سعودی عرب کے شاہ فہد بن عبدالعزیز نے (سلمان رشدی کا نام لیے بغیر) اس پر تبصرہ کیا۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دعوت الی اللہ کا کام احسن طریقہ سے کرنا چاہیے۔ ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم دنیا کی دوسری قوموں کو یہ یقین دلائیں کہ اسلام محبت اور امن کا مذہب ہے۔ اسلام تشدد اور دہشت گردی کا مذہب نہیں ’’ أكّد خادِمُ الحَرَمَيْنِ الشَّرِيفَيْنِ على أَهَمِّيَّةِ الدَّعْوَةِ إلى اللهِ بِالحُسْنى. وأنَّ عَلَيْنَا أنْ نُؤَكِّدَ لِلشُّعُوبِ الأُخْرَى أنَّ الإسْلامَ هُوَ دِينُ المَحَبَّةِ والسَّلامِ ولَيْسَ دِينَ العُنْفِ والإرْهَابِ‘‘ ( اخبار العالم الاسلامی، مکہ، 22مئی1989)۔
امیر کویت الشیخ جابر الاحمد الصباح نے کہا کہ ایک سلمان رشدی کیا، دنیا بھر کے ایسے سارے لوگ بھی اپنی اسلام دشمن تحریروں سے اللہ کے اس سچے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
یہی بات الہ آباد یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر سوشیل کمار سریواستو نے ان لفظوں میںکہی کہ’’ اسلام اتناکمزور مذہب نہیں ۔ شیطانی آیات جیسی ان گنت کتابیں بھی اس کو ہلا نہیں سکتی۔‘‘ (اخبارنو،17-23امارچ1989)۔
اسلام کی ہزار سال سے زیادہ لمبی شاندار تاریخ ہے۔ اس تاریخ نے اسلام کو اس سے زیادہ مستحکم بنا دیا ہے کہ کوئی شخص یا کوئی بڑے سے بڑا گروہ اپنی باتوں سے اس کو ادنی نقصان بھی پہنچا سکے۔ چنانچہ یہی بات برطانیہ کی موجودہ خاتون وزیر اعظم مسز مارگریٹ تھیچر نے ان لفظوں میں کہی
''Great religions should be strong enough to withstand such criticisms as were contained in the book.''
یعنی عظیم مذاہب کو اتنا کمزور نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس قسم کی تنقید کے مقابلہ میں ٹھہر نہ سکیں جو کہ رشدی کی کتاب میں پائی جاتی ہیں(دی گارجین ، لندن، 4مارچ1989)۔
پاکستان کی خاتون وزیر اعظم نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس معاملہ کو طول دینے سے مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ توہینِ عقیدہ کو دہرانا بھی ویسا ہی گناہ ہے جیسا بجائے خود تو ہین کرنا۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کے مدنظر میرے خیال سے بنیاد پرست مذہبی لوگ بھی رشدی کے ناول اور اس کے قابل اعتراض موضوعات کی تشہیر کر کے اسی گناہ کا ارتکاب کررہے ہیں جس کا ارتکاب رشدی نے کیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔