سلمان رشدی کے مسئلہ کولے کرہندستان کے مختلف مقامات مثلاً سری نگر، بمبئی (فروری1989) وغیرہ میں مسلمانوں نے سلمان رشدی کے خلاف جلوس نکالا۔
ہر جگہ یہ قصہ پیش آیا کہ جلوس میں شرکت کرنے والے مسلمان کسی ایک یا دوسرے سبب سے مشتعل ہو کر تشدد پر اُتر آئے۔ انھوں نے قانون کی خلاف ورزی کی۔ حتی کہ پولیس کے اوپر پتھراؤکیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس نے گولیاں چلائیں جس میں مسلمانوں کی نہایت قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔
اس قسم کا اقدام ناقابلِ فہم حد تک لغو تھا۔ کیونکہ ہندستان وہ ملک ہے جس نے اس کتاب پر سب سے پہلے قانونی پابندی لگائی۔ حتی کہ پاکستان اور ایران سے بھی پہلے۔ پھر جب یہاں عملاً اس قابل اعتراض کتاب پر پابندی لگ چکی ہے، ایسی حالت میں ہندوستان میں کتاب کے خلاف جلوس نکالنے میں معقولیت کیا ہے۔
جلوس نکالنے والے لیڈر بظاہر معصوم بن کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا جلوس ہندستان کے خلاف نہیں بلکہ بر طانیہ کے خلاف تھا۔ ہم برطانی سفارت خانہ یا برٹش کونسل کے دفتر تک جا کر وہاں تحریری احتجاج نامہ دینا چاہتے تھے۔
یہ عذر لیڈروں کے جرم میںمزید اضافہ کرتا ہے۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ یہ حضرات تدبر سے بالکل خالی ہیںاس کے باوجود وہ لیڈری کے میدان میں دھوم مچا نا چاہتے ہیں۔ جلوس کے سلسلے میں بار بار کا یہ تجربہ ہے جو لوگ انسانی ہجوم کی صورت میں سڑکوں پر آتے ہیں وہ اس وقت بالکل غیر معتدل حالت میں ہو تے ہیں۔ وہ اپنی طاقت کا احمقانہ حد تک غلط اندازہ کر تے ہیں۔
اس بنا پر جو لوگ اس وقت انسانوں کے متحرک ہجوم میں ہوتے ہیں ، وہ کم ازکم اس وقتی نفسیات کی بنا پر، اپنے آپ کو ’’ سڑک کا بادشاہ‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت وہ معمولی واقعہ پیش آنے پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ اس مصنوعی زعم کے تحت پولیس سے لڑجاتے ہیں۔ کیونکہ وہ بظاہر ان کو اپنی تعداد کے مقابلہ میں کم تعداد میں دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جلوس ہمیشہ تشدد اور خون خرابہ پر ختم ہوتا ہے۔
اس بنا پر سلمان رشدی کے مسئلہ پر جلوس نکالنا سراسر غلط تھا۔ اگر کچھ لوگ چاہتے تھے کہ وہ اپنا احتجاج برطانی گورنمنٹ تک پہنچائیں تو وہ اس کو بذریعہ ڈاک یا بذریعہ تار بھیج سکتے تھے۔ اور اگر دستی طور پر دینا ضروری ہو تو چند آدمیوں کا وفد کسی برطانی دفتر جاکر اسے ان کے حوالے کرسکتا تھا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.