Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

دونوں یکساں

Urdu · 4 min

مرزا غلام احمد قادیانی(1839-1908)اور مولانا ثناء اللہ امرتسری (1868- 1948)دونوں ہم عصر تھے۔ اس زمانہ میں جن علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی کا تحریری اور تقریری مقابلہ کیا، ان میں ایک مشہور نام مولانا ثناء اللہ امرتسری کا بھی ہے۔

تردید قادیانیت پر مولانا ثناء اللہ امرتسری نے بے شمار چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں ۔ ان کے مناظروں اور تحریروں اور تقریروں سے خود مرزا غلام احمد قادیانی تنگ آگئے۔ انھوں نے 15اپریل1907 کو ایک تحریر لکھی۔ اس کا عنوان تھا’’ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘۔ اس تحریر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ ’’مولوی ثناء اللہ نے مجھے بہت بدنام کیا۔ میرے قلعہ کو گرانا چاہا۔ اس لیے میں یہ دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے ، وہ سچے کی زندگی میںمر جائے۔‘‘

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس تحریر کے ایک سال بعد 26مئی 1908کو مرزا غلام احمد قادیانی کا انتقال ہو گیا۔ دوسری طرف مولانا ثنا ء اللہ امرتسری مزید 40سال تک زندہ رہے اور 15مارچ1948 کو سرگودھا (پاکستان)وفات پائی۔ اس طرح فیصلۂ خدا وندی کے تحت ثابت ہوگیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ جھوٹا تھا، اور مولانا ثناء اللہ امرتسری اس کے مقابلہ میں سچ پر کھڑے ہو ئے تھے۔

یہ واقعہ مجھے 3 جون 1989کو یاد آیا جب کہ ریڈیونے اطلاع دی کہ ایرانی پیشوا آیت اللہ خمینی کا 86سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ آیت اللہ خمینی نے 15فروری1989کو یہ فرمان جاری کیا تھا کہ سلمان رشدی کو قتل کر دیا جائے۔ اس کے فوراً ہی بعد حکومت ایران نے اپنے خزانے اور اپنے سرکاری ذرائع اس فرمان (یا فتویٰ ) کی تعمیل کے لیے وقف کر دیے۔ ا س کے بعد دنیا بھر میں خمینی اور رشدی کا معاملہ سب سے زیادہ سنسنی خیز خبر کی حیثیت سے اخباروں میں چھپتا رہا۔ حکومت ایران نے یہ بھی اعلان کردیا کہ ایک خفیہ دستۂ موت (death squad)اس قاتلانہ مشن پر روانہ کیا جا چکا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر حکومت ایران کے مکمل تعاون اور دنیا بھر میں بے شمار شیعہ اور سنّی مسلمانوں کی بھر پور تائید کے باوجود آیت اللہ خمینی اس میں کامیاب نہ ہو سکے کہ وہ سلمان رشدی کو قتل کرادیں ۔ یہاں تک کہ اپنے فرمان موت کے تقریباًچار مہینہ بعد خود آیت اللہ خمینی موت کا شکار ہو گئے۔

مذکورہ دونوں واقعات میں بعض فرق کے ساتھ ایک مشابہت ہے۔ اول الذکر واقعہ میں یہ ثابت ہوا تھا کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری حق پر ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی باطل پر۔ ثانی الذکر کا واقعہ میں کسی قدر فرق کے ساتھ یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کے دونوں ہی فریق باطل پر ہیں۔ سلمان رشدی بھی، اور اسی کے ساتھ آیت اللہ خمینی بھی۔

سلمان رشدی کو تاریخی حقائق باطل ثابت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف آیت اللہ خمینی اس لیے باطل قرار پاتے ہیں کہ انھوں نے جھوٹے زعم کے تحت ایک ایسا فرمان جاری کیا جس کا انہیں خدا نے حق نہیں دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں خدا کی تائید حاصل نہیں ہو ئی۔ وہ اپنی ساری مذہبی ، سیاسی، اقتصادی اور عوامی طاقت کے باوجود سلمان رشدی کو ختم کرنے میں ناکام رہے۔ قتل تو درکنار ، اقدام قتل کے درجہ کا بھی کوئی واقعہ وہ ظہور ميں نہ لاسکے۔ یہاں تک کہ موت نے خود ان کا خاتمہ کر دیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content