اشتعال انگيزي نهيں
ایک عربی ادیب سلمان رشدی کے معاملہ پر اظہار خیال کرتے ہو ئے لکھتے ہیںکہ جب ایک مسلمان اس وقت بھڑک اٹھتا ہے اور غضب ناک ہوجاتا ہے جب کہ اس کے والد یا والدہ کی اہانت کی جائے تو اس ہستی کی اہانت پر کیوں نہ بھڑک اٹھے گا جو مرتبہ میں سب سے بڑا ہے اور محبت اور وفاداری کا سب سے زیادہ مستحق ہے ’’إذْ كانَ الرَّجُلُ المُسْلِمُ يَثُورُ ويَغْضَبُ إذا أُهينَتْ والِدَتُهُ أو والِدُهُ، فَكَيْفَ لا يَثُورُ لِلَّذِي هو أَعْظَمُ مَنْزِلَةً وأَحَقُّ بِالمَحَبَّةِ والوَفاءِ؟ أَيُدَّعِي المُسْلِمُ بَعْدَ ذَلِكَ وَفِيًّا لِلإسْلامِ؟‘‘ ( البعث الاسلامی، جون1989، صفحہ 85)۔
اس کے بعد اس عربی مضمون میںکہا گیا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں دینی غیرت ختم ہو گئی ہے۔ اس لیے ہم یہ افسوسناک منظر دیکھ رہے ہیں کہ سلمان رشدی نے اہانت رسول کا اتنا بڑا واقعہ کیامگر مسلمان اس پر اتنا غضب ناک نہیں ہوئے جتنا غضب ناک اس طرح کے واقعہ پر ہو نا چاہیے۔ کلام کا یہ اندازسراسر لغو ہے۔ اس قسم کے جذباتی انداز کا تعلق نہ عقل سے ہے اور نہ اسلام سے۔ یہ صحیح ہے کہ اہانت کے واقعہ سے آدمی کو سخت جھٹکا لگتا ہے۔ مگر کوئی بھی شریف اور سنجیدہ آدمی ایسا نہیں کرتا کہ جب بھی کوئی اہانت کا واقعہ ہو تو وہ غضب ناک ہو کر ہنگامہ آرائی کر نے لگے یا اہانت کرنے والے شخص کے قتل کے درپے ہو جائے۔ ایک بے مقصد آدمی ہی اس قسم کا جذباتی طرز عمل اختیار کرسکتا ہے۔ بامقصد آدمی اس طرح کی جہالت کو ہمیشہ اعراض کے خانہ میں ڈالتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ اپنے مقصد کی طرف پیش قدمی کو جاری نہیں رکھ سکتا۔
سلمان رشدی کی کتاب (شیطانی آیات) کے معاملہ میں عام طور پر مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والوں نے اسی قسم کا منفی اور جذباتی اندازِ بیان اختیار کیا ہے جس کی ایک مثال اوپر نقل کی گئی ہے۔ مگر یہ اندازِ کلام درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کسی کی ماں کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہے جائیں تو اس کو سن کر فوری طور پر اس کو قلبی تکلیف ہو گی۔ مگر اس کامطلب یہ نہیں کہ آدمی جب ایسا نازیبا کلام سنے تو اس کے بعد فوراً وہ کہنے والے سے لڑنے لگے، یااس کے قتل کے درپے ہو جائے۔ ایسے مواقع پر آدمی کا متاثر ہونا بلاشبہ فطری ہے۔ مگر ایسے آدمی کو ’’ جہنم رسید‘‘ کرنے کا منصوبہ بنانا بھی یقیناً غیر فطری اور نا درست ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام فلسطین کی ایک خاتون کے بطن سے باپ کے بغیر پیدا ہوئے۔ یعنی ان کی ایک ماں تھی، مگر ان کا کوئی انسانی باپ نہ تھا۔ اس پر فلسطین کے یہودیوں نے آپ کی والدہ پر، نعوذباللہ ، بدکاری کا الزام لگایا۔ اور حضرت مسیح کو ولدالزنا کہا۔ مگر حضرت مسیح نے ایسا نہیں کیا کہ ایسے لوگوں کے لیے قتل کا فرمان جاری کردیں، حضرت مسیح کوخصوصی معجزاتی طاقتیں حاصل تھیں ۔ وہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا جن لوگوں نے آپ کی یا آپ کی والدہ محترمہ کی اہانت کی تھی، ان کو مارنے اور ہلاک کرنے کی مہم شروع کردیں۔
اسی طرح اسلام کے دور اول میں مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ پر نعوذباللہ بدکاری کا الزام لگایا اور عوام کے درمیان خوب پھیلایا۔ حضرت عائشہ نہ صرف پیغمبر اسلام کی اہلیہ تھیںبلکہ ان کی حیثیت ام المومنین کی تھی، وہ تمام مسلمانوں کے لیے مقدس ماں کا درجہ رکھتی تھیں۔ مگر مدینہ میں، اقتدار و اختیار کے باوجود ایسا نہیں کیا گیا کہ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہی تمام مجرمین کو پکڑا جائے اور ان کا سر کاٹ کر شہر کی دیواروں پر لٹکادیا جائے۔ پھر جب رسول اور اصحابِ رسول نے ایسا نہیں کیا تو بعد کے مسلمان کس دلیل سے اس قسم کا فعل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔