Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

حدیث سے استدلال

Urdu · 15 min

پورے ذخیرۂ حدیث میں کوئی معتبر روایت ایسی موجود نہیں جس کے عبارت النص میںیہ حکم دیا گیا ہو کہ سب و شتم کرنے والے کو قتل کردو۔ مثلاً اس کے الفاظ یہ ہوں کہ ’’مَن سَبَّ رَسُولَكُمْ فَاقْتُلُوهُ.‘‘ (جو تمھارے رسول کی سب و شتم کرے اس کو تم سب قتل کردو)یا ’’ مَن شَتَمَ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَيُقْتَلُ حَدًّا‘‘(جو کسی بھی نبی کی سب و شتم کرے اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا)۔ اس سلسلے میں حدیث سے قتل کا جو حکم نکالا گیا ہے، وہ حکم بطریقِ قیاس نکالا گیا ہے ، نہ کہ بطریقِ نص۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملہ میں سب سے عام استدلال یہ ہے کہ حدیث میں یہ حکم آیا ہے کہ جو شخص اپنے دین کو بدل ڈالے اس کو قتل کردو مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر3017)۔ کہا جاتا ہے کہ چونکہ رسول کا سب و شتم ارتداد کے ہم معنی ہے، اس لیے ایسا فعل کرنے والا مرتد ہوگیا۔ اور جب وہ مرتد قرار پا گیا تو حدیث کے مطابق وہ اس کا مستحق ہو گیا کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ یہ استد لال کی وہی قسم ہے جس کے ذریعہ شاعر نے شہد کی مکھی کے ’’ قتل ‘‘ کا جواز نکالا تھا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانوں کا ہوگا

حقیقت یہ ہے کہ ارتداد اور شتم رسول کو ہم معنی قرار دینا بذات خود ایک غلط قیاس ہے۔ ارتداد ایک شخصی فعل ہے جس طرح قاتل کا قتل کرنا ایک شخصی فعل ہے۔ کیونکہ شاتم اپنے شتم کے ذریعہ دوسروں پر اثر ڈالتا ہے۔ وہ دوسروں کے اندر دین کے بارے میںشک ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ شتم اعتراض اور تنقید اور نکتہ چینی کی نوعیت کا فعل ہے۔ مرتد کو ذاتی سزا دے کر اس کا مسئلہ ختم کیا جاسکتا ہے، مگر شتم کے اثرات کو اس وقت تک ختم کرنا ممکن نہیں جب تک اس کی پھیلائی ہو ئی غلط فہمیوں کو دلیل کے ذریعہ رد نہ کردیا جائے۔

اس کی ایک مثال لیجیے۔ یہ مثال وہ ہے جوقرآن کی سورہ نمبر108(الکوثر) کے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عربی زبان میں ابتر کے معنی ہیں کٹا ہوا۔ عربی میں اس شخص کو ابتر کہا جاتا ہے جو بےاولاد ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں چونکہ اولاد نرینہ نہ تھی،اس لیے مکہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے۔ یعنی ایسا شخص جس کی نسل آئندہ باقی نہ رہے۔ عاص بن وائل قدیم مکہ کا ایک مشرک سردار تھا۔ اس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتا کہ انھیں چھوڑو، وہ ایک ابتر شخص ہیں ان کے بعد ان کا کوئی وارث نہیں۔ جب کہ وہ ختم ہوں گے تو ان کا ذکر بھی ختم ہو جائے گا دَعُوهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَبْتَرُ لَا عَقِبَ لَهُ، فَإِذَا هَلَكَ انْقَطَعَ ذِكْرُهُ (تفسیر ابن کثیر،جلد8، صفحہ 477)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واضح طور پر شتم رسول کا ایک واقعہ تھا۔ اس سے عام انسان اس غلط فہمی میں پڑ رہے تھے کہ واقعی پیغمبر اسلام ابتر ہیں ، ان کے بعد اس کا سلسلہ باقی رہنے والا نہیں۔ اس غلط پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر کچھ لوگ آپ پر ایمان لانے میں متردد ہو رہے تھے۔ اب اس کا جواب یہ نہیں تھا کہ عاص بن وائل اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کو قتل کردیا جائے۔ اس کا جواب یہ تھا کہ طاقتور دلیل سے اس کو رد کردیا جائے۔

چنانچہ اس کی تردید میں وہ سورہ اتری جس کو الکوثر (108)کہا جاتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا کہ ہم نے محمد کو کوثر دے دیا ہے۔ محمد ابتر نہیں ہیں۔ بلکہ وہ لوگ ابتر ہیں جو محمد کی مخالفت کر رہے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کوثر کے لفظی معنی خیر کثیر کے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ خیر ہے جو اللہ نے آپ کو دیا هُوَ الْخَيْرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ (تفسیر ابن کثیر، جلد8، صفحہ 474)۔ ابن عباس کے شاگرد عکرمہ نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہو ئے کہا کہ اس سے مراد نبوت اور قرآن ہے  هُوَ النُّبُوَّةُ، وَالْقُرْآنُ (تفسیر ابن کثیر، جلد8، صفحہ 474) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اولاد سے زیادہ بڑی چیز دے دی ہے، اور وہ سچا دین ہے ۔ یہ دین لوگوں کو متاثر کرے گا اور کروروں لوگ آپ کی پیرواوروفادار بن جائیں گے، ایک صلبی وارث کے بجائے آپ کو کروروں نظریاتی وارث حاصل ہوں گے۔ حتی کہ خود مخالفین کی اولادیں اپنے باپ دادا کو چھوڑ کر آپ کا ساتھی بننے پر فخر محسوس کریں گی۔ ایسی حالت میں سمجھ لو کہ ابتر کون ہے، تم یا محمدصلی اللہ علیہ وسلم۔

قرآن کا یہ جواب بلاشبہ قتل جسمانی سے زیادہ سخت تھا۔ قتل جسمانی ایک فرد کو ختم کرتا ، مگر اس طاقتور تردید نے فرد کے پورے منصوبہ کو ختم کردیا۔

مرتد اور شاتم کے فرق کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ عرب کے مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کے خلاف جو سب و شتم کرتے تھے ، حسّان بن ثابت انصاری اشعار کے ذریعہ اس کا جواب دیتے تھے۔ یہ اشعار ان شاتمین کو تیر سے بھی زیادہ سخت بن کر لگتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس مقصد کی خاطر حسّان بن ثابت کے لیے مدینہ کی مسجد نبوی میں ایک منبر رکھا جاتا تھا۔ اس پر بیٹھ کر وہ اپنے جوابی اشعار پڑھتے تھے اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاتمین کے مقابلہ میں منافحت (مدافعت) کرتے تھے ( الصارم المسلول علی شاتم الرسول،200)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شتم کرنے والوں کے بارے میں یہ بات عین صحیح اور مفید معلوم ہوتی ہے۔ اب اس بات کو مرتدین کے ساتھ جوڑ دیجیے اور الفاظ کو بدل کر اس طرح کیجیےکہ —’’ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو چھوڑ کر مرتدہو گئے تھے، ان کا جواب حسان بن ثابت اشعار کی صورت دیتے تھے۔ اس مقصد کے لیے مسجد نبوی میں ایک خاص منبر رکھا جاتا تھا۔ حسان اس پر بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مرتدین کے مقابلہ میں منافحت (مدافعت) کرتے تھے۔‘‘

پہلی بات انتہائی با معنی معلوم ہو رہی تھی، مگر دوسری بات اتنی ہی بے معنی معلوم ہو نے لگی۔ کیونکہ مرتدین کا مقابلہ تلوار ہی کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ خلیفہ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا۔ مگر سب و شتم کرنے والوں کا مقابلہ یہ ہے کہ ان کے الفاظ کا جواب زیادہ طاقتور الفاظ سے دیا جائے جیسا کہ حسّان بن ثابت انصاری نے کیا اور کامیاب ہوئے۔ اس مثال سے مرتد اور شاتم کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے علاوہ اور بہت سے پہلو ہیں جو حدیث ارتداد سے مذکورہ استنباط کو بے اصل قرار دیتے ہیں۔ مثلاً مذکورہ حدیث کا تعلق ایک مومن کے مسئلہ سے ہے۔ اس میں اس شخص کا حکم بیان کیا گیا ہے جو پہلے ایمان لایا، اس کے بعد اس سے اسلام کو ترک کرنے کا اعلان کردیا۔

اس کے برعکس، شتم کا تعلق مومن اور کافر دونوں سے ہے۔ فقہاء کا عام طور پر یہ کہنا ہے کہ رسول کی شاتمیںگستاخی کرنے والا ہر حال میں قتل کردیا جائے گا، خواہ وہ مومن ہو یا کافر۔ ابن تیمیہ کے الفاظ میں جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب و شتم کرے، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر، بیشک اس کو قتل کرنا واجب ہے ’’ أَنَّ مَن سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ كَافِرٍ فَإِنَّهُ يَجِبُ قَتْلُهُ، هَذَا مَذْهَبٌ عَلَيْهِ عَامَّةُ أَهْلِ الْعِلْمِ‘‘( صفحہ4)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اب ایک ایسی حدیث جس کاتعلق صرف مسلمانوں کے گروہ سے ہو، جس میں مدعی ایمان کا مسئلہ بتایا گیا ہو، اس كو ایک ایسے عمومی حکم کا ماخذ کیوں کر بنایا جاسکتا ہے جس کاتعلق مومن اور کافر دونوں سے ہو، جس کو دونوں گروہوں کے اوپر یکساں طور پر نافذ کرنا مقصود ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری بات یہ کہ كسي كي جانب سے گستاخی اور استہزاء کا فعل صادر ہو نے موقع پر کیا کیا جائے، اس کے بارے میں ہم کو قیاس اور استنباط سے کام لینے کی ضرورت نہیں ۔ اس کا واضح جواب قرآن و سنت میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ پھر جس مسئلہ کا شرعی حکم پیشگی طور پر بتادیا گیا ہو، اس کے بارے میں ہم کو قیاس اور استنباط سے کام لینے کی کیا ضرورت۔

دوسرے مضمون میں ہم نے تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ قرآن میں استہزاء کرنے والوں کے بارے میں یہ حکم ہے کہ ان کو مناسب انداز میں جواب دو۔ اگر اس کے باوجود وہ نہ مانیںتو ان سے اعراض اور ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کرو۔ اسی طرح سنت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ عرب میں جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہجو اور بد گوئی کر رہے تھے، ان کے مقابلہ میں آپ نے منافحت لسانی کا طریقہ اختیار کیا ، نہ کہ منافحت شمشیری کا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ نصوص بتاتی ہیں کہ گستاخی کرنے والے کا معاملہ دین کو بدلنے والے کے معاملہ سے مختلف ہے۔ دونوں کو ایک حکم کے تحت لانا درست نہیں۔

ابن تیمیہ نے زمانۂ رسالت کے کچھ واقعات جمع کیے ہیں، جب کہ کسی کو قتل کیا گیا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ یہ سب و شتم کی بنا پر قتل کیے گئے تھے۔ مگر یہ صحیح نہیں ۔

مثلاً انھوں نے کعب بن الاشرف کے قتل کا ذکر کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ اس کو سب وشتم کی بنا پر قتل کیا گیا(صفحہ70-73)۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کعب بن الاشرف کو بار بار نقض عہد(غداری) کرنے کی بنا پر قتل کیا گیا۔ کعب بن الاشرف دوسرے تمام مخالفین کی طرح سب و شتم کے الفاظ بولتا تھا۔ مگر اس کے قتل کا سبب اس کا نقض عہد تھا ، نہ کہ سادہ طور پر صرف سب و شتم۔

اسی طرح ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ ابو جہل کو اس کے سب وشتم کی بنا پر دو انصاری نوجوانوں نے قتل کیا(159-160)۔ مگر یہ سراسر بے دلیل بات ہے۔ ابو جہل میدان جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائی لڑتا ہوا مارا گیا۔ وہ مشرکوں کی فوج لے کر مدینہ پر چڑھائی کے ارادہ سے نکلا تھا۔ مسلمانوں نے آگے بڑھ کر بدر کے مقام پر اس کا مقابلہ کیا۔ اس مقابلہ میں بہت سے مشرکین مارے گئے۔ انھیں میں ایک ابو جہل تھا۔ اس کو قتل بر بنائے شتم کا کیس قرار دینا بالکل بے معنی بات ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح ابن تیمیہ نے دور اول کی کچھ مثالیں دے کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سب و شتم کی بناپر قتل کرایا۔ مگر یہ سب غیر متعلق واقعات ہیں۔ ان میں سے کوئی قتل بھی مجرد شتم کی بنا پر نہیں کیا گیا۔ ان کے قتل کے اسباب دوسرے تھے۔ مثلاً میدان جنگ میں لڑتے ہوئے مارا جانا، نقض عہد(غداری) کی بنا پر قابل قتل قرار پانا۔ وغیرہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content