سیرت اور حدیث کے موجودہ ریکارڈ میں بہت سے واقعات ہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں واضح طور پر آپ کے خلاف سب و شتم کا معاملہ کیا گیا۔ مگرآپ نے ایسے لوگوں کو معاف کردیا۔ آپ نے ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی کاروائی نہیں کی۔
اس قسم کے واقعات صریح طور پر ابن تیمیہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کے نظریہ کی تردید ہیں۔ یہاں ان لوگوں نے اپنے حق میںایک جواب تلاش کرلیا ہے۔ ابن تیمیہ اور دوسرے لوگ (مثلاً ابن قیم)نے لکھا ہے کہ شتم رسول کا مسئلہ حرمتِ رسول کا مسئلہ ہے(الصارم المسلول على شاتم الرسول، جلد 1، صفحه385)۔ اس طرح وہ سب و شتم کے معاملہ کو حرمت رسول کا معاملہ قرار دے کر اس کو حقوق العباد کے تحت لائے ہیں۔ مگر یہ ان حضرات کی محض ذاتی تو جیہ ہے۔قرآن و حدیث میں اس کے حق میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں ۔ اور جب تک قرآن و حدیث کی واضح دلیل نہ ہو۔ اس کو حقوق العباد، بالفاظ دیگر، ذاتی حق کے تحت نہیں لایاجاسکتا (صفحہ219)۔
حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام پر حملہ سادہ معنوں میں ان کی ذات پر حملہ نہیں ، وہ براہ راست اسلام پر حملہ ہے اس طرح وہ ذاتی حق کے بجائے دفاع کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایک شخص اگر کہے کہ پیغمبر اسلام عادل نہیں تھے تو یہ آپ کے اوپر محض ایک شخصی حملہ نہیںہوا۔ ایسا حملہ پورے قرآن اور پورے اسلام کو مشتبہ قرار دینے کے ہم معنی ہے۔ ایسی حالت میں وہ اس طرح ختم نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر ذاتی طور پر اس کو معاف کردیں۔ وہ معافی کے بعد بھی پوری طرح باقی رہے گا۔ چنانچہ پیغمبر اسلام کا طریقہ اس بارے میں یہ تھا کہ وہ ایسے شخص کو فکری اور نظریاتی طور پر قتل کرنے کی کوشش کرتے تھے، نہ یہ کہ اس کوجسمانی طور پر قتل کرکے یہ سمجھیں کہ اس کا چھیڑا ہوا فتنہ ختم ہو گیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔