Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

ذاتی حق کامعاملہ نہیں

Urdu · 3 min

سیرت اور حدیث کے موجودہ ریکارڈ میں بہت سے واقعات ہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں واضح طور پر آپ کے خلاف سب و شتم کا معاملہ کیا گیا۔ مگرآپ نے ایسے لوگوں کو معاف کردیا۔ آپ نے ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی کاروائی نہیں کی۔

اس قسم کے واقعات صریح طور پر ابن تیمیہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کے نظریہ کی تردید ہیں۔ یہاں ان لوگوں نے اپنے حق میںایک جواب تلاش کرلیا ہے۔ ابن تیمیہ اور دوسرے لوگ (مثلاً ابن قیم)نے لکھا ہے کہ شتم رسول کا مسئلہ حرمتِ رسول کا مسئلہ ہے(الصارم المسلول على شاتم الرسول، جلد 1، صفحه385)۔ اس طرح وہ سب و شتم کے معاملہ کو حرمت رسول کا معاملہ قرار دے کر اس کو حقوق العباد کے تحت لائے ہیں۔ مگر یہ ان حضرات کی محض ذاتی تو جیہ ہے۔قرآن و حدیث میں اس کے حق میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں ۔ اور جب تک قرآن و حدیث کی واضح دلیل نہ ہو۔ اس کو حقوق العباد، بالفاظ دیگر، ذاتی حق کے تحت نہیں لایاجاسکتا (صفحہ219)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام پر حملہ سادہ معنوں میں ان کی ذات پر حملہ نہیں ، وہ براہ راست اسلام پر حملہ ہے اس طرح وہ ذاتی حق کے بجائے دفاع کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایک شخص اگر کہے کہ پیغمبر اسلام عادل نہیں تھے تو یہ آپ کے اوپر محض ایک شخصی حملہ نہیںہوا۔ ایسا حملہ پورے قرآن اور پورے اسلام کو مشتبہ قرار دینے کے ہم معنی ہے۔ ایسی حالت میں وہ اس طرح ختم نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر ذاتی طور پر اس کو معاف کردیں۔ وہ معافی کے بعد بھی پوری طرح باقی رہے گا۔ چنانچہ پیغمبر اسلام کا طریقہ اس بارے میں یہ تھا کہ وہ ایسے شخص کو فکری اور نظریاتی طور پر قتل کرنے کی کوشش کرتے تھے، نہ یہ کہ اس کوجسمانی طور پر قتل کرکے یہ سمجھیں کہ اس کا چھیڑا ہوا فتنہ ختم ہو گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content