Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

اج کا دشمن کل کا دوست

Urdu · 6 min

آج کا دشمن کل کا دوست

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی مخالفین میں سب سے برا کردار جس شخص نے ادا کیا ، وہ مکہّ کا عمرو بن ہشام ہے جو تاریخ میں ابو جہل کے نام سے مشہور ہے۔ ابو جہل کے لڑکے کا نام عکرمہ تھا۔ عکرمہ آج اصحاب رسول کی معزز فہرست میں شامل ہیں، مگر فتح ِ مکہ سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت مخالف تھے اور اس معاملہ میں پوری طرح اپنے باپ کے ساتھ تھے۔گستاخی اور جارحیت کی کوئی قسم نہ تھی جو انھوں نے آپ کے خلاف اختیار نہ کی ہو۔ حتیٰ کہ اپنے باپ کی موت کے بعد بھی بدستور رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کے خلاف سرگرم رہے۔ مثلاًغزوۂ احد میں مشرک فوج کے میمنہ کے سردار خالد بن ولید تھے، اور میسرہ کے سردار عکرمہ بن ابی جہل۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عکرمہ کا جرم اتنا واضح تھا کہ فتح مکہ کے بعد وہ مکہ چھوڑ کر یمن کی طرف بھاگ گئے۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ ضرور قتل کر دیے جائیں گے۔ ان کی بیوی جو مسلمان ہو گئی تھیں، وہ یمن جاکر با صرار انہیں واپس لے آئیں۔ وہ انتہائی شرمساری کے ساتھ اپنا سر جھکائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پو چھا کہ کیا مجھے امان ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں ، تم کو امان ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیلی واقعات سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر کار انھوں نے کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام قبول کر لیا۔

عکرمہ جب یمن سے واپس ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آرہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہو ئے کہا کہ عکرمہ تمہارے پاس آرہے ہیں ۔ تم ان کے باپ (ابو جہل)کو برا نہ کہنا۔ کیونکہ مُردہ کو برا کہنا مردہ تک تو نہیں پہنچتا، البتہ وہ زندوں کو تکلیف دیتا ہے (يَأْتِيكُمْ ‌عِكْرِمَةُ ‌بْنُ ‌أَبِي ‌جَهْلٍ ‌مُؤْمِنًا مُهَاجِرًا، فَلَا تَسُبّوا أَبَاهُ، فَإِنّ سَبّ الْمَيّتِ يُؤْذِي الْحَيّ وَلَا يَبْلُغُ الْمَيّت)۔ عکرمہ جب آپ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت خوش ہو کر ان کی طرف تیزی سے بڑھے، حتیٰ کہ آپ کی چادر آپ کے اوپر سے گر پڑی (مغازی الواقدی، جلد، صفحہ 851-852)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام قبول کرنے کے بعد عکرمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں آپ سے ایک چیز طلب کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم طلب کرو میں تمہیں ضرور وہ چیز دوں گا (لَاتَسْأَلُنِي الْيَوْمَ شَيْئًا أُعْطِيهِ أَحَدًا إلّا أَعْطَيْتُكَ)۔ عکرمہ نے کہا کہ میری آپ سے درخواست ہے کہ ہر دشمنی جو میں نے آپ کے ساتھ کی ہے، یا ہر رکاوٹ جو میں نے آپ کے راستہ میں ڈالی ہے، ہر وہ لڑائی جو میں نے آپ کے خلاف لڑی ہے، ہر وہ بدکلامی جو میں نے آپ کے منہ پر کی ہے یا آپ کے پسِ پشت کی ہے، ان سب کو معاف کردیں اور ان کے بارے میں اللہ سے میرے لیے استغفار فرمائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہی ان کے حق میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ہر وہ عداوت جو عکرمہ نے میرے ساتھ کی، ہر وہ سر گرمی جو انھوں نے اس ارادہ سے کی کہ تیرے نور کو بجھادیں ، ان سب کو تو ان کے لیے معاف کردے اور وہ سب کچھ جو انھوں نے میری بے آبروئی کے لیے کیا، خواہ میرے سامنے کیا ہو، یا میرے پسِ پشت، ان سب کو تو معاف کردے (مغازی الواقدی، صفحہ 852)۔

quoted sourceQuoted from another author or source

اس کے بعد عکرمہ نے کہاکہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، خدا کی قسم ، ہر وہ خرچ جو میں اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کرتا تھا، اب اس کا دگنا اللہ کے راستہ میں خرچ کروں گا۔ اور اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جو جنگیں میں نے کیں ، اب اللہ کے راستہ میں اس سے دُگنا جنگ کرو ں گا۔ چنانچہ اس کے بعد عکرمہ اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں لگ گئے۔ وہ برابر اسی میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ وہ یرموک کے معرکہ میں زبردست جانبازی دکھاتے ہوئے شہید ہو گئے (مغازی الواقدی، صفحہ 852-853؛ الاستیعاب لابن عبد البر،جلد3، صفحہ 1085 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عکرمہ نے گستاخی سے لے کر جارحیت تک ہر جرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کیا تھا۔ بظاہر وہ اس قابل تھے کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قاتل نہیں تھے ، داعی تھے۔ آپ نے عکرمہ کے ’’آج‘‘ میں چھپا ہوا’’کل ‘‘ دیکھ لیا تھا۔ یہی وہ داعیانہ نگاہ تھی، جس کی بنا پر آپ نے انہیں یک طرفہ معاف کردیا۔ بعد کے واقعات نے بتایا کہ آپ کا اندازہ نہایت درست تھا۔ چنانچہ دشمن عکرمہ کے اندر سے ایک دوست عکرمہ برآمد ہوا۔ جو شخص اپنی ابتدائی زندگی میں کفر کا کھمبا بنا ہوا تھا، وہ اپنی بعد کی زندگی میں اسلام کا ستون بن گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content