سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کے مجنونانہ ایجی ٹیشن کا فائدہ تو کچھ نہ ہوا۔ البتہ اس کا یہ زبردست نقصان ہوا کہ اسلام ساری دنیا میں بد نام ہو کر رہ گیا۔اس کی بے شمار مثالیں 1989کے نصف اوّل میں سامنے آئی ہیں ۔ یہاں مسئلہ کی وضاحت کے لیے ان میں سے دو مثال نقل کی جاتی ہیں۔
’’لندن کے مضافات میں مقیم ایک بر طانوی نژاد نو مسلم انگریز نے، جس نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہے، لکھنؤ میں مقیم اپنے ایک دوست کو لکھا ہے کہ مجھے اپنے خاندان ، رشتہ داروں ، اپنے دوستوں اور اپنی پوری قوم کا رویہ بدلا ہوا نظر آرہا ہے۔ چاروں طرف سے لوگ حملے کر رہے ہیں۔ جملے کس رہے ہیں ، اور خمینی کا نام لے کر چڑھا رہے ہیں ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انگریز قوم کے اندر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام سے اتنی نفرت پیدا ہو جائے گی۔ اس واقعہ سے پہلے جو چند ماہ میں نے اسلام لانے کے بعد یہاں گزارے تھے، ان کے دوران مجھے ایسی تلخی کا کبھی تجربہ نہیں ہوا تھا۔‘‘
ماخوذاز ماہنامہ الفرقان، لکھنؤ، اپریل1989،صفحہ4-5
2۔ ٹائم میگزین (17اپریل 1989) کے دو صفحہ پر یورپ میں اسلام کے بارے میںایک باتصویر رپورٹ شائع ہو ئی ہے۔ اس رپورٹ کا ایک پیرا گراف یہ ہے
"The incendiary furore over Salman Rushdie and his novel, The Satanic Verses, reinforced the longstanding Western stereotype of Islam as a religion of intolerance and violence. The clash in Europe was especially acute. Almost overnight, efforts to dispel old perceptions were shattered," says a French historian and Islamic scholar, Bruno Etienne. "Rather than the televised images of thousands of screaming Muslims, I would have preferred to witness the hundreds of thousands of Muslims who reflect and pray privately for an Islam that is integrated."
سلمان رشدی اور اس کے ناول’’ شیطانی آیات‘‘ پر مسلمانوں کا اشتعال انگیزشور و غل مغرب کے اس قدیم نظریہ کی تصدیق کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ اسلام غیر رواداری اور تشدّد پسندی کا مذہب ہے۔ یورپ میں ٹکراؤ خاص طور پر بہت سخت تھا۔ تقریباً راتوں رات ایسا ہوا کہ قدیم تصوّرات کو مٹانے کی کو ششیں ملیا میٹ ہو کر رہ گئیں ۔ ایک فرانسیسی موّرخ برونواٹینی جو اسلام کا عالم ہے، اس نے کہا کہ ہزاروں لوگ جو ہم کو ٹی وی کے اوپر چیختے چلّاتے ہو ئے دکھائے گئے، اس کے مقابلہ میں مجھ کو یہ زیادہ پسند تھا کہ ہم ایسے ہزاروں مسلمان دیکھتے جو اپنی تنہائیوں میں اسلام کے استحکام کے لیے دعائیں کر رہے ہو تے(صفحہ40)۔
ان دو حوالوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں نے رشدی کے خلاف جو بےمعنی شور وغل کیا، وہ کس طرح کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچا، البتہ وہ اسلام کی بد نامی کا سبب ضرور بن گیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔