عام طور پر مشہور ہے کہ اسلامی شریعت نے رسول پر شتم کرنے والے کے لیے قتل کی سزا بطور حد مقرر کی ہے۔ یعنی یہ ایسی سزا ہے جو لازماًجاری کی جائے گی، وہ توبہ سے بھی ساقط نہیں ہو تی ۔ مگر یہ مسئلہ جتنا مشہور ہے، اتنا ہی وہ بے اصل اور غیر ثابت شدہ بھی ہے۔ اگلے صفحات میں ہم قرآن ، حدیث اور فقہ تینوں اعتبار سے اس مسئلہ کا جائزہ لیں گے۔
اس موضوع پر غالباًسب سے زیادہ جامع کتاب علامہ ابن تیمیہ (661-728ھ) کی ہے۔ ان کی زندگی میں شتم کا ایک واقعہ ہوا۔ عساف نامي ايك نصرانی نے پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے۔ اس کے بعد شام و مصر میں بحث چل پڑی کہ جو شخص رسول پر سب و شتم کرے، اس کی سزا اسلامی شریعت میں کیا ہے۔ اس سے متاثر ہو کر ابن تیمیہ نے ایک ضخیم کتاب لکھی جو بعد کو الصارم المسلوم علیٰ شاتم الرسول کے نام سے شائع ہوئی۔ یعنی رسول کو گالی دینے والے کے اوپر کھلی تلوار— راقم الحروف کے پاس جو نسخہ ہے وہ600صفحات پر مشتمل ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔