← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
فقہ سے استدلال
Urdu · 36 min
فقہاء عام طور پر یہ مسئلہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص پیغمبر خدا پر شتم کرے یا ان کے بارے میں گستاخی کے کلمات کہے تو اس کا لازماً قتل کردیا جائے، خواہ شتم کرنے والا مسلم ہو یا کافر۔ ملاحظہ ہو
opposing viewA view stated in order to be argued against
کتاب الام للشا فعی، شرح المنھاج، الروضۃ الندیۃ لصدیق حسن خان، الروض الباسم للشوکانی، کشف القناع عن متن الا قناع لمنصور بن یونس البہوتی، فقہ السنۃ للسید سابق، الفقہ علی المذاہب الا ربعۃ، التشریع الجنائی الا سلامی لعبدالقادر عودہ)وغیرہ۔
other sourceWords of another person or source
علامہ ابن تیمیہ نے اپنی مفصل کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں اسی مسلک کو دلیل و شواهد سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ یہ جمہور کا مسلک ہے۔ اور اس پر عام علماء اسلام کا اجماع ہے(صفحہ4-5)۔
other sourceWords of another person or source
جن لوگوں کی نظر فقہ کی کتابوں پر ہے، وہ جانتے ہیں کہ ان مسائل میں فقہاء زیادہ تر صرف رائے نقل کرتے ہیں، وہ اس کے دلائل بیان نہیں کرتے۔ ان مسائل میں فقہاء کا عام طریقہ یہ ہے کہ ابتداء ً اگر ایک معروف عالم کسی معاملہ میں ایک فتویٰ دے دے تو بعد کے لوگ مزید تحقیق کے بغیر بس اسی کو نقل کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ دعوی کر دیا جاتا ہے کہ اس پر فقہاء اور علماء کا اجماع ہے۔ حالانکہ یہ زیادہ تر مقلدانہ اتفاق رائے ہوتا ہے ، نہ کہ حقیقۃً علمی اور شرعی تعریف کے مطابق اجماع۔
اجماع کو متفقہ طور پر چار ادلّہ شرعیہ میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم قتل شاتم کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس پر علمائے امّت کا اجماع ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ جمہور علماء نے اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔
ایک صورت یہ ہے کہ کسی مسئلہ کے بارے میں مختلف زمانوں کے علماء و فقہاء جو رائیں دیتے رہے ہوں ، ان میں عمومی یکسانیت پائی جائے۔ اس کو جمہور کا اتفاق رائے کہا جاتا ہے۔ بالفاظ ِ دیگر، اہل علم کی اکثریت کی رائے۔
دوسری صورت وہ ہے جس کو اجماع کہا جاتا ہے۔ بیضاوی نے منہاج الاصول میں اجماع کی تعریف یہ کی ہے کہ وہ معاملات میں سے کسی معاملہ میں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عقد کے اتفاق رائے کا نام ہے’’ وَهُوَ اتِّفَاقُ أَهْلِ الْحَلِّ وَالْعَقْدِ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَمْرٍ مِنَ الْأُمُور ‘‘ (منہاج الاصول ، جلد1، صفحہ 37)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اجماع کے برحق ہونے پر اسلام کے شورائی حکم سے استدلال کیا جاتا ہے۔ مثلاً اس سلسلہ میں قرآن کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے کہ معاملات میں لوگوں سے مشورہ لو وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ(3:159)۔ اس آیت کو اصول اجماع کا ماخذ قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ مشورہ بھی اجماع کا ایک ضروری جزء ہے۔ اجماع حقیقۃً وہ ہے جو علمائے امت کے باہمی مشورہ کے بعد سامنے آئے۔ اس لحاظ سے اجماع کی شرط لازم اجتماع ہے۔ کیونکہ باہمی مشورہ سے کسی متفقہ رائے پر پہنچنا صرف اس وقت ممکن ہے جبکہ تمام متعلقہ افراد کسی ایک مقام پر جمع ہوں اور آپس میں بحث و گفتگو کے بعد ایک رائے تک پہنچنے کی کوشش کریں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قتل شاتم کے مسئلہ پر پوری تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ علماء اور فقہاء کا ایک مقام پر اجتماع ہو اور وہاں باہمی مشورہ کے بعد ایک متفقہ فیصلہ کیا جائے۔ اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس مسئلہ پر علماء و فقہاء کا اجماع ہے۔ البتہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس مسئلہ میں جمہور(اکثریت) کی رائے یہی ہے کہ شاتم کو قتل کر دیا جائے۔ مذکورہ نوعیت کے اتفاق رائے کو اگر اجماع کہا جائے تو وہ مجازی طور پر ہو گا ، نہ کہ حقیقی طور پر۔
تاہم ان بحثوں سے قطع نظر، دو نہایت اہم واقعہ اس مفروضہ اجماع سے ٹکراتا ہے۔ ایک یہ کہ سارے قرآن اور سارے ذخیرۂ حدیث میں کوئی بھی ایسی نص موجود نہیں جس میں صراحۃً یہ حکم دیا گیا ہو کہ جو شخص گستاخی یا شتم کا فعل کرے اس کو فوراً قتل کردو۔ اس کو ہر گز زندہ نہ چھوڑو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلمان۔ پورا قرآن اور تمام کتب حدیث اس طرح کے کسی صریح حکم سے خالی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ ، اپنی تمام تر شہرت کے باوجود ، صرف قیاسی یا استنباطی ہے، وہ کسی نص صریح سے براہ راست طور پر ماخوذ نہیں۔
دوسری بات یہ کہ علماء اور فقہاء کے حوالے سے جو مسئلہ بیان کیا جاتا ہے، وہ صرف پیغمبر اسلام کے لیے نہیں ہے۔ وہ خدا اور ملائکہ اور پیغمبر اسلام اور دوسرے تمام پیغمبروں کے لیے یکساں طور پر عام ہے، اس فقہی مسئلہ کے مطابق ، اصلی اور پورا حکم یہ ہے کہ جو شخص بھی، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر، اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کے بارے میں گستاخی کے کلمات کہے ، یا دین خدا پر کسی قسم کا عیب لگائے، تو اس کو بطور حد قتل کردیا جائے۔ اس کے بعد اس کو ہر گز زندہ نہ چھوڑا جائے، خواہ اس نے اپنے فعل سے توبہ کر لیا ہو۔
ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں کئی جگہ یہ بات لکھی ہے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ کوئی ذمی اگر رسول کو برا کہے یا اللہ کو برا کہے یا اسلام پر عیب لگائے اور ہمارے دین پر طعن کرے تو اس کا قتل واجب ہو جائے گا ’’ أَنَّ الذِّمِّيَّ إِذَا سَبَّ اللَّهَ أَوْ عَابَ الْإِسْلَامَ... وَطَعَنَ فِي دِينِنَا فَيَجِبُ قَتْلُهُ بِنَصِّ الْآيَة‘‘ ( صفحہ 17)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی کہ آپ اس شخص کا خون مباح کر دیتے تھے جو اللہ کو اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچائے اور دین میں طعن کرے ’’وهَذَا كَانَتْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ كَانَ يُهَدِّرُ دِمَاءَ مَنْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَطَعَنَ فِي الدِّين‘‘ ( صفحہ 16)۔واضح ہو کہ ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ ’’ یہ رسول اللہ کی سنت تھی‘‘ صحیح نہیں۔ یہ محض تعمیم (generalization)ہے۔ انھوں نے بعض استثنائی واقعہ کو عمومی واقعہ کے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اس نکتہ کی مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابن تیمیہ نے ایک حدیث قدسی کو نقل کیا ہے کہ اللہ كهتا انسان مجھ كو تکلیف دیتا ہے، یعنی وہ زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے اور میں ہی زمانہ ہوں يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر4826)۔اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ خدا اور رسول کو ایذاء پہنچانا، خواہ قلیل ہو یا خفیف ہر حال میں موجب قتل ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچانے کو سبب قتل قرار دیا ’’فَإِنَّهُ جَعَلَ مُطْلَقَ أَذَى اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ مُوجِبًا لِقَتْلِ رَجُلٍ مُعَاهَدٍ‘‘ (صفحہ73)۔ دوسری جگہ کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ پر سب وشتم کرے اور اگر مسلم ہے تو اس کا قتل واجب ہے ’’مَن سَبَّ اللَّهَ تَعَالَى فَإِن كَانَ مُسْلِمًا وَجَبَ قَتْلُهُ‘‘(صفحہ550)۔
quoted sourceQuoted from another author or source
ایک حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ ایک دلیل ہے جو اس کو واجب قرار دیتی ہے کہ نبیوں میں سے کسی نبی پر جو شخص سب وشتم کرے اس کو قتل کردیا جائے۔ اس حکم کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ وہ تو بہ طلب کیے بغیر قتل کردیا جائے گا، اور اس کا قتل بطور حدہے ’’فَهُوَ دَلِيلٌ عَلَى وُجُوبِ قَتْلِ مَنْ سَبَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، وَظَاهِرُهُ يُدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُقْتَلُ مِنْ غَيْرِ اسْتِتَابَةٍ، وَأَنَّ الْقَتْلَ حَدٌّ لَهُ‘‘ ( صفحہ 92)۔یہ حدیث اگرچہ خودابن تیمیہ کے اقرار کے مطابق ضعیف ہے۔ مگر موجودہ بحث کے اعتبار سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ابن تیمیہ نے اس کا حوالہ دے کر جس مسلک کو اختیار کیا ہے، وہ یہی ہے کہ کسی بھی پیغمبر پر شتم کرنے والے کو فوراً قتل کر دیا جائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابن تیمیہ ایک فصل کے تحت لکھتے ہیں کہ تمام پیغمبروں پر سب وشتم کرنے کا وہی حکم ہے جو ہمارے پیغمبر پر سب و شتم کرنے کا حکم ہے۔ یعنی ان سب پر سب و شتم کرنے والا کافر ہے، اور ایسے شخص کا خون حلال ہے’’الحُكْمُ في سَبِّ سَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ كَالحُكْمِ في سَبِّ نَبِيِّنَا... أَنَّ سَابَّهُمْ كَافِرٌ مُحَارِبٌ حَلاَلُ الدَّمِ‘‘( صفحہ 570-71)۔
other sourceWords of another person or source
عبدالقادر عودہ لکھتے ہیں کہ پیغمبروں اور فرشتوں کا استہزاء کرنے کے بارے میں فقہاء کی دو رائیں ہیں۔ ایک یہ کہ ایسے شخص کو بطورحد قتل کر دیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائیگی۔ دوسری رائے یہ کہ ایسا شخص مرتد ہے، اس کی تو بہ قبول کی جائے گی۔ لیکن اگر وہ دوبارہ ایسا کرے تو اس کی تو بہ قبول نہ ہو گی ’’سَبُّ الرُّسُلِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالاِسْتِهْزَاءِ بِهِمْ، وَفِي الْمَذْهَبِ رَأْيَانِ أَحَدُهُمَا يَرَى الْقَتْلَ حَدًّا فَلَا تُقْبَلُ التَّوْبَةُ. وَالثَّانِي يَرَى أَنَّهُ مُرْتَدٌّ يُقْتَلُ لِلرِّدَّةِ فَتُقْبَلُ تَوْبَتُهُ. مَن تَكَرَّرَتْ رِدَّتُهُ فَلَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ‘‘ (التشریع الجنائی،جلد2، صفحہ726-27)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حکم کی اس عمومی نوعیت کے اعتبار سے دیکھیے تو انسانی آبادی میں شاذو نادر ہی کچھ ایسے خوش قسمت افراد ملیں گے جو اس حکم کی زد میں نہ آتے ہوں۔ انسانوں کی بہت بڑی ا کثريت کسی نہ کسی اعتبار سے اس حکم عام کی گرفت میں آجائے گی۔ حتی کہ یہ فہرست اتنی لمبی ہو سکتی ہے کہ سب کے سب انسان قابل قتل قرار پائیں، اور پھر یہ حکم عملی طور پر کالعدم ہو جائے، کیونکہ جب سارے افراد قابل ِ قتل ہوں تو وہ کون ہوگا جو ان لوگوں کے خلاف اٹھے۔ اور کون ہوگا جو انھیں قتل کر کے ان کا خاتمہ کرے۔
فقہاء نے ایک طرف شتم بطور حد(لازمی طور پر)قتل قرار دی ہے۔ اور دوسری طرف شتم کی ایسی تعریف کی ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی اعتبار سے شاتم قرار پاتا ہے۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
اس تعریف کے مطابق، استہزاء کرنا ، تنقیص کرنا، عیب لگانا، اہانت کرنا، گستاخی کرنا، لمز کرنا، ایذا رسانی کرنا، خوض اور لعب کے تحت کچھ کہنا، سب کا سب شتم میں داخل ہے۔ اس کے مطابق، نہ صرف مذمم اور ابتر اور غیر عادل جیسے الفاظ بولنا سب و شتم ہے بلکہ رسول کی دی ہوئی خبر کی اشاراتی تحقیر کرنا بھی سب و شتم میں داخل ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ کیا ان صاحب کا خیال ہے کہ روم کے محل اور قلعے فتح ہوں گے’’ أَيَظُنُّ هَذَا أَنْ يَفْتَحَ قُصُورَ الرُّومِ وَحُصُونَهَا ؟‘‘( صفحہ 33-34)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
موجودہ صورت میں یہ مسئلہ کس قدر سنگین ہے، اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہاں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر4826)۔ یعنی انسان مجھ کو ایذا پہنچاتا ہے، وہ زمانہ کو برا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں۔ایک اور روایت کے مطابق ، یہ بھی اللہ کو برا کہنا ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ نے اپنا بیٹا لیا ہے، جیسا کہ مشرکین فرشتوں کے بارے میں کہتے ہیں اور مسیحی حضرت عیسیٰ کے بارے میں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حدیث میں جس قسم کی باتوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کو ایذاء پہنچانا ہے، وہ بہت عام ہیں، اس کے مطابق ہر دور کے بیشتر انسان اللہ کا سب و شتم کرنے کے جرم میں مرتکب قرار پاتے ہیں۔ تمام مشرکین ، تمام عیسائی، اور جدید تعلیم پائے ہوئے بیشتر لوگ مجرمین کے اس زمرہ میں داخل ہیں۔ اس لیے مذکورہ فقہی مسئلہ کے مطابق ، سب کے سب اس قابل ہیں کہ انہیں قتل کردیا جائے۔
یہی معاملہ سبّ انبیاء کابھی ہے، مثلاً یہودی بحیثیت ایک قوم حضرت مسیح علیہ السلام کو، نعوذباللہ، ولد الزنا کہتے ہیں۔ اسی طرح عیسائی لوگ، جو دنیا میں سب سے بڑا مذہبی فرقہ ہیں ، وہ پیغمبرآخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذباللہ جھوٹا پیغمبر (False Prophet)قرار دیتے ہیں ۔ اب مذکورہ مسئلہ کے مطابق، دنیا بھر کے تمام یہودی اور تمام عیسائی واجب القتل ہیں۔ ان سب کو جمع کر کے ایک ایک شخص کی گردن ماردینا چاہیے۔
یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو مشرکانہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ جو اللہ کی صفات میں سے کسی صفت میں غیر خدا کو شریک کرتے ہیں۔ اس گرو ہ میں معروف مشرکوں کے علاوہ بہت سے قبر پرست اور اکابر پرست مسلمان بھی شامل ہیں، وہ سب کے سب خدا کی تنقیص کرنے کے مجرم ہیں۔ وہ غیر اللہ کے لیے ایسے کلمات بولتے ہیں جو اللہ کو ایذاء پہنچانے کی تعریف میں آتے ہیں، مذکورہ مسئلہ کے مطابق، یہ تمام لوگ بھی اس قابل ہیں کہ انھیں قتل کر دیا جائے۔ ان میں سے کوئی شخص بھی زندہ چھوڑے جانے کا مستحق نہیں۔
سب وشتم کی بنیاد پر قابل قتل افراد کی یہ فہرست یہیں پر ختم نہیں ہوتی، اس کا سلسلہ خود آیت اللہ خمینی اور ان کے متبعین تک جاتا ہے جو سلمان رشدی کو قتل کر کے اس کو ’’جہنم رسید‘‘ کرنے کے چیمپین بنے تھے۔ خمینی کی ولایت فقیہ کا عقیدہ اور دوسرے شیعی عقائد، سنّی علماء کے فتووؤں کے مطابق، خداکی بھی توہین ہیں اور خدا کے رسول کی بھی تو ہین۔ ایسی حالت میں اہل اسلام پر یہ واجب ہوجاتا ہے کہ امام خمینی اور ان کے ہم خیال تمام لوگوں کو پکڑ پکڑ کر قتل کر ڈالیں ، ان میں سے کسی کوبھی زندہ نہ چھوڑیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
واضح ہو کہ یہ راقم الحروف کا نظریہ نہیں۔ مگر’’قتل شاتم‘‘کے نظریہ کی وکالت کرنے والوں کے نظریہ کا لازمی تقاضا یہی ہے۔
جیسا کہ اوپر کے حوالے سے واضح ہے ، دین پر عیب لگانا یا اس پر طعن کرنا بھی جرم ہے جس پر آدمی کا قتل واجب ہوجاتاہے۔ اس حکم کی روشنی میں موجودہ حالات کو دیکھیے تو آج یہ چیز بے حد عام ہو چکی ہے۔ آج کا وہ طبقہ جس کو جدید تعلیم یافتہ کہا جاتا ہے، وہ تقریباً99فی صد اس جرم کا مجرم قرار پاتا ہے ۔
تمام سوشلسٹ اور کمیونسٹ حضرات اس کے مطابق مجرم ہیں۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ مذہب ایک ذہنی افیون ہے۔ بقیہ لوگ بظاہر ایسے الفاظ نہیں بولتے۔ تاہم وہ بھی مہذب الفاظ میں وہی بات کہتے ہیں جس کو کمیونسٹ لوگ برہنہ الفاظ میں کہہ رہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طرح مذکورہ مسئلہ کے مطابق، جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی تقریباً99فی صد تعداد اس قابل ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے یا گولی مار کر اس کو ہلاک کر دیاجائے۔
مزیدیہ کہ اس نظریہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سب وشتم کی سزا کے نفاذ کے لیے کسی حکومت یا کسی عدالتی کاروائی کی ضرورت نہیں۔ ’’اسلامی حکومت اگر یہ سزا نافذ نہ کر رہی ہو تو کوئی بھی مسلمان اس کو نافذ کر سکتا ہے، اور ایسے شخص کے بطور خود قتل کرسکتا ہے‘‘۔ راقم الحروف کے نزدیک یہ نظریہ سراسر لغو ہے۔ تاہم قتل شاتم کے حامیوں کے نزدیک مسئلہ کی نوعیت یہی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شتم کے معاملہ میں موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک عجیب تضاد میں مبتلا ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ جب مسئلہ بیان کرنا ہو تو وہ کہتے ہیں کہ خدا کے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر پر سب و شتم کرنا یکساں طور پر جرم ہے۔ وہ ایسے ہر شاتم کو واجب القتل قرار دیتاہے۔ مگر عملی اعتبار سے ان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اپنے پیغمبر کے سب و شتم پر بھڑکتے ہیں۔ جہاںتک دوسرے پیغمبروں کا تعلق ہے، ان کے خلاف خواہ کسی بھی قسم کی گستاخی کی جائے، ان کے اندر کو ئی حرکت پیدا نہیں ہوتی۔
حضرت مسیح علیہ السلام کی بے شمار تصویریں بنائی گئی ہیں، وہ کروروں کی تعداد میں کتابوں اور گھروں وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مگر اس تصویر سازی پر مسلمانوں کے اند رکوئی اشتعال پیدا نہیں ہو تا۔ لیکن اپنے پیغمبر کے بارے میں اگر صرف دور کی ایک خبر سن لیں تو فوراًمشتعل ہو کر آمادۂ فساد ہو جائیں گے۔ اسی طرح دوسرے پیغمبروںکے بارے میں بے شمار گستاخانہ باتیں بولی اور چھاپی جارہی ہیں۔ مگر مسلمانوں کو اس بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہو تی۔ وہ صرف اس وقت مضطرب ہوتے ہیں جب کہ اس بری خبر کا تعلق ان کے اپنے پیغمبر سے ہو۔
یہ معاملہ یہاں تک پہنچا ہے كه نہ صرف اغیار بلکہ مسلمان خود بھی اپنے پیغمبر کی تعظیم اور دوسرے پیغمبروں کی تو ہین کے مرتکب ہو رہے ہیں،اس کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ہندو یا عیسائی یا یہودی یہ لکھ دے کہ’’ مکہ وہ بستی ہے جس کو چھوڑ کر حضرت محمد بھاگے تھے‘‘ تو تمام مسلمان بپھر اٹھیں گے اور اس کتاب کو جلانا شروع کردیں گے جس میں ہجرت کے لیے بھاگنے کا لفظ لکھا گیا ہے۔ مگر خود ان کا ایک شخص لکھتا ہے کہ ’’ یہ وہی بستی ہے جس کو چھوڑ کر یونس علیہ السلام بھاگے تھے‘‘(تفہیم القرآن، جلد4، صفحہ 309) تو مسلمانوں کے اندر اس گستاخی پر کوئی اضطراب پیدا نہیں ہو تا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ روش خدا کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنے کے ہم معنی ہے۔ اور جو لوگ رسولوں کے درمیان تفریق کریں، وہ ایک کے ساتھ کچھ معاملہ کریں اور دوسرے کے ساتھ کچھ، وہ اللہ کے یہاں سزا کے مستحق ہیں، نہ کہ انعام کے مستحق۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ’’قتل شاتم‘‘ کا مذکورہ مسئلہ ناقابل فہم حد تک بے اصل مسئلہ ہے۔ اس کے لیے کتاب و سنت میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔اور نہ اسلام کی تاریخ میں ، آغاز سے لے کر اب تک، کبھی اس کو عملی طور پر اختیار کیا گیا۔ اور نہ امکانی طور پر اس کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔
مذکورہ مسئلہ کو سامنے رکھیے اور اسلام کی تاریخ کو دیکھیے ، تو معلوم ہو گا کہ ساری اسلامی تاریخ میں کبھی بھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب میں جو عیسائی تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ساختہ نبی کہتے تھے۔ یہودی دہرا مجرم تھے، کیونکہ وہ پیغمبر اسلام کو بھی تحقیر کرتے تھے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی بھی۔ اس وقت وہاں جو مشرکین تھے، وہ پیغمبر کی توہین و تحقیر کے علاوہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس طرح ان کا جرم اور بھی زیادہ بڑھا ہوا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس اعتبار سے دیکھیے تو قدیم عرب کی آبادی میں کم از کم 95 فی صد لوگ ایسے تھے، جو کسی نہ کسی قسم کے شتم یا ایذا رسانی کے مرتکب ہو رہے تھے۔ اب شرعی مسئلہ یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو بے دریغ قتل کردیاجائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاہیے تھا کہ عرب کی بیشتر آبادی کو تہ تیغ کر ڈالتے۔ اور جب یہ قتل بطور حد تھا توازروئے مسئلہ آپ ان کو معاف نہیں کر سکتے تھے۔ خواہ اس کے نتیجہ میں یہی کیوں نہ ہو کہ جب آپ اس دنیا سے رخصت ہوں تو جزیرہ نما عرب میں چاروں طرف قبروں کے سوا کوئی اورمنظر دیکھائی نہ دے، بشرطیكه وہاں کوئی دیکھنے والا بھی زندہ حالت میںموجود ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے زمانہ میں بھی ہمیشہ یہی صورت حال کم و بیش جاری رہی۔ سب و شتم کا جو عمومی مفہوم فقہاء نے بیان کیا ہے، اس کے لحاظ سے دوبارہ دنیا کی آبادی کا کم از کم 95فی صد کسی نہ کسی اعتبار سے خدا یا پیغمبر اسلام یا دوسرے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کی تنقیص اور گستاخی کے جرم کا مرتکب ہو رہا تھا۔ اس لیے دوبارہ یہی عمل ساری دنیا میں جاری ہونا چاہیے تھا کہ دنیا کی آبادی کے بیشتر حصہ کو قتل کردیا جائے۔ یہاں تک کہ زمین کے اوپر شاتمین کی قبروں کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہ دے۔
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم حق کے داعی تھے، آپ کا کام شاتم کو سزا دینا نہ تھا، آپ کا اصل کام شاتم کو مومن بنانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آپ کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے— اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو رحمتِ عالم کا لقب دیا تھا۔ مگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کا نام تاریخ میں نعوذباللہ قاتلِ عالم کی حیثیت سے درج کیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اب تک کبھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس عرصہ میں بعض استثنائی افراد ضرور قتل کیے گئے ہیں جن کے ساتھ دوسرے اسباب، مثلاًنقض عہد(غداری اوربغاوت) کا جرم شامل تھا۔ مگر مجرد لفظی ایذارسانی کی بنیاد پر اس قسم کے قتل عام کا نہ کبھی کسی عالم نے نام زد فتوی دیا اور نہ کبھی کسی حاکم نے اس پر عمل درآمد کیا۔
بعض افراد جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے کر قتل کرادیا، یاجن سے جنگ کی وہ براہِ راست خدائی حکم سے تھا جو صرف پیغمبر کے لیے خاص ہو تا ہے۔ تمام پیغمبروںکے لیے اللہ تعالی کی یہ سنت رہی ہے کہ جب ان پر خدا کا پیغمبر اتمام حجت کردے تو اس کے بعد ان کے لیے زمین پر زندہ رہنے کا حق باقی نہ رہے۔
پچھلے پیغمبروں کی مخاطب قوموں کے ساتھ اس سنت الٰہی کا ظہور زیادہ تر اس طرح ہوا کہ سمندر یا طوفان یا زلزلہ جیسی قدرتی آفات کے ذریعہ انھیں تباہ کردیا گیا (العنکبوت29:40)۔ مگر مخصوص مصالح کی بنا پر پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی مخاطب قوم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہوا کہ خود اہل ایمان کے ذریعہ اس پر اس خدائی سزا کا نفاذ کیا جائے قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ(9:14)۔یعنی، ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس نوعیت کا قتل یا قتال انتہائی استثنائی معاملہ تھا۔ اس کا تعلق خصوصی طور پر صرف پیغمبر سے ہے۔ وہ پیغمبرانہ اتمام حجت کے مسئلہ سے تعلق رکھتا ہے ، نہ کہ سادہ طور پر گستاخی اور بد زبانی کے مسئلہ سے۔ پیغمبر کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس طرح کے واقعات کا حوالہ دے کر اپنے زمانہ کے لوگوں کو قتل کرنے لگے۔ بعد کے لوگوں کو صرف دعوت دینا ہے اور بقیہ تمام باتوں کو اللہ کے اوپر چھوڑ دینا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا اور ملائکہ اور انبیاء کے خلاف گستاخی کرنا یا دین پر عیب لگانا، ایک اعتراض ہے ، نہ کہ سادہ معنوں میںمحض ایک جرم۔ عام قسم کے سماجی یا اخلاقی جرم کا توڑ جسمانی سزا کے ذریعہ کیاجاسکتا ہے، مگر ایک فعل جو اعتراض اور تنقید کی نوعیت کا ہو، اس کا دفعیہ صرف جسمانی سزا کے ذریعہ ممکن نہیں۔ اس کا واحد توڑ یادفعیہ یہ ہے کہ اس کو دلائل سے رد کیا جائے۔ معترض کے الفاظ کے مقابلہ میں زیادہ طاقتور الفاظ سے اس کو بے حقیقت ثابت کردیا جائے۔
ان واضح اسباب کی بنا پر راقم الحروف کی قطعی رائے ہے کہ قتلِ شاتم کے بارے میں ’’جمہور فقہاء‘‘ کا جو مسلک نقل کیا جاتا ہے، وہ یا تو اس معنی میں نہیں ہے جس معنی میں ابن تیمیہ اور ان کے ہم خیال لوگ اس کو لے رہے ہیں۔اور بالفرض اگر وہ اس معنی میں ہو تب بھی وہ یقینی طور پر قابل لحاظ نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ مسئلہ دین میں ایک ایسا اضافہ ہے جس کے لیے نہ قرآن و حدیث میں کوئی صریح نص موجود ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اس کی تصدیق ملتی ہے۔ مزید یہ کہ اس مسئلہ کو بجنسہ ماننے کی صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پوری اسلامی تاریخ میں تمام علماء اور سلاطین مسلسل اس شرعی حکم کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔ حتی کہ خلاف ورزی کرنے والوں کی اس لمبی فہرست میں ، نعوذباللہ، خود رسول اور اصحابِ رسول بھی شامل ہیں۔
قرآن و سنت سے اس نظریہ کی عدم مطابقت اتنی واضح ہے کہ خود ابن تیمیہ کو اس کا پورا احساس ہے۔ چنانچہ اپنی 600صفحہ کی کتاب (الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول)میں انھوں نے جگہ جگہ اس کا جواب دیا ہے اور یہ توجیہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے مفروضہ شرعی مسئلہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں عمل نہیں فرمایا۔ کیونکہ آپ نے ایسا کیا کہ بے شمار گستاخی کرنے والوں کو سزا دیے بغیر چھوڑدیا۔ مگر ان کی یہ نام نہاد توجیہات ’’عذرگناہ بدتر ازگناہ‘‘ کا مصداق ہیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مثلاًکتاب میں وہ ایک جگہ مدینہ کے بعض منافقین کا ذکر کرتے ہیں۔ ان منافقین نے مبینہ طور پر رسول کا استہزاء کیاتھا۔اس کے باوجود انہیں قتل نہیں کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ ان لوگوں پر استہزاء کی حداس لیے جاری نہیں کی گئی، کیونکہ اس وقت تک منافقین کے خلاف جہاد فرض نہیں کیاگیا تھا۔ بلکہ آپ کو یہ حکم تھا کہ ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کریں اور جو شخص آپ کی تنقیص کرے اس کو معاف کردیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’إِنَّمَا لَمْ يُقِمِ الْحَدَّ عَلَيْهِمْ لِكَوْنِ جِهَادِ الْمُنَافِقِينَ لَمْ يَكُنْ قَدْ أُمِرَ بِهِ إِذْ ذَاكَ، بَلْ كَانَ مَأْمُورًا بِأَنْ يَدَعَ أَذَاهُمْ، وَلِأَنَّهُ كَانَ لَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَمَّنْ تَنَقَّصَهُ وَآذَاهُ ‘‘( صفحہ 34)۔
other sourceWords of another person or source
ابن تیمیہ کے اس بیان کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم تھا کہ وہ منافقین کی تنقیص اور ایذارسائی پر اعراض کریں اور ان کو معاف کردیں ۔ لیکن ابن تیمیہ کا کہنا ہے کہ یہ وقتی حکم تھا جو بعد کو منسوخ ہو گیا۔ مگر صرف اتنا کہنا کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ ابن تیمیہ کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ یہ حکم کب منسوخ کیاگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حدیث اور سیرت سے تو یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر وقت تک ان منافق افراد کا قتل عام نہیں کرایا جو آپ کے خلاف استہزاء اور گستاخی کے جرم کے مرتکب ہو ئے تھے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم پر جو وحی اتری اورآپ نے اپنے عمل سے جو نمونہ پیش فرمایا۔ اس کے مطابق عفو و اعراض کا یہ حکم آخر تک باقی رہا۔ وہ کبھی منسوخ نہیں کیا گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اب سوال یہ ہے کہ جب قرآن و سنت سے اس حکم کی منسوخی ثابت نہیں تو پھر دوسرا کون سا ذریعہ ہے جس سے ابن تیمیہ کو معلوم ہوا کہ یہ حکم اب منسوخ ہو چکاہے۔ کیا محمد بن عبداللہ کے بعد کوئی اور پیغمبر آیا ہے جس نے انھیں یہ خبر دی کہ عفوو اعراض کا حکم اب منسوخ کردیا گیا ہے۔ اب تم لوگ ایسے تمام افراد کو چن چن کر قتل کر ڈالو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو ابن تیمیہ کو اور ان کے تمام ہم خیال لوگو ں کو وہی کہنا چاہیے اور کرنا چاہیے جس کا نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے چھوڑا ہے۔ نہ کہ خود ساختہ تاویلات کے ذریعہ اس کو منسوخ قراردیں اور پھر ایک ایسے عمل کی وکالت کریںجس کا براہ راست ثبوت نہ قرآن میں ہے، نہ رسول کے قول و عمل میں ۔ ان کے اس نظریہ کی بنیاد قیاس پر ہے، اور قیاس اس طرح کے معاملہ میں حجت نہیں ۔
چنانچہ ہر زمانہ میں ایسے محقق علماء موجود رہے ہیں۔ جنھوں نے اس کے خلاف رائے دی۔ سفیان الثوری(161-97ھ) کو ’’ سَيِّدُ أَهْلِ زَمَانِهِ فِي عُلُومِ الدِّينِ وَالتَّقْوَى‘‘ (ديني علوم اور تقوي ميں اپنے زمانے كے پيشوا) کہا جاتا ہے۔ مرتد کے بارے میں ان کا قول ہے کہ يُسْتَتَابُأَبَدًا، وَلَا يُقْتَلُ (مصنف عبد الرزاق18697، محلّي ابن حزم، جلد 12، صفحہ 109)۔ یعنی اس سے ہمیشہ توبہ کے لیے کہا جائے گا، اس کو قتل نہیں کیا جائےگا۔یہی حکم شاتم کا بھی ہے، کیونکہ شاتم کا حکم حدیثِ ارتداد ہی سے اخذ کیا جاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it