Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

دفاع نہ کہ حد

Urdu · 3 min

اس معاملہ میں ابن تیمیہ اوران کے جیسے دوسرے لوگوں کی رائے قائم کرنے میں جو غلطی کی ہے، اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انھوں نے شتم رسول کے مسئلہ کو صرف حد یا نفاذ حد کا مسئلہ سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ دفاع کا مسئلہ ہے۔ شاتم دراصل اپنی شتم کے ذریعہ اسلام کی صداقت پر ایک قسم کا فکری حملہ کرتا ہے۔ اور جو حملہ فکری نوعیت رکھتا ہو، اس کا توڑ جوابی فکری یلغار ہی کے ذریعہ کیاجاسکتا ہے۔ تلوار کے ذریعہ شاتم کی گردن کاٹ دینے سے اس کادفعیہ نہیں ہوتا۔

جیسا کہ اوپر عرض کیاگیا، ابن تیمیہ نے خود اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مشرکین جب پیغمبر اسلام پر ہجو کرتے تھے تو حسّان بن ثابت الانصاری جوابی ہجو کے ذریعہ آپ کی طرف سے اس کا دفاع کرتے تھے(كان صلى الله عليه وسلم يقول لحسان بن ثابت ’’اغْزُهُمْ وَغَازِهِمْ‘‘، وكان يُنْصَبُ له مِنبَرٌ في المسجد يُنافِحُ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بشِعْرِه وهجائه للمشركين. وقال النبي صلى الله عليه وسلم’’اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ القُدُسِ‘‘.وقال’’إِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ مَا دُمْتَ تُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘‘.وقال’’هي أَنْكَى فِيهِمْ مِنَ النَّبْلِ‘‘) صفحہ 206، مطبوعہ الریاض۔

مذکورہ الفاظ خود بتارہے ہیں کہ سب و شتم کا معاملہ اسلام پر ایک نظریاتی حملہ کا معاملہ ہے۔ اس کا صحیح اور کارگر توڑ یہی ہے کہ جوابی نظریہ سے اس کو غلط اور بے بنیاد ثابت کردیا جائے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے منافحت یا مدافعت کا مسئلہ ہے ، نہ کہ عام معنوں میں سزائے شرعی کے نفا ذکا مسئلہ۔

یہ حقیقت ہے کہ طعن ِ اسلام اور شتم رسول عام معنوں میں ایک قانونی جرم کا معاملہ نہیں ہے کہ مجرم کو ہلاک کر دینے سے اس کا ازالہ ہو جائے شتم رسول، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اسلام پر ایک فکری اور نظریاتی وار ہے۔ اور ایک نظریاتی وار کو جوابی نظریاتی وار کے ذریعہ ہی رد کیا جا سکتا ہے۔

فکری اور نظریاتی فتنہ کو اس طرح ختم نہیں کیا جاسکتا کہ بندوق ہاتھ میں لی جائے اور متعلقہ شخص کو گولی مار کر اس کا خاتمہ کردیا جائے۔ قاتل کو قتل کر کے قتل کا ازالہ ہو جاتا ہے مگر شاتم کے قتل سے شتم کا ازالہ نہیں ہوتا۔

شتم ایک ایسا مسئلہ ہے جو شاتم کے قتل کے بعد بھی بدستور باقی رہتا ہے۔ اور جب اصل مسئلہ بدستور باقی رہے تو ایک شخص کو قتل کر دینے سے کیا حاصل ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.