← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
ابن تیمیہ کی کتاب
Urdu · 27 min
علامہ ابن تیمیہ کی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول کا وہ نسخہ میرے پاس ہے جو مجلس دائرۃ المعارف(حیدرآباد)سے 1322ھ میں چھپا تھا۔ اس کے 600صفحات ہیں۔ اس کتاب میں شتم رسول کے مسئلہ پر نہایت تفصیلی بحث ہے۔ اس موضوع پر اسلامی کتب خانہ کی غالباً یہ سب سے زیادہ جامع کتاب ہے۔
ابن تیمیہ کا حافظہ غیر معمولی تھا۔ ان کا ذہن گویا ایک زندہ قاموس تھا۔ ان کے بارے میںکہا ہے کہ کوئی حدیث جس کو ابن تیمیہ نہ جانتے ہوں وہ حدیث ہی نہیں كل حَدِيث لَا يعرفهُ ابْن تَيْمِية فَلَيْسَ بِحَدِيث (تاریخ ابن الوردی، جلد2، صفحہ 277)۔حافظہ کی اسی خصوصیت کا نتیجہ ہے کہ ان کی کتابیں معلومات کا خزانہ ہوتی ہیں۔ مگر راقم الحروف کا احساس ہے کہ ان کی کتابیں معلومات کے اعتبار سے جس معیار کی ہوتی ہیں ، وہ تجزیہ اور استدلال کے اعتبار سے اسی اعلیٰ معیار کی نہیں ہوتیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کا ایک نمونہ ابن تیمیہ کی موجودہ کتاب بھی ہے۔ بلاشبہ زیر بحث موضوع پر معلومات کے اعتبار سے ان کی یہ کتاب منفرد کہی جاسکتی ہے۔ مگر تجزیہ اور استدلال کے اعتبار سے وہ کوئی معیاری کتاب نہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ کے دوران میں نے اس کے نوٹ تیار کر لیے ہیں جو کئی صفحات پر مشتمل ہیں۔ ان کی روشنی میں آئندہ، ان شاء اللہ، کسی وقت اس کتاب پر ایک مستقل مضمون لکھوں گا جس میں اس کے مباحث کا تفصیلی تجزیہ کیاجائے گا۔ یہاں مختصر طور پر صرف چند مثالیں درج کی جاتی ہیں ۔
زیر بحث موضوع پر ابن تیمیہ کا نظریہ یہ ہے کہ شتم رسول کی سزا لازمی طور پر قتل ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ جیسے ہی کوئی شخص سب و شتم کا جرم کرے وہ فوراً اس کو مار کر اس کا خاتمہ کر دیں ۔ ایسے شخص کے لیے اسلام میں اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں۔ مگر اس نظریہ کے حق میں انھوں نے جو دلائل جمع کیے ہیں، وہ اس کو ثابت کر نے کے لیے کافی نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1۔ علامہ ابن تیمیہ نے ایک باب کے تحت اس اعرابی مسلمان کا لاذکر کیا ہے جس نے حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عدل پر الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ یہ تقسیم رضائے الٰہی کے مطابق نہیں کی گئی ہے۔ اس وقت حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجیے کہ میں اُس منافق کو قتل کردوں ۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے اللہ کی پناہ کہ لوگ یہ چرچا کریں کہ میں اپنے اصحاب کو قتل کر تا ہوں (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1063؛ مسند احمد، حدیث نمبر 14804)۔
quoted sourceQuoted from another author or source
اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صرف اس لیے قتل کرنے سے منع نہیں فرمایا کہ لوگ یہ چرچا کریں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ آپ نے اس لیے منع نہیں فرمایا کہ بجائے خود وہ شخص معصوم تھا ’’ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمْنَعْ عُمَرَ مِنْ قَتْلِهِ إِلَّا لِئَلَّا يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ، وَلَمْ يَمْنَعْهُ لِكَوْنِهِ فِي نَفْسِهِ مَعْصُومًا ‘‘ (صفحہ 174) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابن تیمیہ کی اس توجیہ پر غور کیجیے۔ وہ اپنی کتاب میں اس نظریہ کی وکالت کر رہے ہیں کہ رسول کی شان میں گستاخی کرنے والا ہر حال میں مباح الدم ہے، اس کو ضرور قتل کردیا جائے۔ اب ان کے سامنے زمانۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے واقعات آتے ہیں جب کہ علی الا علان گستاخی کرنے کے باوجود لوگوں کو قتل نہیں کیا گیا۔
مذکورہ سنت کے سامنے آنے کے بعد صحیح یہ تھا کہ ابن تیمیہ اپنے نظریہ کی تعدیل کریں ، وہ یہ کہیں کہ شاتم رسول کے لیے قتل کی سزا مقید ہے ، نہ کہ مطلق۔ مگر وہ ایسا نہیںکہتے۔ اس کے بر عکس، وہ جواب دیتے ہیں کہ ایسے افراد کو قتل نہ کرنے کا سبب یہ نہ تھا کہ وہ مباح الدم نہ تھے۔ بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ اگر ایسے افراد کو قتل کیاجاتا تو لوگ اس واقعہ کو لے کر اسلام کو بدنام کرنا شروع کر دیتے ۔ بالفاظ دیگر ، میرا نظریہ بدستور صحیح ہے، وہ اس سے غلط ثابت نہیں ہوا۔
مگر سوال یہ ہے کہ ابن تیمیہ کی اس تو جیہ سے ثابت کیا ہوا۔ کیونکہ جہاں تک اصل مسئلہ کا تعلق ہے، وہ بد ستور ان کے نظریہ کے خلاف ہے۔ ابن تیمیہ کی مذکورہ تو جیہ اصل صورت واقعہ میں صرف اتنا فرق کرتی ہے کہ پہلے اگر یہ کہا گیا تھا کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کو بدنامی سے بچانے کے لیے گستاخ کو قتل نہیں کیا‘‘۔ تو اب ابن تیمیہ کے مطابق ، بیان کے الفاظ یہ ہوں گے کہ’’گستاخی کرنے والا اگر چہ مباح الدم تھا، اس کے باوجود اسلام کو بدنامی سے بچانے کی خاطر آپ نے اس کو قتل نہیں کیا‘‘۔ دونوں حالتوں میں اصل مسئلہ بدستور یکساں حالت میں باقی رہتا ہے۔ اور وہ ہے — گستاخی کرنے والے کو قتل نہ کرنا۔
اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے ایک متوازی مثال لیجیے۔ فتح مکہ کے بعد جو مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لائے گئے تھے، ان کے بارے میں ایک شخص کہتا ہے کہ وہ سب کے سب مباح الدم تھے۔ اب اس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل آتا ہے کہ آپ نے ان مشرکین کو قتل نہیں کیا بلکہ انہیں آزاد چھوڑ دیا۔ اس کے بعد وہ شخص دوبارہ کہتا ہے کہ مشرکین مکہ کو چھوڑنے کا سبب یہ نہیں تھا کہ وہ مباح الدم نہ تھے، بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ ان کی تالیف قلب کرنا چاہتے تھے۔
’’محمد اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں‘‘ کو ابن تیمیہ نے شاید بالکل لفظی معنوں میں لےلیا ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ اب دنیا میں نہ’’محمد‘‘ باقی ہیں اور نہ ’’اصحاب ِ محمد‘‘ ، اس لیے اب اس مصلحتِ شرعی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو چکا ۔ اب تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ گستاخی کرنے والا مباح الدم ہے۔ اس لیے ہر ایسے شخص کو پکڑ کر فوراً قتل کر دینا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر یہ ایک طفلانہ بات ہوگی کہ قولِ رسول کایہ مطلب لیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’ محمد اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں‘‘ کا مطلب اپنے اصل معنی کے اعتبار سے یہ ہے کہ’’ اسلام اپنے ماننے والوں کو قتل کرتا ہے۔‘‘ اب چونکہ بعد کے دور میں اور آج بھی یہ اندیشہ مزید شدت کے ساتھ موجود ہے، اس لیے آج بھی اس سنت رسول پر عمل کرنے کی ضرورت باقی ہے۔ آج بھی ہمیں یہی کرنا ہے کہ ایک شخص بالفرض اس معاملہ میں خالص قانونی اعتبار سے مباح الدم ثابت ہو جائے تب بھی ہمیں مصلحت کی بناپر اس کے قتل سے باز رہنا ہے کہ اگر اس کو قتل کیا گیا تو لوگوں کو یہ موقع مل جائے گا کہ اس کو لے کر اسلام کو بدنام کریں اور اسلام کی وحشیانہ تصویر بنا کر خدا کے بندوں کو اسلام کے سایۂ رحمت میں آنے سے روکنے لگیں۔
2۔عبداللہ بن ابی نے بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی۔ مثلاً اس نے کہا کہ اگر ہم مدینہ واپس پہنچ گئے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا (المنافقون 63:8)۔ عزت والے سے اس نے اپنے آپ کو مراد لیا اور ذلت والے نعوذباللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ اسی طرح اس نے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ کے ساتھ ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں (المنافقون 63:7)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عبداللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اس طرح کی اور بھی بہت سی گستاخیاں کیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے اس کے قتل کی اجازت مانگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ہم ایسا کریں تو مدینہ میں بہت سی ناک اس کے لیے کھڑی ہو جائیں گی۔ مزید آپ نے کہا کہ لوگوں کو یہ موقع نہ دو کہ وہ کہنے لگیں کہ محمداپنے ساتھیوں کو قتل کر تے ہیں (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 291)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ پس اسے معلوم ہوا کہ جو شخص اس طرح کے کلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائے تو اس کو قتل کرنا جائز ہو جائے گا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس لیے قتل نہیں کیا کہ یہ اندیشہ تھا کہ اس کے قتل کی وجہ سے لوگ اسلام سے متنفر ہو جائیں گے ’’فَعُلِمَ أَنَّ مَن آذَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الكَلَامِ جَازَ قَتْلُهُ كَذَلِكَ مَعَ القُدْرَةِ، وَإِنَّمَاتَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَهُ لِمَا خِيفَ فِي قَتْلِهِ مِن نُفُورِ النَّاسِ عَنِ الإِسْلَامِ‘‘ ( صفحہ 175)۔
other sourceWords of another person or source
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے واضح طور پر ثابت ہو رہا ہے کہ دعوت کی مصلحت ہر دوسری مصلحت پر مقدم ہے۔ آپ نے ایک بدترین گستاخ کو صرف اس لیے قتل نہیں کیا کہ اگر اس کو قتل کیا جاتا تو لوگ اسلام سے متنفر ہوجاتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابن تیمیہ اپنی کتاب میں اس واقعہ کو اور اس کے سبب کو نقل کرتے ہیں۔ مگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل ابن تیمیہ کے نظریہ کی تردید ہے۔ ابن تیمیہ بطور خود ایک شاتم کے قتل کو دین کی سب سے زیادہ بڑی قابلِ لحاظ مصلحت قرار دیتے ہیں جب کہ سنت رسول واضح طور پر ثابت کررہی ہے کہ ایک اور مصلحت ہے جو شاتم کو قتل کرنے سے بھی زیادہ اہم اور قابلِ لحاظ ہے، اور وہ یہ کہ اسلام کو اس سے بچانا کہ لوگ اس سے متنفر ہو جائیں اور اس کی طرف راغب نہ ہو سکیں۔ اگر مصلحت ِ دعوت کے مجروح ہونے کا اندیشہ ہو تو شاتم کے زندہ رہنے کو گوارہ کرلیا جائے گا۔ بجائے اس کے کہ اسلام کی بدنام کو گوارہ کیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ واقعہ کا نتیجہ ابن تیمیہ کی رائے کے بالکل برعکس ثابت ہورہا ہے۔ مگر انہوں نے عجیب و غریب تاویل سے اس کو اپنے موافق بنالیا۔
3۔ابن تیمیہ اپنی اس کتاب کے ایک حصہ میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرو اپنے مالوں سے اور اپنے جانوں سے۔ اور جہاد بالنفس زبان سے بھی کیا جاتا ہے جس طرح وہ ہاتھ سے کیا جاتا ہے۔ بلکہ زبان کا جہاد زیادہ قوی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشرکین سے جہاد کرو،اپنے ہاتھوں سے اور اپنی زبانوں سے اور اپنے مالوں سے جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ (سنن النسائی، حدیث نمبر3096)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسّان بن ثابت سے کہا کرتے تھے کہ (اپنے اشعار سے) مشرکوں کے مقابلے میں جہاد کرو۔ مدینہ کی مسجد نبوی میں حسان بن ثابت کے لیے ایک منبررکھا جاتا تھا۔وہ اس پر بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اشعار میں آپ کی مدافعت کرتے تھے، اور مشرکین کے ہجو کا جواب دیتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں دعا کرتے ہو ئے فرمایا کہ اے اللہ تو روح القدوس سے حسّان کی مدد فرما۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسّان بن ثابت سے کہا کہ جبریل برابر تمہارے ساتھ ہوتے ہیں جبکہ تم خدا کے رسول کی طرف سے مدافعت کرتے ہو۔ اور آپ نے فرمایا کہ تمہارے اشعار مشرکین کو زیر کرنے کے لیے تیر سے بھی زیادہ سخت ہیں ،اور مشرکین کی ایک تعداد مسلمانوں کو اذیت دینے والی چیزوں سے صرف اس لیے رکی رہتی تھی کہ ان کو اپنے بارے میں حسّا ن بن ثابت کی ہجو کاا ندیشہ رہتا تھا۔ کعب بن اشرف جب مدینہ سے مکہ گیا تو اس کا حال یہ ہوا کہ جب بھی وہ کسی ایسے گھر میں ٹھہرنا چاہتا جس کی حسّا ن نے اپنے اشعار میں ہجو کی ہو تو وہ کعب بن اشرف کو اپنے گھر سے نکال دیتا تھا۔ یہاں تک کہ مکہ میں کعب کو کوئی گھر نہ ملا جو اس کو اپنے یہاں ٹھہرائے ۔ اور حدیث میں ہے کہ سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے ایک سچی بات کہنا ہے(صفحہ 200)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اوپر کی سطریں ابن تیمیہ کی عبارت کا ترجمہ ہیں۔ ان باتوں کے تذکرہ کے بعد ابن تیمیہ نے اس سے جو نتیجہ نکالا ہے وہ عجیب وغریب طور پر بالکل غیرمنطقی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب مشرکین کے شتم اور ہجو گوئی اور دین خدا وندی کے اظہار اور اس کی طرف دعوت دینے کی بابت زبان سے جہاد کرنے کا معاملہ ایسا معاملہ ہے تو معلوم ہوا کہ جس (معاہد) شخص نے دین خدا اور رسول ِ خدا پر شتم کیا اور اس کا اظہار کیا اور کتاب الٰہی کا ذکر کھلم کھلا برائی کے ساتھ کیا، تو اس نے مسلمانوں سے جہاد کیا اور ان پر زیادتی کی، اور یہ نقص عہد ہے(اس لیے وہ مباح الدم ہے)صفحہ200۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابن تیمیہ کا مطلب یہ ہے کہ لفظی ہجو تیرسے بھی زیادہ سخت ہے۔ اس لیے اگر کوئی معاہدرسول کے خلاف گستاخی کرے تو اس نے تیر اور تلوار سے بھی شدید حملہ کیا۔ اس لیے اس کا عہد ٹوٹ گیا، اور اسی نقض عہد کی بنا پر وہ واجب القتل ہو گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابن تیمیہ کو یہاں یہ کہنا چاہیے تھا کہ’’ الفاظ‘‘ کا حملہ ’’تلوار ‘‘ کے حملہ سے بھی زیادہ سخت اور زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ الفاظ کا جواب الفاظ سے دیں۔ جو لوگ اسلام یا پیغمبر اسلام پر طعن کریں، نظم ونثر میں طاقتور جواب کے ذریعہ ان کے اٹھائے ہوئے فتنہ کومنہدم کردیا جائے۔ ہمارا ایسا کرنا سنت ِ رسول کے عین مطابق ہوگا۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اسی اصول پر عمل فرمایا ۔ اور اپنے زمانہ کے ہم عصر شاتمین کا جواب حسّان بن ثابت سے شعر کی زبان میں دلوایا، جو گویا کہ اس زمانہ کی صحافت تھی۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مگر ابن تیمیہ اس کے برعکس ، عجیب وغریب طور اس سے یہ مسئلہ نکال لیتے ہیں کہ جس شخص نے اسلام پر الفاظ کے ذریعہ حملہ کیا، اس نے اسلام پر ایسا حملہ کیاجو تیر اور تلوار سے بھی زیادہ شدید تھا۔ اس لیے اس کی واحد سزا یہ ہے کہ اسے قتل کردیا جائے۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
مذکورہ سنت ِ رسول سے کم ازکم جو بات ثابت ہو تی ہے وہ یہ کہ شتم رسول کی صرف ایک سزا نہیں ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ اس سے زیادہ سخت اور کارگر سزا یہ ہے کہ اس کے الفاظ کا جو اب طاقتور الفاظ سے دیا جائے۔ اس کے اشعار کو اشعار سے اور اس کی نثر کو نثر سے کاٹا جائے۔ اس کے سب وشتم کو دلائل کے ذریعہ’’هَبَاءً امَنْثُورًا‘‘ (بے قيمت)بنادیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابن تیمیہ کا مذکورہ انداز کلام بڑا عجیب ہے۔ جس سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مخالفین اسلام کے الفاظ کا جواب الفاظ میں دینا چاہیے، کیونکہ جواب کا زیادہ موثر طریقہ ہے۔ اسی سنت سے ابن تیمیہ یہ نکال رہے ہیں کہ شاتم کو قتل کردو۔ کیونکہ اس نے اسلام پر تلوار کے حملہ سے بھی زیادہ بڑا حملہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب الفاظ کا جواب تیر و تلوار سے بھی زیادہ مؤثر ہے تو ہم بھی اپنے دفاع کے لیے اس زیادہ مؤثر ہتھیار کو کیوں نہ استعمال کریں۔ اس کے بجائے ہم اس ہتھیار کو استعمال کرنے کی طرف کیوں دوڑ یں جو نسبتاً کم مؤثر ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیا اسلام کی تعليم یہ ہے کہ جو تم پر سخت وار کرے، تم اس پر ہلکا وار کرو۔
4۔عبداللہ بن ابی مدینہ کے منافقین کا سردار تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بدترین گستاخیاں کرتا تھا اور آپ کو اذیت پہنچاتا تھا۔ وہ اپنی آخری عمر تک ایذا رسائی کا کام کرتا رہا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل نہیں کرایا۔ یہاں تک کہ ذوالقعدہ9ھ میں وہ مدینہ میں اپنی طبعی موت مرگیا۔
عبداللہ بن ابی کو قتل نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس لیے اس کے قتل سے باز رہے کہ آپ کو اندیشہ تھا کہ اس کو قتل کرنے کے بعد لوگ اسلام سے دور ہوجائیں گے۔ کیونکہ اسلام اس وقت کمزور تھا ’’فَعُلِمَ أَنَّ مَنْ آذَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الكَلَامِ جَازَ قَتْلُهُ كَذَلِكَ مَعَ القُدْرَةِ، وَإِنَّمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَهُ لِمَا خِيفَ فِي قَتْلِهِ مِنْ نُفُورِ النَّاسِ عَنِ الإِسْلَامِ لَمَّا كَانَ ضَعِيفًا‘‘ ( صفحہ 175)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ابن تیمیہ کے نزدیک عبداللہ بن ابی کے زمانہ میں اسلام کمزور تھا، اور قتل سے پیدا ہونے والے حالات پر قابو نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس ضعف کی بنا پر اس کھلے ہوئے شاتم رسول کو قتل نہیں کیا گیا۔ مگر ابن تیمیہ کي یہ توجیہ مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صورتِ واقعہ یہ ہے کہ ہجرت کے پہلے سال مدینہ میں اسلام کی حکومت قائم ہوچکی تھی۔ ہجرت کے آٹھویں سال مکہ فتح ہوا۔ ہجرت کے نویں سال پورے عرب میں اسلام کا غلبہ قائم ہو گیا۔ اس وقت کم ازکم ایک لاکھ جاں نثار صحابہ اسلام کی حمایت پر جمع ہو چکے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم بجسدہ الشریف ابھی دنیا میں موجود تھے۔ آپ وہ پیغمبر تھے جن کی بابت قرآن کی گواہی ہے کہ اپنے مخالفین پر غلبہ ان کے لیے مقدر کردیا گیا ہے(58:21)۔ اور یہ کہ ان کا مولیٰ اللہ ہے ۔ اور جبریل اور صالح اہل ایمان اور تمام فرشتے ان کے مددگار ہیں(66:4)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اب سوال یہ ہے کہ دورِ اوّل میں، مذکورہ تمام موافق حالات کے باوجود ، آپ مستہزئین کو قتل کرنے سے باز رهے۔تو آج وہ کیسے ممکن ہو جائے گا۔ جب پیغمبر ِ خدا کی موجودگی میں اسلام کا حال یہ تھا کہ وہ ضعیف اور کمزور تھا اور اس بنا پر کھلے ہو ئے گستاخ اور شاتم کو قتل نہ کیا جاسکا تو بعد کے زمانوںمیں تو اسلام یقینی طور پر اس سے بھی زیادہ ضعیف اور کمزور ہوگا۔ ایسی حالت میں تو شاتم رسول کو قتل کرنے کی کوئی صورت ہی نہیں۔ پھر تو اس سزا کو ابدی طور پر منسوخ فرض کرلینا چاہیے۔
کیسا عجیب ہے علامہ ابن تیمیہ کا مذکورہ استدلال ۔ اور کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اس قسم کے دلائل کو دلائل سمجھتے ہیں۔ اور ان کی بنیادپر اس نظریہ کی وکالت کررہے ہیں کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ شاتم رسول کو لازمی طور پر قتل کردیں۔ خواہ یہ شاتم مسلم ہو یا غیر مسلم، خواہ وہ اسلامی حکومت کے تحت ہو یا غیراسلامی حکومت کے تحت ، خواہ وہ ساتویں صدی عیسویں کا انسان ہو یا بیسویں صدی عیسویں کا انسان ۔
شاید موجودہ مسلمان اور ان کے رہنما اپنے آپ کو خدااور ملائکہ سے بھی زیادہ طاقتور سمجھتے ہیں۔ شاید ان کا خیال ہے کہ ان کی ذمّہ داریاںاس سے بھی زیادہ ہیں جو معلوم طور پر رسول اور اصحاب رسول کی ذمہ داریاں تھیں۔ یہ مسلمان جن کو ان کے نام نہاد رہنماؤں نے’’محتسب کائنات‘‘ کے منصب بلند پر بٹھا رکھا ہے، ان کے احتساب کا اگلا مرحلہ شاید وہ آسمانی اقدام ہوگا جس کو ان کے محبوب شاعر نے ان شاندار لفظوں میں بیان کیا ہے
در دشت جنون من جبریل زبوں صیدے یزدان بہ کمند آور اے ہمت مردانہ
یعنی،میری دیوانگی کے صحرا میں جبریل ایک گرا پڑا شکار ہے ۔ اے ہمت مرداں، یزداں (خدا) پر کمند ڈال۔