حالات سے بلند هو كر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مکی دور میں پیغمبر اسلام کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا تھا، جو سلوک دوسرے پیغمبروں کے ساتھ کیا گیا، یعنی استہزا (الحجر 15:11)۔ مگر پیغمبرِ اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہمیشہ منفی واقعات کا جواب مثبت انداز میں دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں اس طرح آئی ہے، پیغمبر اسلام نے کہا أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ یعنی کیا تم کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو کس طرح دور کررہا ہے ۔ مجھے وہ مذمم کہہ کر شتم کرتے ہیں، مذمم کہہ کر وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے لوگ اپنی بڑھی ہوئی مخالفت کی بنا پر اس کو پسند نہیں کرتے کہ وہ میرا اصل نام بولیں ، اور میرے خلاف جو کہنا چاہتے ہیں، وہ میرانام لےکرکہیں۔ انھوں نے مخالفت کے جوش میں بطور خود میرا نام محمدکے بجائے مذمم رکھ دیا،اور وہ مذمم کا نام بول کر میرا سب و شتم کرتے ہیں۔ یعنی وہ سب و شتم تو کرتے ہیں، لیکن جس شخص کی وہ سب و شتم کرتے ہیں، اس کا نام انھوں نے بطور خود مذمم رکھ دیا ہے۔ اس طرح ان کے اپنے کہنے کے مطابق ان کی بات کسی ایسے شخص پر پڑتی ہے جس کا نام مذمم ہو، وہ شخص جس کا نام محمد ہے اس پر ان کی بات پڑتی ہی نہیں۔
یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔ پیغمبر اسلام چوں کہ مکمل طور پر مثبت سوچ پر قائم تھے اس لیے انھوں نے ایک لطیف اسلوب میں قریش کے سب و شتم کو بے حقیقت کردیا۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ میرا اصل نام لے کر مجھے کچھ نہیں کہتے تو وہ خود ہی اپنے سبّ و شتم کو کسی اور کے اوپر ڈال رہےہیں۔ یعنی کسی مفروضہ مذمم پر، نہ کہ اس شخص پر جس کا نام اس کے ماں باپ نے محمد رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسوۂ محمدی میں سب و شتم پر مشتعل ہونا نہیں ہے، اور نہ شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ بلکہ اس سے لطیف پیرائے میں اعراض کرنا ہے۔ یہ بلند اخلاقی کا معاملہ ہے، نہ کہ قانونی سزا کا معاملہ۔
یہی معاملہ شاتم رسول کی سزا کا ہے۔ مسلم فقہاء نے عام طور پر اتفاق کرلیا ہے کہ شتم رسول ایک قابل دست اندازی جرم (cognizable offence) ہے۔ایسے شخص کو بطور حد قتل کیا جائے گا ’’ قَالَ ابْنُ المُنْذِرِ أَجْمَعَ عَوَامُّ أَهْلِ العِلْمِ عَلَى أَنَّ حَدَّ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ القَتْلُ‘‘ (الصارم المسلول على شاتم الرسول، ابن تیمیہ، صفحہ 3)۔ یعنی اکثر اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کیا، اس کی حد قتل ہے۔ اس مسئلہ میں اگرچہ بڑے بڑے علماء کے نام ہیں، لیکن یہ مسئلہ بلاشبہ ایک اجتہادی خطا کا مسئلہ ہے۔ اب علمائے اسلام پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ اعلان کریں کہ شاتم رسول کے قتل کا مسئلہ شرعی مسئلہ نہ تھا، وہ اجتہادی خطا کا مسئلہ تھا۔ اب ہم اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کرتے ہیں۔ جس انسان کو شاتم رسول قرار دیا جاتا ہے، وہ زیادہ درست طور پر مدعو ہوتا ہے، اور مدعو کے لیے نصیحت اور دعوت ہے، نہ کہ قتل۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔