اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ مثلاً لیث بن سعد نے یحییٰ بن سعید سے، انھوں نے ابو الزبیر سے روایت کی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے کہا کہ جعرانہ میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس وقت آپ لوگوں کو عطیات دے رہے تھے۔ آدمی نے دیکھ کر کہا کہ اے محمد، انصاف کیجیے۔آپ نے فرمایا، تمہارا برا ہو، اگر میں انصاف نہ کروں تو اور کون انصاف کرے گا يَا مُحَمَّدُ، اعْدِلْ قَالَوَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ ۔
حضرت عمرنے یہ گفتگو سن کر کہا کہ اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے اجازت دیجیے کہ میںاس منافق کو قتل کردوں، آپ نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ لوگ یہ کہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ دَعْنِي، يَا رَسُولَ اللهِ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ، فَقَالَمَعَاذَ اللهِ، أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر1063)۔
غزوۂ تبوک کی واپسی میں کچھ منافق قسم کے مسلمان آپ کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ مخلص مسلمانوں سے الگ ہو کر بیٹھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے ہو دہ باتیں کیا کرتے۔حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کچھ لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کہ جانتے ہو یہ کون لوگ ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں ۔ آپ نے بتایا کہ یہ لوگ بیٹھ کر آپس میں ہمارے خلاف باتیں کر تے ہیں۔ حضرت حذیفہ نے کہا اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ اجازت دیں گے کہ ہم انہیں قتل کریں۔ آپ نے فرمایا مجھے نا پسند ہے کہ لوگ یہ چر چا کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر تے ہیں أَكْرَهُ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ(المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر8100)۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔