہ کا یہ حال تھا کہ رات دن رو تی رہتی تھیں۔ اس قصہ کی تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ہنگامی صورت حال ایک مہینہ تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ سورہ النور کی آیتیں (11-21) اتریں۔ ان آیات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ عائشہ مکمّل طور پر معصوم اور بے قصور ہیں۔ اس معاملہ میں سارا جرم یک طرفہ طور پر عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کا ہے۔ اس طرح یہ سنگین معاملہ براہ راست خدائی مداخلت کے ذریعہ ختم ہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عبداللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتا تھا۔ اس کے باوجود اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہلِ بیت کے ساتھ اتنا بڑا بہتان تراشا ۔ خود قرآن کی گواہی کے مطابق ، اس معاملہ میں عبداللہ بن ابی سب سے بڑا مجرم تھا (24:11) ۔ قرآن میں اس کے ابلیسی جرم کا اعلان کیا گیا، مگر اس کے لیے کوئی قانونی سزا تجویز نہیں کی گئی۔اس کی سزا کے معاملہ کو تمام تر آخرت پر چھوڑ دیا گیا۔ چنانچہ وہ اس واقعہ کے بعد زندہ رہا، یہاں تک کہ مدینہ میں اپنی طبعی موت سے مر کر وہ اپنا حساب دینے کے لیے خدا کے یہاں چلا گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

روایات میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضرت عمر فارو ق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبداللہ بن ابی کی بابت کہا کہ اے خدا کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن ماردوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑدو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر8100)۔ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے اس کے لیے ایک موقع پریہ فرمایا کہ ہم اس کے ساتھ نرمی برتیں گے اور بہتر سلوک کریں گے، جب تک یہ ہمارے درمیان رہے بَلْ نَتَرَفَّقُ بِهِ وَنُحْسِنُ صُحْبَتَهُ مَا بَقِيَ مَعَنَا (سیرت ابن ہشام،جلد2، صفحہ293)۔

quoted sourceQuoted from another author or source

عبداللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو کچھ کیا، وہ آپ کی اور آپ کے اہل بیت کی کردار کشی کی بدترین صورت تھی۔ یہ پیغمبر کے خلاف اتنی بری مجرمانہ حرکت تھی کہ اس سے بڑی کسی مجرمانہ حرکت کا تصّور نہیں کیا جاسکتا۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ کے حاکم تھے۔ اس اعتبار سے آپ کو عبداللہ بن ابی کے اوپر کامل قانونی اختیار حاصل تھا۔ اس کے باوجود آپ نے اس کو قتل نہیں کرایا۔ صرف اس کے جرم کا اعلان کر کے اسے آزاد چھوڑ دیا۔

ایسی حالت میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی علی الاطلاق طور پر مستوجبِ قتل جرم ہے، وہ ایک ایسی بات کہتے ہیں جس کے لیے ان کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل موجود نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content