← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
چوتھا باب مصلحت دعوت
Urdu · 8 min
مصلحت دعوت
عبداللہ بن ابی مدینہ کا ایک منافق مسلمان تھا۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت عناد تھا۔ چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت بے ہودہ قسم کی گستاخیاں کیں۔ آپ کی ازواج مطہرات کے خلاف گھناؤ نے الزامات لگائے۔ حتٰی کہ اس کا مجرم اکبر ہونا خود قرآن (النور،24:11) میں ثبت کر دیا گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عبداللہ بن ابی کے اس مجرمانہ فعل کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کو قتل کردوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اگر ایسا کروں تو لوگ چرچا کریں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور آپ کی ازواج مطہرات کی کردار کشی نہایت سنگین بات ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنّت بتاتی ہے کہ ایک اور بات ہے جو اسلامی نقطۂ نظر سے اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اور وہ ہے— لوگوں کو اسلام کی تصویر بگاڑنے کا موقع نه دینا۔
ایک گستاخ رسول کو سزا دینے میں اگر یہ اندیشہ ہو کہ لوگ اس کو بہانہ بنا کر اسلام کی دعوتی تصویر کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے، تو ایسی حالت میں اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت کو ترجیح دی جائے گی اور گستاخ رسول کی سزا کے معاملہ کو اللہ کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ اسلام میں سب سے زیادہ قابل ِ لحاظ چیز دعوت اور دعوت كا مفاد ہے۔ بقیہ چیزوں کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔
اسلام کے اس تقاضے کی روشنی میں موجودہ مسلمانوں کے اس شدید ردِّعمل پر غور کیجیے جو انہوں نے سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف ساری دنیا میں ظاہر کیا ہے۔ اس معاملہ میں یقینی تھا اور ہے کہ سلمان رشدی کو اگر قتل کردیا جائے، یا اس کے خلاف قتل کا ’’فتویٰ‘‘ جاری کیا جائے تو عالمی پریس اور غیر مسلم صحافت اس کو بہت بڑے پیمانے پر اسلام کی تصویر بگاڑنے کے لیے استعمال کرے گا۔
عبداللہ بن ابی کے قتل پر قدیم زمانہ میں اسلام کو بد نام کرنے کا جو عمل کیا جاتا اس کا اثر مدینہ یا زیادہ سے زیادہ عرب تک محدود رہتا، مگر سلمان رشدی کے معاملہ میں اس کا زبردست اندیشہ تھا کہ اس کے خلاف قتل کے فتویٰ کو لے کر سارے کرۂ ارض پر اسلام کو بدنام کرنے کی مہم جاری کردی جائے گی، جیسا کہ فی الواقع ہوئی۔
سلمان رشدی کے معاملہ میں غور کرنے کا سب سے زیادہ قابل ِ لحاظ پہلو یہی ہے مگر یہی وہ پہلو ہے جس کو موجودہ مسلم رہنماؤں نے اور ان کی پیروی میں عام مسلمانوں نے سب سے زیادہ نظر انداز کیا ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں نے بلاشبہ اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے ، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ۔ رسول کے نام پر رسول کے طریقہ کی خلاف ورزی کی اس سے زیادہ سنگین مثال شاید پوری اسلامی تاریخ میں نہیں ملے گی۔
نیویارک کے ٹائم میگزین(20مارچ1989ء) میں اُٹا وہ کے عبدالحسین ماجد کفائی کا خط چھپا ہے۔ وہ سلمان رشدی کی کتاب کو قابلِ مذمت کتاب قرار دیتے ہو ئے لکھتے ہیں کہ زیادہ بہتر تھا کہ رشدی کو زندہ رہنے دیا جائے اور تمام لوگ اس پر لعنت کریں، بمقابلہ اس کے کہ رشدی کو قتل کردیا جائے اور تمام لوگ مسلمانوں پر لعنت کریں
unverifiedAttribution could not be verified automatically
''It is better to let Rushdie live and be condemned by fanatical Muslims rather than have him killed and, as a result, the entire Muslim world be cursed.''
راقم الحروف عبدالحسین ماجد کفائی کے اس تبصرے سے متفق ہے ۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں مقامِ محمود پر فائز کیے جاچکے ہیں۔ آپ کی شخصیت اس سے اعلیٰ و ارفع ہے کہ کسی ’’رشدی‘‘ کی تحریریں اس کو ادنی درجہ میں بھی داغدار کر سکیں۔
مگر رشدی کے خلاف مسلمانوں نے قتل کا فتویٰ دے کر جو ہنگامہ برپا کیا۔ اس نے اسلام معاندین کو اس بات کا سنہری موقع دے دیا کہ وہ اس کو لے کر اسلام کو بد نام کریں۔ وہ تمام دنیاکو یہ تاثر دیں کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے، وہ قتل و خون کا دین ہے۔ اس اعتبارسے دیکھا جائے تو سلمان رشدی کے خلاف ہنگامہ کر کے مسلمانوں نے پایا کچھ نہیں، البتہ انھوں نے ایک بڑی چیز کھو دی اور جو چیز انھوں نے کھو ئی و ہ وہی چیز ہے جو اسلام میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ حیثیت رکھتی ہے اور وہ ہے دعوت اسلامی کے مواقع۔
قدیم عرب میںجو’’ میڈیا‘‘ اہل کفر کے پاس تھا ’وہی میڈیا اہل ِ اسلام کے پاس بھی تھا۔ اس معاملہ میں دونوں برابر تھے۔ موجودہ زمانہ میں صورت حال بالکل مختلف ہوگئی ہے۔ آج عالمی صحافت کا زمانہ ہے ۔ مگر صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس ایک بھی ایسا اخبار یا ایسا میگزین نہیں جو عالمی سطح پر پھیلے اور تمام قوموں کے درمیان پڑھا جائے۔ دوسری طرف غیر مسلم اقوام کا حال یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر عالمی صحافت پر قابض ہیں۔ ان کے پاس ایسے اخبار ورسائل ہیں جو کروروں کی تعداد میں چھپتے ہیں اور ساری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں۔
اس فرق نے بے حد نازک صورت حال پیدا کردی ہے۔ وہ یہ مسلمانوں کی بات صرف ان کے مقامی یا گروہی پرچوں میں چھپتی ہے، وہ اس کو خود ہی چھاپتے ہیں اور خود ہی پڑھتے ہیں۔ جبکہ فریق ثانی کا یہ حال ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باتوں کو اپنے عالمی پرچوں میں چھاپتا ہے اور دن رات کے اندر ساری دنیا میں پھیلادیتا ہے۔
ایسی صورت حال میں مسلمانوں کو نازک معاملات میں ہنگامہ آرائی کرنے سے انتہائی حد تک پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ موجودہ حالت میں ان کی ہنگامہ آرائی کا کو ئی مثبت فائدہ تو ان کو نہیں پہنچے گا، البتہ یہ منفی نقصان ہوگا کہ غیر مسلم عالمی صحافت اس کو شوشہ بنا کر ساری دنیا میں انہیں بدنام کرے گی۔ وہ بے بسی کے ساتھ اپنی اور اسلام کی بدنامی کو دیکھیں گے اور اس کے دفعیہ کے لیے کچھ نہ کر سکیں گے۔