سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کی موجودہ تحریکِ ناموس رسول کی حفاظت کے نام پر چل رہی ہے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو اس تحریک نے صرف رسول کی ناموس کو پامال کرنے کا کام انجام دیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی امتیازی حیثیت، قرآن کے مطابق آپ کا پیغمبر رحمت ہونا ہے۔ مگر اس نام نہاد تحریک نے آپ کا تعارف دنیا کے سامنے ، نعوذباللہ ، پیغمبر فساد کے روپ میں پیش کیا ہے۔ غالباً یہی وہ صورت حال ہے جس کی بابت شاعر اسلام نے کہا تھا
امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں
سلمان رشدی کے خلاف ایجی ٹیشن میں مسلمانوں نے جگہ جگہ تشدد کے مظاہرے کیے ہیں۔ انھوں نے دوسروں کے جان و مال کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس قسم کا فعل نہ صر ف کرنے والے کے لیے نا جائز ہے بلکہ وہ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ازالۂ حیثیت عرفی کا درجہ رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر لندن کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ 2جولائی 1989کی صبح کو لندن کی ایک بہت بڑی کتابوں کی دکان میں بم پھینکا گیا جس کے نتیجہ میں اس کی عمارت کا ایک حصہ برباد ہو گیا۔ شبہ کیا جاتا ہے کہ یہ بم اینٹی رشدی احتجاجیوں نے پھینکا تھا
''Early this morning, one of the largest book stores in central London- Collet's- was partially destroyed by firebomb suspected to have been thrown by anti-Rushdie protesters.'' (p.14).
یہ ٹائمس آف انڈیا (7جولائی 1989)کی خبر ہے۔ قومی آواز(7 جولائی1989)کی خبر میں یہ اضافہ ہے کہ لندن کی اس دکان سے کرسمس کے بعد سے’’شیطانی آیات‘‘ کی کوئی ایک بھی جلد فروخت نہیں کی گئی(صفحہ2)۔
اس قسم کے واقعات جدید انسان کے لیے وحشت اور بربریت کے ہم معنی ہیں۔ مسلمان اگر ان باتوں کو اپنی قومی سرکشی کے نام پر کرتے تو وہ ان کے قومی خانہ میں لکھا جاتا۔ مگر وہ ان کو پیغمبر اسلام کے نام پر کر رہے ہیں ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے خانہ میں لکھا جائے۔ لوگ یہ سمجھیں کہ پیغمبر اسلام نے اپنے پیرؤوں کو جو تعلیم دی ہے وہ یہی ہے۔ رشدی نے ’’شیطانی آیات‘‘ لکھ کر خود اپنے آپ کو بدنام کیا تھا، مگر مسلمان اپنی ان حرکتوں سے خود پیغمبر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں، اب ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ دونوں میں سے کون زیادہ بڑا مجرم ہے۔
چوتھا باب
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔