← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
پیغمبر اور مستہزئین
Urdu · 13 min
واقعات بتاتے ہیں کہ جس طرح دوسرے نبیوں کا استہزاء کیا گیااسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی استہزاء کیا گیا۔ اس سلسلہ میں بے شمار واقعات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب آپ کے ساتھ استہزاء اور اہانت کا معاملہ کیا گیا تو اس کےجواب میں آپ نے کیا کیا۔ تا کہ آپ کے بعد جب اس قسم کے واقعات پیش آئیں تو ہم اس معاملہ میںاسی اسوۂ نبوی کو اختیار کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اعتبار سے ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ اور یقیناً اس معاملہ میں بھی ہمیں اسی نمونہ کو اختیار کرنا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی عمل سے ہمارے لیے چھوڑا ہے۔
حدیث اور سیرت کی کتابو ںمیں اس نوعیت کے جو واقعات ہیں ، ان کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت سا منے آتی ہے کہ آپ نے ان واقعات کو مسئلہ کی نظر سے دیکھا، نہ کہ سادہ طور پر محض گستاخی کی نظر سے۔ کسی واقعہ کو مسئلہ کی نظر سے دیکھا جائے تو اس سے حل تلاش کرنے کا ذہن پیدا ہو تا ہے۔اس کے بر عکس اگر اس کو گستاخی کی نظر سے دیکھیے تو صرف انتقام کا جذبہ ابھرے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتا تا ہے کہ آپ نے اس طرح کے واقعات کو کبھی گستاخی اور تو ہین کی نظر سے نہیں دیکھا اور نہ کبھی ان کا انتقام لینے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں آپ کی کئی سنتیںہمیں ملتی ہیں۔ اور یہ بالکل فطری ہے۔ کیونکہ جب مسئلہ کو حل کرنے کی نظر سے دیکھا جائے تو حالات کے اعتبار سے لازماً اس کے طریقے مختلف ہو جائیںگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1۔اس سلسلہ میں سب سے پہلی قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ’’ گستاخی‘‘ کے واقعات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے مسلمان مستقل اور مسلسل طور پر اختیار کیے ہو ئے ہیں۔ یعنی گستاخ آدمی کے خلاف شور وغل اور ایجی ٹیشن کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بار بار گستاخی اور اذیت رسانی کے واقعات پیش آئے، مگر ایک بار بھی آپ نے ان کے خلاف عمومی احتجاج کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔
اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ گستاخی کی بات کو عوامی ایجی ٹیشن کا موضوع بنانا خودگستاخ شخص کے ساتھ تعاون کرنے کے ہم معنی ہے۔ کیونکہ اس طرح اس کی بات مزید پھیلتی ہے، وہ مزید شہرت حاصل کرتی ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں عوامی ایجی ٹیشن کا الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا (counter productive) ہے ۔
اس کی ایک مثال سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات(Satanic Verses) کا معاملہ ہے۔ یہ کتاب بلاشبہ ایک بے ہودہ کتاب ہے۔ عام حالات میں اس کوبمشکل چند ہزار آدمی پڑھتے ۔ مگر مسلمانوں کے ناقابل فہم حد تک بے معنی ایجی ٹیشن کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انگریزی کتابوں کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب(Best Seller)بن گئی۔ نیویارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ٹائمس آف انڈیا(17مارچ1989) میں یہ خبر شائع ہو ئی ہے کہ نیویارک ٹائمز کے جائزے کے مطابق موجودہ ناولوں میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب شیطانی آیت ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
'''Satanic Verses' has become the no. 1 book on The New York Times best-seller list of hard cover fiction.''
ٹائم میگزین نے اپنے شمارہ 27فروری1989میں رشدی کی کتاب کے بارے میں اپنی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس کو پڑھ کر ٹائم کے دفتر میں 240خطوط آئے۔ ان میں سے ایک خط مارگریٹ ڈورٹیز (Margareta du Rietz)کا تھا ۔انھوں نے اپنے خط میں لکھا کہ بہت ہی کم لوگوں نے اس کتاب کی طرف تو جہ کی تھی۔ مگر خمینی کا بھلا ہو ، اب وہ ایک عالمی شہرت یافتہ کتاب ہے۔
''Very few took note of this novel. Now, thanks to Khomeini, it is world famous.''
سلمان رشدی نے اپنےبے ہودہ خیالات صرف اپنی کتاب میں لکھے تھے۔ مگر مسلمانوں کے شورو غل کا نتیجہ یہ ہوا اس کی باتیں تمام دنیا کے اخبارات ورسائل میں چھپیں۔ بے شمار لوگ غیر ضروری طور پر اس کی کتاب کو پڑھنے کے شائق ہو گئے۔ اب امریکا میں 20زبانوں میں اس کتاب کا ترجمہ شائع کیا جارہا ہے تا کہ جولوگ انگریزی نہیں جانتے وہ بھی اس ’’ شہرت یافتہ‘‘ کتاب کو پڑھ سکیں۔ مسلمانوں کے اس احمقانہ اقدام کا آخری احمقانہ نتیجہ یہ ہے کہ ’’سلمان رشدی کو قتل کرو‘‘ کے نام پر جو ہنگامہ کھڑا کیا گیا، اس میں خود مسلمان درجنوں کی تعداد میں قتل اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہو گئے۔ اور خود سلمان رشدی ادبی ہیرو بن کر برطانیہ کی شاہی حفاظت میں بیٹھا ہوا ہے۔
2۔اہانتِ رسول کے اس طرح کے واقعات پر مسلم رہنماؤںکی طرف سے جو بیانات دیے جاتے ہیں، ان میں عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس سے کروروں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو ئے ہیں۔ یہ سراسر ایک غیر اسلامی جملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مواقع پر کبھی یہ الفاظ استعمال نہیں کیے۔ مزید یہ کہ اسلام کے ’’کریمنل کوڈ‘‘ میں ایسی کو ئی دفعہ نہیں ہے جس میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو نے کو فوجداری جرم قرار دیا گیا ہو اور اس پر موت کی سزا مقرر کی جائے۔ یہ بلاشبہ شریعتِ اسلامی میں ایک اضافہ ہے کہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو نے کو ایک قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیا جائے۔ اس قسم کے بیانات دینا سب سے پہلے دینے والے کو مجرم ثابت کرتا ہے ، نہ کہ گستاخی کرنے والے کو۔
3۔ سلمان رشدی کے سلسلہ میں مسلم رہنماؤں کی طرف سے جو بیانات شائع ہو ئے ہیں ان میں عام طور پر ’’ جہنم رسید‘‘کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ ہر بیان باز لیڈر جوش وخروش کے ساتھ یہ اعلان کر رہا ہے کہ سلمان رشدی کے جرم کے نتیجہ میں اس کو جلد از جلد جہنم رسید کیا جائے۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
مسلم رہنماؤ ں کے یہ الفاظ سرکشی اور بغاوت کے ہم معنی ہیں۔ کیونکہ جہنم رسید کرنے کا اختیار صرف خدا کو ہے ، نہ کہ کسی انسان کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے کافروں اور مشرکوں اور منافقوں نے آپ کے خلاف بد ترین قسم کے جرائم کیے۔ مگر ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ بولیں کہ فلاں شخص کو قتل کر کے اس کو جہنم رسید کرو۔ ایسے الفاظ بولنا گو یا اپنے آپ کو خدا کی سیٹ پر بیٹھانا ہے۔ رشدی نے اگر پیغمبر کی ذات پر حملہ کیا ہے تو ایسے جملے خود خدا کی ذات پر حملہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ اب ایسے لوگ خود سوچیں کہ دونوں میں سے کون سا جرم زیادہ بڑا ہے۔
4۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اس طرح کے معاملات میں پیغمبر کا طریقہ ’’ گستاخی‘‘ کے خلاف ایجی ٹیشن کرنے کا نہ تھا بلکہ مسئلہ کو حل کرنے کا تھا۔ چنانچہ حالات کے اعتبار سے آپ نے اس کے حل کے مختلف انداز اختیار کیے۔
ایک عام حل یہ تھا کہ ان کو سادہ طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا کہ اے پیغمبر! تم منکروں اور منافقوں کی بات نہ مانو۔ اور ان کے ستانے کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ بھروسہ کے لیے کافی ہے(33:48)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
التفسیر المظہری میں اس آیت کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ عبداللہ بن عباس نے اورقتادہ نے کہا کہ لوگ تم کو جو تکلیف دے رہے ہیں اس پر صبر کرو۔ مطلب یہ کہ ان کی ایذا رسانی سے صرف نظر کرو ۔ اس کی پروا نہ کرو، اور نہ اس سے ڈرو ( ’’ اجْعَلْ إِيذَاءَهُمْ إِيَّاكَ فِي جَانِبٍ وَلَا تُبَالِ بِهِ وَلَا تَخَفْ مِنْهُ‘‘)۔ زجاج نے کہا کہ ان سے بحث نہ کرو۔ ان کی باتوں کے پیچھے نہ پڑو۔ اور نہ تم خود انہیں تکلیف پہنچانے کی کوشش کرو۔ اور اللہ پر بھروسہ کرو، وہ یقینا تمہارے لیے کافی ہے (التفسیر المظہری، جلد7، صفحہ 355)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی پیغمبرانہ سنت ہے جس کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لفظوں میں بیان فرمایا کہ باطل کو ہلاک کرو اس کے بارے میں چپ رہ کر ’’ أَمِيتُوا البَاطِلَ بِالصَّمْتِ عَنْهُ‘‘ (دیکھیے،حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، جلد1، صفحہ 55)۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر حالات میں باطل کی موت کے لیے یہ کافی ہو تا ہے کہ اس کی طرف سے خاموشی اختیار کر لی جائے۔ ایسا طریقہ اختیار کرنے کے بعد باطل اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ پھر جو سانپ لاٹھی کے بغیر مر سکتا ہو، اس کے لیے لاٹھی استعمال کرنے کی کیا ضرورت۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
5۔ایک طریقہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ مخالفین کی باتوں کا جواب دلیل کی زبان میں دیا جائے۔ قدیم زمانہ میں شعر کو وہ مقام حاصل تھا جو موجودہ زمانہ میں صحافت کو حاصل ہے۔ صحافت موجودہ زمانہ میں کسی بات کو وسیع حلقہ میں پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ یہی کام قدیم زمانہ میں اشعار سے لیا جاتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے مخالفین اشعار کی صورت میں آپ کی مذمت کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ام جمیل نے آپ کے خلاف یہ اشعار کہے
hadithQuotes a hadith
مُذَمَّمًا عَصَيْنَا ... وَأَمْرَه أَبَيْنَا ... وَدِينَهُ قَلَيْنَا
other sourceWords of another person or source
(سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ356)۔
یعنی محمد مذمّت کیے ہو ئے ہیں ہم ان کا انکار کرتے ہیں۔ ہم ان کے حکم کو نہیں مانتے۔ اور ہم کو ان کے دین سے بغض ہے۔
مكه ميں آپ نے اس قسم كي باتوں كا كوئي جواب نهيں ديا، مدينه آنے كے بعد اس طرح کے مواقع پر مسلمانوں کے شاعر حضرت حسّان بن ثابت شعر کا جواب شعر میں دیتے تھے۔ مثلاً ابن ہشام نے اپنی سیرت کی کتاب میں ایک مشرک عورت کا ذکر کیا ہے۔ جس نے اسلام اور اہلِ اسلام پر عیب لگاتے ہو ئے کچھ اشعار کہے(فَقَالَتْ، تَعِيبُ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ)۔ مذکورہ مشرکہ کے ہجو کے جواب مین حسّان بن ثابت نے اسی بحر میں کچھ اشعار کہے۔ یہ دونوں قسم کے اشعار ابن ہشام نے اپنی سیرت کی کتاب میں نقل کیا ہے(سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ637)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح ایک موقع پرایک جاہلی شاعر نے اسلام کے خلاف کچھ باتیں کہیں ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسّان بن ثابت سے کہا کہ اے حسّان، اٹھو اور اس آدمی نے جو کچھ کہا ہے اس کا جواب دو(قُمْ يَا حَسَّانُ، فَأَجِبْ الرَّجُلَ فِيمَا قَالَ. فَقَامَ حَسَّانٌ)۔ چنانچہ حسان اٹھے اور انھوں نے بر جستہ کچھ اشعار وضع کر کے مذکورہ شخص کا جواب دیا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 564)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
6۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حنین میں )عباس بن مرداس کو چند اونٹ دیے۔ یہ اونٹ اس کو کم معلوم ہو ئے۔ چنانچہ وہ غصہ ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرنے لگا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ میری طرف سے اس کی زبان کاٹ دو۔ اس کے بعد لوگوں نے اس کو مزید اونٹ دیے یہاں تک کہ وہ راضی ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ تھا زبان کا کاٹنا جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھافَكَانَ ذَلِكَ قَطْعَ لِسَانِهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم (سیرت ابن ہشام، جلد4، صفحہ 141)۔
quoted sourceQuoted from another author or source
اس مثال سے معلوم ہو تا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اصل مسئلہ ہجو گو کو سزا دینے کا نہیں ہو تا تھا بلکہ اس کی زبان بند کرنا ہو تا تھا۔ حالات کے اعتبار سے آپ اس کے لیے کوئی ایک یا دوسری تدبیر اختیار فرماتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر کسی شخص کے متعلق یہ نظر آتا تھا کہ وہ مال پاکر چپ ہو جائے گا تو آپ اس کو مال دے کر اس کی زبان بندی فرماتے تھے۔
7۔ جب مکہ فتح ہوا تو مکہ کے مشرکین آپ کے سامنے لائے گئے۔ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر قسم کا ایذارسانی کا فعل کیا تھا۔ لفظی استہزاء سے لے کر عملی جارحیت تک کو ئی بھی ایسی برائی نہ تھی جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہ کی ہو۔ عام رواج کے مطابق ان سب کو قتل کر دینا چاہیے تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا بلکہ سب کو ایک طرف سے معاف کر دیا۔ اور فرمایا کہ جاؤ تم سب آزاد ہو اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر18276)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
راوی کہتے ہیں کہ مشرکین آپ کے پاس سے نکلے ، گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں۔ اس کے بعد وہ اسلام میں داخل ہو گئے فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر18275)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بتاتی ہے کہ اذیت پہنچانے والوں کے بارے میں کرنے کا ایک کام یہ ہے کہ انہیں معاف کر دیا جائے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب وہ پوری طرح اپنے قابومیں آچکے ہوں، اور ان کا جرم اتنا واضح ہو کہ خود عالمی رواج کے مطابق اس بات کا پورا حق حاصل ہو کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معافی کے بعد ان دشمنوں کا اسلام قبول کرلینا بتاتا ہے کہ وہ کون سی خاص حکمت تھی جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایسا فیّاضانہ سلوک کیا۔ وہ حکمت یہ تھی کہ بہترین موقع تھا جب کہ انہیں چھوڑ کر ان کو دوبارہ مسخر کر لیا جائے۔ جو لوگ ماضی میں اسلام کے دشمن تھے، ان کو مستقبل میں اسلام کا دوست اور حامی بنالیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان مجرموں کو معاف کر دیاتو گویا کہ آپ نے ان پر سب سے زیادہ سخت حملہ کیا۔ آپ نے ان کی سابقہ سرکشی اور عناد کو نفسیاتی طور پر قتل کر ڈالا۔ اس غیر معمولی سلوک نے ان کے مصنوعی انسان کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد ان کی ہستی میں جو چیز بچی وہ صرف فطری انسان تھا۔ اس فطری انسان نے عین اپنے اندرونی تقاضے کے تحت اسلام قبول کر لیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it