← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
ملاحظات
Urdu · 9 min
اخبار میں مولانا میرٹھی کا ایک مراسلہ شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے ’’ رشدی کا شیطانی ناول‘‘اس مراسلہ کا ایک حصہ یہ ہے
’’بدنام زمانہ رشدی کا شیطانی ناول آج کل مذہبی دائروں سے نکل کر سیاسی حلقوں میں بھی بحث و مباحثہ اور ہنگاموں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جہاں تک اسلامی نقطہ نظرکا تعلق ہے، مسلمان حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کائنات کی بہترین شخصیت مانتے ہیں۔ وہ ہر بات برداشت کرسکتے ہیں ، مگر حضور کی توہین اور آپ کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اس سلسلہ میں علامہ خمینی کا اقدام قابل تعریف ہے۔ اور حضرت مولانا علی میاں کا بیان صداقت و حقیقت کا آئینہ دار ہے۔‘‘(قومي آزادی27فروری1989)
قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا اصل پہلو آپ کا ’’اسوہ‘‘ ہونا بتایا گیا ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اپنی ذات کا اصل پہلو آپ کا ’’اعظم‘‘ ہونا قرار دے لیا ہے ۔ یہی انحراف ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ رسول کو اگر آپ اسوہ اور نمونہ سمجھیں تو اس سے پیروی کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بجائے اگر آپ رسول کو اعظم و اکبر سمجھیں تو اس سے فخر کا ذہن ابھرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ مظہر پوری طرح دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کرنے کا جذبہ تو بالکل مفقود ہے۔ حقیقی اتباع رسول سے ان کے اکابر بھی خالی ہیں اور ان کے اصاغر بھی۔ البتہ آپ شہنشاہ ِ کونین ، سرور کائنات اور فخرِ موجودات کہہ کر اس پر فخر کرنے کا جذبہ اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے کہ اس کی خاطر وہ ساری دنیا میں دھوم مچانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
حتی کہ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا سے برتر قرار دینے میں بھی مسلمانوں کو کوئی باک نہیں ہے۔ عام مسلمان اس کو کسی قدر مخفی الفاظ میں کہتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ بے با ک ہیں وہ سیدھے سیدھے یہ اعلان کر رہے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اللہ کے پلہ میں وحدت کے سوا کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہے لے لیں گے محمد سے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ مسلمانوں کے اسی مزاج کا نتیجہ ہے کہ خدا کے بارے میں خواہ کتنی ہی زیادہ مخالفانہ باتیں کہی جائیں ، انہیں اس پر کبھی جوش نہیں آتا، اور نہ اس پر ان کے جذبات بھڑکتے ۔ لیکن اگر ان کے پیغمبر کے بارے میں کوئی شخص گستاخی کا ایک کلمہ بول دے تو فوراً بھڑک کر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کے قدرت اللہ شہاب صاحب نے مسلمانوں کی نفسیات کو دو واقعے کی شکل میں بہت خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ دونوں واقعات ان کی ابتدائی طالب علمی کے زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کو ہم ان کی کتاب سے یہاں نقل کر تے ہیں
’’آبادی سے دور ایک مخبوط الحواس ، مجنون صفت، مجذوب نما شخص ویرانے میں بیٹھا رہتا تھا۔ اور ہمہ وقت اِلاّاللہ، اِلاّاللہ کی ضربیں لگاتا رہتا تھا۔ میں اور میرا ایک ہم عمر ہندو دوست اکثر اس کے پاس جا کر اس کا منہ چڑایا کرتے اور اس کے ذکر کی نقلیں اتارا کرتے تھے۔ میرا ہندو دوست اِلاّاللہ کے وزن پر مہمل مضحکہ خیز اور کبھی کبھی فحش قافیے جوڑ کر مذاق بھی اڑایا کر تا تھا۔ مجذوب نے ہمیں بار بار ڈانٹا کہ ہم اللہ کے نام کی بے حرمتی نہ کریں لیکن ہم باز نہ آئے۔ ایک روز ہم دونوں اسی مشغلے میں مصروف تھے کہ ایک شخص ادھرسے چند نعتیہ اشعار الاپتا ہو اگزرا، جس کا ایک مصرعہ یہ تھا
unverifiedAttribution could not be verified automatically
محمد نہ ہوتے تو دنیا نہ ہو تی
یہ مصرعہ سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا۔ اور اس نے اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اٹھایا ، اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زورسے دے مارا کہ اس کا سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا۔
لاشعوری کی وہ کون سی لہر تھی جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آگئی تھی؟۔
رسول خدا کے متعلق بد زبانی کرے تو اکثر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیںاور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں۔ بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس ِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان ِ عزیز کو قربان کر دیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے۔ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت کے حق میں مضطرب ہو تا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میںایک جنون کی صورت میں نمودار ہو تی ہے‘‘(شہاب نامہ، قدرت اللہ شہاب،دہلی 2003،صفحہ1202-03)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کے بارے میںغیر حساس ہونا اور خدا کے پیغمبر کے بارے میںحساس ہونا بلاشبہ گمراہی ہے۔ اس کا ہدایت سے کو ئی تعلق نہیں۔ جو لوگ اس قسم کی خوش عقیدگی میں جی رہے ہیں، وہ قیامت کا انتظار کریں۔ اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ ایک نیا دین تھا جو انھوں نے خوداپنی طرف سے گھڑ رکھا تھا، خدا کے بھیجے ہو ئے دین سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔
اصل یہ ہے کہ ایک اسلام کا دین ہے، دوسرا ہیرو پرستی کا دین۔ آدمی اگر صحیح معنوں میں اسلام کے دین پر ہو تو اس کے اندر خدا اور رسول دونوں کے ساتھ یکساںدرجہ میں تعلق ابھرے گا۔ وہ خدا پر ایمان سے بھی سرشار ہو گا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان سے بھی۔
مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا دین اسلام نہیں ہے بلکہ ہیرو پرستی ہے۔ انھوں نے خدا کو اپنا خدا نہیں بنایا۔ البتہ پیغمبر کو انھوں نے اپنا ہیرو بنالیا ہے۔ پیغمبر ان کا ہیرو ہے ، نہ کہ حقیقی معنوں میں خدا کا رسول ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی تو ہین کی جائے تو غیرجانبداربنے رہتے ہیں۔ اور اگر کوئی شخص رسول کے بارے میں تو ہین کا کلمہ بولے تو فوراًبھڑک اٹھتے ہیں۔
مسلمان اپنے اس خود ساختہ دین پر خوش ہیں۔ مگر انہیں جاننا چاہیے کہ قرآن نے اللہ اور اس کے رسول کے درمیان فرق کرنے والوں کے لیے عذاب کا اعلان کیا ہے ، نہ کہ انعام کا اعلان (4:150)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it