اسلام ایک دعوت ہے ، نہ کہ محض ایک تعزیری قانون۔ اسلام کی اولین دلچسپی خدا کے بندوں کو خدا کا پرستار بنانا ہے ، نہ کہ انہیں مجرم قرار دے کر انہیں کوڑا مارنا اور گولی اور پھانسی کا نشانہ بنانا۔
تعزیری قانون کو اس سے دلچسپی نہیں ہوتی کہ لوگ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ مگر دعوت کا مزاج اس کے بالکل برعکس ہے۔ داعی لوگوں کو ختم کرنے کے بجائے لوگوں کو اپنے اندرضم کرنا چاہتاہے۔ اس لیے داعی ایسا نہیں کرتا کہ لوگوں کے خلاف اندھا دھند سزائیں جاری کرنا شروع کردے۔ وہ یک طرفہ طور پر صبرو اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ انسان کے ’’ حال‘‘ سے زیادہ انسان کے ’’مستقبل‘‘ پر نظر رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کو معاف کرتا ہے تاکہ لوگوں کے اندر اس کے بارے میں نرم گوشہ پیدا ہو، وہ لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کا انداز اختیار کرتا ہے تاکہ جو لوگ آج اس کے ہجو گو ہیں ، کل اس کے مدح خواں بن جائیں ۔ جو لوگ ابھی اس کے ساتھی نہیں بنے، آئندہ وہ اس کے شریک اور ساتھی بن جائیں۔ داعی کا کام غیر کو اپنا بنانا ہے، نہ کہ جو غیر دکھائی دے اس کا دشمن بن کر صرف اس کی ہلاکت کے درپے ہوجانا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.