Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

اغیار کو موقع نہ دینا

Urdu · 5 min

مذکورہ واقعات میں جن افراد کا ذکر ہے، ان کی توہین رسول اور اسلام دشمنی بالکل واضح تھی۔ اپنے کردار کے اعتبار سے بلاشبہ وہ لوگ اس کے مستحق بن چکے تھے کہ ان کو قتل کردیا جائے۔ اسی بنا پر صحابۂ کرام نے ان کو اعداء اللہ قرار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اجازت دیجیے کہ ہم خدا اور رسول کے ان دشمنوں کو قتل کر کے ان کا خاتمہ کردیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان اشخاص کو قتل کرتے تو اس کی وجہ یقینا ان کی اسلام دشمنی ہوتی۔ مگر امتحا ن کی اس دنیا میں جہاں ہر ایک کوآزادی ہے، آپ کسی کو اس پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ وہی الفاظ بولے جو آپ چاہتے ہیں کہ بولا جائے۔ چنانچہ یہ یقینی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر صرف ان کے شتم کو دیکھا اور شتم کی سزا کے بعد پیدا ہو نے والے نتائج کو نہیں دیکھا اور ان افراد کو قتل کرادیا تو اس کے بعد ایسانہیں ہوگا کہ لوگ اصل واقعہ کے مطابق صرف یہ کہیں کہ ’’ محمد نے اسلام دشمنوں کو قتل کیا ہے‘‘۔ اس کے بر عکس یقینی تھا کہ وہ کہیں گے کہ’’محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر تے ہیں ‘‘ ان برے لوگوں کا قتل بجائے خود ایک صحیح فعل تھا۔ مگر حالات کے اعتبار سے یقینی تھا کہ صحیح ہو نے کے باوجود وہ عوام کے درمیان اسلامی بد نامی کا سبب بن جائے گا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل نہیں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ نہ تھا کہ پہلے قتل کر دیں ۔ اور پھر جب لوگ بدنام کریں تو اس کے بعد یہ شکایت کریں کہ لوگ ہم کو غلط طور پر بدنام کر تے ہیں۔ اس کے بجائے آپ کا طریقہ یہ تھا کہ ایسا فعل ہی نہ کیا جائے جس کی وجہ سے لوگوں کو غلط طور پر بدنام کرنے کا موقع ملے۔ اس معاملہ میں یہی حکمتِ نبوی ہے۔

ٹھیک یہی صورت حال آج ہمارے سامنے ہے۔ سلمان رشدی نے بلاشبہ تو ہین ِ رسالت اور اسلامی دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ حقیقت ِ واقعہ کے اعتبار سے وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ لیکن مسلمان اگر اس کے خلاف قاتلانہ کاروائی کریں تو ہر گز ایسا نہیں ہو گا کہ لوگ یہ کہیں کہ مسلمانوں نے ایک اسلام دشمن کو قتل کر دیا۔ بلکہ لازمی طور پر ایسا ہو گا کہ لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ مسلمان آزادیِ فکر کے قاتل ہیں۔ اسلام کا اصل انحصار تلوار کی طاقت پر ہے ، نہ کہ دلیل کی طاقت پر۔

ہمیں حقیقت کو جاننا چاہیے کہ موجودہ زمانہ آزادیِ فکر کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادیِ فکر کو سب سے بڑی قدر کا درجہ دیا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادی خیر اعلیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج کا انسان کسی ایسے مذہب یا نظام کو غیر مہذب اور وحشیانہ سمجھتا ہے جو آزادیِ فکر کو تسلیم نہ کرتا ہو۔ ایسی حالت میں ، باعتبار نتیجہ ، سب سے بڑی اسلام دشمنی یہ ہو گی کہ کوئی ایسا عمل کیا جائے جو دنیا والوں کو یہ کہنے کا موقع دے کہ اسلام آزادیِ فکر کا قاتل ہے، اور اس لیے وہ ایک وحشیانہ مذہب ہے ۔ اس معاملہ میں سنّت ِرسول کا تقاضہ یہ ہے کہ اسلام کو اس’’ بدنامی‘‘ سے بچایا جائے، خواہ اس کی جو بھی قیمت دینی ہو، خواہ اس کے لیے کتنی ہی بری چیز کو بر داشت کرنا پڑے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام دشمنوں کو قتل نہیں کیا تاکہ لوگوں کے درمیان اسلام کی دعوت کا دروازہ کھلے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اسلام دشمنوں کو قتل کرنے کے لیے سرگرم ہیں تاکہ لوگوں کے درمیان اسلام کی دعوت کا دروازہ بند ہو جائے، اس قسم کی سر گرمی بلاشبہ سر کشی ہے، اس کا خدا اوررسول کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content