← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
مستقبل پر نظر
Urdu · 9 min
قدیم مکّہ میں جو ممتاز افراد تھے، ان میں سے ایک شخص کا نام سہیل بن عمرو تھا۔ آج سہیل بن عمرو کا شمار صحابہ کی فہرست میں ہو تا ہے۔ مگر اس سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔ وہ بدر کی لڑائی میں مشرکین کی طرف سے شریک ہو ئے۔ اس لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مشرکین کو شکست ہو ئی۔ ان کے 70 آدمی گرفتار کرکے مدینہ لائے گئے۔ ان میں سے ایک سہیل بن عمرو بھی تھے۔
سہیل بن عمرو کے اندر زبان آوری کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ وہ خطیبِ قریش کہے جاتے تھے۔ اپنی اس صلاحیت کو انھوں نے بھر پور طور پر اسلام کے خلاف استعمال کیا۔ وہ شعر اور خطابت کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کر تے تھے۔ اور آپ کے خلاف اوراسلام کے خلاف لوگوں کو اکساتے رہتے تھے۔ جب وہ گرفتار ہو کر مدینہ آئے اور ان کے اوپر مسلمانوں کو پوری طرح قابو حاصل ہو گیا، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول ، مجھے اجازت دیجیے کہ میں سہیل بن عمرو کے سامنے کے دانت تو ڑ دوں۔ اس طرح اس کی زبان باہر نکل پڑے گی اور اس کی آواز خراب ہو جائے گی۔ اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ آپ کے خلاف خطیب بن کر کھڑا ہو سکے۔
بظاہر یہ ایک جائز بات تھی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں اس کا مُثلہ نہیں کروں گا۔ اگر میں اس کا مُثلہ کروں تو اللہ میرا مُثلہ کرے گا، اگر چہ میں ایک رسول ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے مزید ایک بات فرمائی۔ یہ بات بظاہر شخصی ہے مگر وہ ایک عالمی انسانی حقیقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ سہیل بن عمرو ایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں تم ان کی مذمت نہ کر سکو لَعَلّهُ يَقُومُ مَقَامًا لَا تَكْرَهُهُ (مغازی الواقدی، جلد1، صفحہ 107)۔ چنانچہ مثُلہ یا قتل کے بغیر سہیل بن عمرو کو چھوڑ دیا گیا کہ وہ اپنے وطن واپس چلے جائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سہیل بن عمرو کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غیر معمولی سلوک کیا کہ غزوۂ بدر (2ھ) کے بعد ان پر قابو پانے کے باوجود انہیں رہا کردیا۔ مگر اب بھی وہ اپنی اسلام دشمنی سے باز نہ آئے۔ انھوں نے مکہ کے لوگوں کو دوبارہ اکسایا اور تین ہزار کی فوج لے کر مدینہ پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ اندوہناک جنگ پیش آئی جس کو غزوۂ احد (3ھ ) کہا جاتا ہے۔
یہی سہیل بن عمرو تھے جنھوں نے معاہدہ حدیبیہ (6ھ) کے موقع پر لفظ ’’رسول الله‘‘ کو کاغذ سے محو کرادیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی یک طرفہ شرائط پر راضی ہونے کے لیے مجبور کیاتھا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی مدد فرمائی۔ 8ھ میں مکہ فتح ہو گیا۔ اس وقت تک سہیل بن عمرو کفر کی حالت میں تھے۔ مگر اب بھی ، ثابت شدہ جرائم کے باوجود ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کو ئی سزا نہیں دی۔ اس کے بر عکس آپ نے اپنے اصحاب کو ان کے ساتھ حسن اخلاق کی ہدایت فرمائی۔ آپ نے کہا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مَنْ لَقِيَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو فَلَا يَشُدُّ النَّظَرَ إِلَيْهِ، فَلَعَمْرِي،إِنَّ سُهَيْلًا لَهُ عَقْلٌ وَشَرَفٌ، وَمَا مِثْلُ سُهَيْلٍ جَهِلَ الْإِسْلَامَ (الطبقات الکبریٰ،حدیث نمبر198)۔ یعنی جو شخص سہیل بن عمرو سے ملے، وہ اس کی طرف تیز نگاہوں سے نہ دیکھے۔ میری جان کی قسم، بلا شبہ سہیل عقل اور شرف والا آدمی ہے۔ اور سہیل جیسا آدمی اسلام سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سہیل بن عمرو کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایتیں جا ری رہیں۔ غزوۂ ہوازن کے بعد آپ نے ان کو ایک سو اونٹ تا لیف قلب کے طور پر دیے۔ اس عطیہ کے بعد وہ بالکل ڈھ پڑے اور اسلام قبول کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بن گئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب قبائل میں یہ تاثر پھیل گیا کہ وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس کی وجہ سے اسلام کو خدا کی مدد ملتی تھی۔ چنانچہ عرب قبائل کی اکثریت ارتداد کی طرف مائل ہو گئی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو مکہ کے بیشتر لوگوں نے یہ چاہا کہ وہ اسلام سے پھر جائیں ۔ انھوں نے اس کا پو را ارادہ کر لیا۔ مکہ کی فضا اتنی خراب ہوئی کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتّاب بن اسید روپوش ہو گئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ سہیل بن عمرو اس وقت تک اسلامی جماعت کے ایک فرد بن چکے تھے۔ وہ شاندار خطیب ہو نے کے ساتھ ایک بارعب شخصیت والے آدمی تھے۔ جب انھوں نے مکہ کا یہ حال دیکھا تو وہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے۔ انھوں نے اعلیٰ خطیبانہ صلاحیت کو استعمال کر تے ہو ئے لوگوں کے درمیان ایک پرُ زور تقریر کی۔ انھوں نے کہا سن لو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نے اس کے سوا کچھ اور نہیں کیا ہے کہ اس نے اسلام کی قوت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جو شخص ہمارے خلاف کچھ کرے گا، ہم تلوار سے اس کی گردن مار دیں گے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
سہیل بن عمرو کی گرج دار تقریر کو سن کر لوگوں نے رجوع کر لیا۔ انہوں نے اسلام سے پھرنے کاجو ارادہ کیا تھا، اس سے باز آگئے۔ اس کے بعد عتّاب بن اسید بھی روپوشی سے نکل آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہی مطلب تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا کہ ہوسکتا ہے کہ ایک دن وہ ایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں وہ تمہارے نزدیک قابلِ مذمت نہ ہوں بلکہ قابلِ تعریف ہوں إنَّ ذَلِكَ لَمْ يَزِدْ الْإِسْلَامَ إلَّا قُوَّةً، فَمَنْ رَابَنَا ضَرَبْنَا عُنُقَهُ، فَتَرَاجَعَ النَّاسُ وَكَفُّوا عَمَّا هَمُّوا بِهِ، وَظَهَرَ عَتَّابُ بْنُ أَسِيدٍ. فَهَذَا الْمَقَامُ الَّذِي أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ لِعُمَرِ بْنِ الْخَطَّابِ إنَّهُ عَسَى أَنْ يَقُومَ مَقَامًا لَا تَذُمُّهُ (سیرت ابن ہشام ، جلد4، صفحہ 346)۔
quoted sourceQuoted from another author or source
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنّت بتاتی ہے کہ آپ کی نظر حال پر نہیں رکتی تھی۔ آپ آدمی کے حال سے گزر کر اس کے مستقبل کے امکانات کو دیکھتے تھے۔ ایک انسان کا آج اگر باغیانہ ہے تو اس کو نظر انداز کر کے آپ یہ سوچتے تھے کہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ ہمارا وفادار ہو جائے۔ اور پھر اس کی وہ خدا داد صلاحیتیں جو اس وقت اسلام کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں، وہ اسلام کی تائید میں استعمال ہونے لگیں تاریخ بتاتی ہے کہ فی الواقع ایسا ہی پیش آیا۔