Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

قیاسی مسئلہ

Urdu · 2 min

عام طور پر مشہور ہے کہ اسلامی شریعت نے رسول پر شتم کرنے والے کے لیے قتل کی سزا بطور حد مقرر کی ہے۔ یعنی یہ ایسی سزا ہے جو لازماًجاری کی جائے گی، وہ توبہ سے بھی ساقط نہیں ہو تی ۔ مگر یہ مسئلہ جتنا مشہور ہے، اتنا ہی وہ بے اصل اور غیر ثابت شدہ بھی ہے۔ اگلے صفحات میں ہم قرآن ، حدیث اور فقہ تینوں اعتبار سے اس مسئلہ کا جائزہ لیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس موضوع پر غالباًسب سے زیادہ جامع کتاب علامہ ابن تیمیہ (661-728ھ) کی ہے۔ ان کی زندگی میں شتم کا ایک واقعہ ہوا۔ عساف نامي ايك نصرانی نے پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے۔ اس کے بعد شام و مصر میں بحث چل پڑی کہ جو شخص رسول پر سب و شتم کرے، اس کی سزا اسلامی شریعت میں کیا ہے۔ اس سے متاثر ہو کر ابن تیمیہ نے ایک ضخیم کتاب لکھی جو بعد کو الصارم المسلوم علیٰ شاتم الرسول کے نام سے شائع ہوئی۔ یعنی رسول کو گالی دینے والے کے اوپر کھلی تلوار— راقم الحروف کے پاس جو نسخہ ہے وہ600صفحات پر مشتمل ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content