← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
بدنامی سے بچت
Urdu · 8 min
کسی کارخانہ کی خوش نامی اس کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح اسلام کی اشاعت کے لیے اس کی دعوتی تصویر بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اسلام میں یہ بات آخری حد تک مطلوب ہے کہ اسلام کی دعوتی تصویر کو بگڑنے سے بچایا جائے۔ اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت ہر دوسری چیز پر مقدم ہے، حتیٰ کہ تو ہین رسالت اوراہانت اسلام جیسے جذباتی مواقع پر بھی۔
اس معاملہ کی وضاحت کے لیے یہاں عبداللہ بن ابی بن سلول کی مثال درج کی جاتی ہے۔ یہ شخص مدینہ کے قبیلۂ خزرج کا سردار تھا۔اس کی غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر مدینہ کے لوگوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنانا چاہا۔ اس کے لیے تاج کی تیاری بھی شروع ہو گئی — عین اسی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں آتے ہی لوگوں نے آپ کو اپنا بڑا بنالیا۔ عبداللہ بن ابی کو اس سے بہت تکلیف پہنچی۔ حالات کے دباؤ کے تحت اس نے رسول اللہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ تاہم اس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغض پیدا ہو گیا۔ وہ اپنے دل کو تسکین دینے کے لیے ساری عمر آپ کی تو ہین و تحقیر کر تا رہا۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لیے نکلے۔ آپ ایک گدھے پر سوار تھے۔ راستہ میں عبداللہ بن ابی کا قلعہ نما مکان آیا جس کا نام مزاحمِ تھا۔ اس وقت عبداللہ بن ابی کے گرد اس کے قبیلہ کے لوگ بیٹھے ہو ئے تھے۔ آپ وہاں سواری سے اتر پڑے اور عبداللہ بن ابی کے پاس پہنچ کر اس کو سلام کیا۔ آپ تھوڑی دیر وہاں بیٹھے اور قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
راوی (اسامہ بن زید بن حارثہ) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی بے پروائی کے ساتھ چپ چاپ سنتا رہا۔ جب آپ فارغ ہو چکے تو عبداللہ بن ابی نے کہا اے شخص، آپ کی یہ بات اچھی تو ہے، لیکن اگر وہ حق ہے تو آپ اپنے گھر میں بیٹھیں اور جو شخص اس کو سننے کے لیے آپ کے پاس آئے اس کو سنائیں، اور جو شخص آپ کے پاس نہ آئے تو آپ اس کو تکلیف نہ دیں۔ اور ایسے شخص کی مجلس میں اس کا ذکر نہ کریں جو اس کو ناپسند کرتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ بن ابی کا یہ قول سخت ناگوار ہوا مگر آپ خاموشی سے آگے بڑھ گئے(سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 219)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
(2)
غزوۂ احد (شوال3ھ) میں قریش کا لشکر مکہ سے چل کر مدینہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے مشورہ فرمایا۔کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کریں۔ دوسرے لوگوں نے کہا کہ شہر کے اندر ٹھہر کر مقابلہ کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی نے یہی دوسری رائے پیش کی۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے گروہ کی رائے کا لحاظ فرمایا اور ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہو ئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جب آپ مدینہ اور احد کے درمیان پہنچے تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کو لے کر اسلامی فوج سے الگ ہو گیا۔ اس طرح اس نے بے حد نازک موقع پر سخت بے وفائی کا ثبوت دیا۔ مزید یہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بھی کی۔ اس نے حقارت آمیز لہجہ میں کہا کہ اس شخص نے دوسروں کی بات مانی اور میری بات نہیں مانی۔ لوگو، میں نہیں سمجھتا کہ ہم یہاں کس لیے اپنے آپ کو ہلاک کریں أَطَاعَهُمْ فَخَرَجَ وَعَصَانِي، وَاللهِ مَا نَدْرِي عَلَامَ نَقْتُلُ أَنْفُسَنَا هَاهُنَا أَيُّهَا النَّاس ُ ( تفسیر الطبری، جلد6، صفحہ222)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
(3)
غزوۂ بنی المصطلق شعبان6ھ میں ہوا۔ اس مہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عبداللہ بن ابی بھی تھا۔ سفر سے واپسی میں ایک واقعہ پیش آیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قافلہ نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ صبح کو اندھیرے میں روانگی ہو ئی۔ اس وقت ایک اتفاقی غلطی سے حضرت عائشہ ، جو آپ کے ساتھ شریک سفر تھیں۔ قافلہ میں پیچھے رہ گئیں۔ سورج نکلنے کے بعد ایک صحابی صفوان بن معطّل سُلَمی اس جگہ سے گزرے۔ انھوں نے حضرت عائشہ کو اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور خود اس کی نکیل پکڑ کر آگے چلتے ہو ئے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا۔ اس واقعہ کو عبداللہ بن ابی نے خوب استعمال کیا۔ حضرت عائشہ کا اس طرح تنہا ایک نوجوان کے ساتھ آنا ایک ہنگامی سبب سے تھا۔ مگر عبداللہ بن ابی نے اسے برے معنی پہنا کر خوب تقریریں کیں۔ اس نے اس واقعہ کو پیغمبر کی کردار کشی کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا۔ یہاں تک کہ پورے مدینہ میں آپ کے خلاف شک و شبہ کی فضا ہو گئی۔
اس واقعہ کی تفصیلات سیرت اور تفسیر کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ جس شخص نے اس بہتان تراشی میں سب سے بڑا حصہ ادا کیا اس کے لیے عذابِ عظیم ہے (24:11)۔ اس آیت میں جس شخص کے لیے سب سے بڑا عذاب کا ذکر ہے، اس سے مراد عبداللہ بن ابی ہے۔ مگر اس کو دنیا میں کوئی سزا نہیں دی گئی۔ اس کے معاملہ کو تمام تر آخرت کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ چنانچہ وہ مدینہ میں اپنی طبعی موت سے مرا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
(4)
غزوۂ بنی المصطلق(5ھ)سے واپسی میں ایسا ہوا کہ پانی کے ایک چشمہ پر پانی لینے کے لیے مسلمانوں کا ہجوم ہو گیا۔ اس وقت ایک مہاجر اور ایک انصار آپس میںلڑ گئے۔ مہاجر نے کہا یا لَلمہاجرین، انصاری نے کہایالَلانصار۔ یہاں تک کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مداخلت فرما کر اس کو ختم کیا۔
عبداللہ بن ابی پہلے سے اس بات پر خوش نہ تھا کہ مکہ کے مسلمانوں کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ بلا کر انہیں یہاں پناہ دی جائے۔ اس واقعہ سے فائدہ اٹھا تے ہو ئے اس نے اپنے قبیلہ والوں کے سامنے اشتعال انگیز تقریر کی۔ اس میں اس نے کہاکہ اپنے کتّے کو پال کر موٹا کرو کہ وہ تمہیں کوکاٹ کھائے۔ خدا کی قسم ، اگر ہم مدینہ واپس پہنچ گئے تو عزت والا ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا۔ (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 291)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عبداللہ بن ابی کی یہ باتیں سن کر صحابہ کو غصہ آگیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں دَعْهُ، لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَه ُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر4905)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it