دورِ اوّل کی مثال
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام خیال یہ ہو گیا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی یا اس کا استہزاء ایک ایسا جرم ہے جوعلی الاطلاق طور پر مجرم کو واجب القتل بنا دیتا ہے۔ یعنی جیسے ہی کو ئی شخص ایسے الفاظ بولے جو مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نظر آئے، اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ اس قِسم کا مطلق نظریہ شرعی اعتبار سے بے بنیاد ہے، اسلام میں اس کے لیے کو ئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔
قرآن سے معلوم ہو تا ہے کہ رسولوں کے ساتھ استہزاء کا معاملہ کوئی اتفاق نہیں ۔ یہ مجرمانہ فعل بلااستثنا خدا کے تمام پیغمبروں کے ساتھ ہمیشہ جاری رہا ہے (15:11،43:7)۔ قرآن میں تقریباً 50 مقامات پر بتایا گیا ہے کہ پیغمبروں کے معاصرین نے پیغمبروں کااستہزاء اور تمسخر کیا۔ انھوں نے ان کی شان میں گستاخیاں کیں ۔ مگر ایک جگہ بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جہاں بھی کوئی شخص پیغمبر کا مذاق اڑائے، فوراً اس کو قتل کردو۔ ایسے کسی شخص کو ہرگز زندہ نہ چھوڑو۔
قرآن میں استہزاء کے جرم کا ذکر تو بار بار آیا ہے مگر اس کے مجرم کے لیے سزائے قتل کا اعلان سارے قرآن میں کہیں بھی موجودہ نہیں۔ قرآن میں مستہزئینِ رسالت کے سلسلہ میں صرف دو قسم کے ردّعمل کا ذکر پایا جاتا ہے۔ یا تو دلائل کے ساتھ ان کی کہی ہو ئی بات کو رد کیا گیاہے، یا انہیں خدا کی پکڑ سے اور اس کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔
یہ استہزاء کرنے والے غیر مسلمین بھی ہو تے تھے(یس،36:30) اور منافق قسم کے مسلمان بھی (البقرہ،2:4؛ التوبہ،9:35)۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قسم کے لوگوں کی طرف سے یہ معاملہ اپنی بدترین صورت میں پیش آیا۔ مگر مجرداستہزاء کی بنا پر قرآن میں نہ غیر مسلموں کے لیے قتل کی قانونی سزا کا حکم دیا گیا اور نہ منافق مسلمانوں کے لیے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر رسول کی اہانت اور آپ کے ساتھ گستاخی کو اس طرح مطلق انداز میں واجب القتل جرم قرار دے دیا جاتا تو مجرم سے زیادہ خود اسلام کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن جاتا۔ کیونکہ اسلام کے وہ مقدس سپاہی جن کو صحابۂ کرام کہا جاتا ہے، ان کی بیشتر تعداد ابتداء ً عین اسی جرم میں مبتلاتھی جس کو ’’ رسول کی شان میں گستاخی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگر اس جرم کا ارتکاب کرتے ہی فوراً انہیں قتل کر دیا جاتا تو یہ سادہ معنوں میں صرف مجرم کا قتل نہ ہو تا بلکہ تا ریخ ساز انسانوں کا قتل ہوتا۔ اس کے بعد اسلام کی وہ تاریخ ہی نہ بنتی جو بعد کو بنی، اور جو موجودہ مسلمانوں کا سب سے زیادہ پُر فخر سرمایہ ہے۔ تمام قیمتی زندگیاں اس سے پہلے ہی ختم ہو جاتیں کہ اسلام قبول کریں اور دنیا کی تاریخ میں وہ عظیم الشان کردار ادا کریں جو منصوبۂ الٰہی کے تحت اس کے لیے عالمی سطح پر مقدر کیا گیا تھا۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے کچھ واقعات نقل کیے جاتے ہیں۔ یہ واقعات بطور حصر نہیں ہیں، بلکہ صرف بطور مثال ہیں ۔ پہلے کچھ غیر مسلموں کے واقعات درج کیے جائیں گے، اور اس کے بعد کچھ مسلمانوں کے واقعات۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔