پیغمبر کا نمونه
قرآن سے معلوم ہو تا ہے کہ پیغمبرِ اسلام اور دوسرے پیغمبروں کا استقبال ان کی قوموں نے بہت برے انداز میں کیا۔ انھوں نے ان کا مذاق اُڑایا۔ ان کی تحقیر و تذلیل کی۔ ان کے اوپر جھوٹے الزامات لگائے، وغیرہ۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا کہ اس قسم کے مجرمین کو گردن زدنی قرار دے کر فوراً انہیں قتل کردیا جائے۔ بلکہ دلیل کے ذریعہ ان کی بات کی کاٹ کی گئی۔ مثال کے طور پر اس سلسلہ میں ایک آیت یہ ہے۔
وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ. وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ (68:51-52)۔اور وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص ضرور دیوانہ ہے۔ حالانکہ وہ صرف نصیحت ہے سارے عالم والوں کے لیے۔
ان آیات پر غور کیجیے۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ لوگ خدا کے پیغمبر کو مجنون کہتے ہیں ، اس لیے انہیں فوراً قتل کردو۔ بلکہ دلیل کی زبان میں ان کی بات کو رد کیا گیا۔ اس آیت کا مطلب دوسرے لفظوں میں ، یہ ہے کہ اے پیغمبر کو مجنون کہنے والو، پیغمبر کے کلام کو دیکھو۔ کیا مجنون کا کلام ایسا ہو تا ہے۔ جس قرآن کو وہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے، وہ سراپا نصیحت ہے۔ اس میں ساری انسانیت کے لیے بہترین پیغام ہے۔
کیاکوئی جنون والا آدمی کتاب لا سکتا ہے جس میں اتنی اعلیٰ تعلیمات درج ہوں۔
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ آپ نے ہجو اور استہزاء کے مواقع پر یا تو صبر کیا ،یا دلیل کی زبان میں ان کا رد کیا۔
آپ قاتلِ عالم نہیں تھے بلکہ رحمتِ عالم تھے(الانبیاء، 21:107)۔ اور رحمت ِ عالم وہی شخص ہوسکتا ہے جو لوگوں کی ایذا رسانی کے باوجود انہیں معاف کرے، جو لوگوں کی طرف اشتعال انگیز سلوک کے باوجود ان کے لیے رحمت کا پیکر بنا رہے۔ آپ کی یہی بلند کرداری ہے جس کی شہادت قرآن میں ان لفظوں میں دی گئی ہے وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ(68:4)۔یعنی،بے شک تم بلند اخلاق پر ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔