Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

غلط ترجمانی

Urdu · 6 min

سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (Satanic Verses) پر موجودہ لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں نے جس شدت کے ساتھ غصہ کا اظہار کیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال غالباً جدید دور میں نہیں ملے گی۔ اردو، انگریزی، عربی اور دوسری زبانوں میں اس کے خلاف کثرت سے بیانات اور مضامین شائع ہو چکے ہیں۔

ان سب کا خلاصہ وہ ہے جو مسلمانوں کے ایک ترجمان نے ٹائمس آف انڈیا میں ان الفاظ میں بتایا ہے۔ دوسرے کسی بھی انسان کی طرح ، ہم مسلمانوں کے جذبات کو اس وقت ٹھیس لگتی ہے جب کہ ہماری محبوب شخصیتوں کو طوائف کے روپ میں دکھایا جائے

other sourceWords of another person or source

''We, Muslims, like any human being, should be entitled to feel offended when our dearest ones are depicted as prostitutes.'' (Times of India, 1 March 1989)

opposing viewA view stated in order to be argued against

اس عبارت میں ایک واضح غلطی موجود ہے۔ وہ یہ کہ اس میں مسلمانوں کے رد عمل کے لیے عام انسانوں کے ردعمل کو نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کے لیے نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہے ، نہ کہ عام انسانوں کی روش میں۔

رسول کی ایذا رسانی پر مسلمانوں کا ردعمل کیاہو، یہ ایک خالص دینی معاملہ ہے۔ اس کا تعین قرآن و سنّت کی روشنی میں کیا جائے گا ، نہ کہ عام انسانوں کے سلوک کی روشنی میں۔ اس کے لیے نمونۂ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک ہے ، نہ کہ عام انسانوں کا سلوک۔

سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی بیویاں ہونے کا مذاق اڑایا ہے اور آپ کے گھر کو، نعوذ باللہ ، قحبہ خانہ(Brothel)کا نام دیا ہے۔ (صفحہ 376)اسی طرح مصنف نے صفوان ابن معطل کی جھوٹی کہانی کو دہرایا ہے جس میں نعوذباللہ ، حضرت عائشہ کے کردار کو داغدار بتاتا گیا تھا (صفحہ387)۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

امّ المومنین کے بارے میںیہ فرضی کہانی کوئی نئی کہانی نہیں ۔ یہ اولاً1400سال پہلے مدینہ میںگھڑی گئی۔ اس کا مصنف اول عبداللہ بن ابی تھا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا۔ اس کے مجرم ہونے کا ذکر خود قرآن (24:11) میں موجود ہے ۔ سلمان رشدی نے اسی کہانی کو بلاتردید لے لیا ہے، کیونکہ وہ اس کے مجرمانہ مقصد کے لیے بہت زیادہ مفید مطلب تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے واضح ہے کہ ام المومنین کے بارے میں سلمان رشدی نے جو مجرمانہ فعل کیا ہے، اس جرم کا ارتکاب خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ یہ ارتکاب جرم اس وقت ہوا جب کہ پیغمبر اسلام کو مجرم کے اوپر پوری طرح حاکمانہ اختیار حاصل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے ہر اعتبار سے نمونہ ہے، اس لیے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ آپ نے اس وقت مذکورہ جرم کے مجرم کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا۔

تاریخ واضح طور پر بتاتی ہے کہ اس مجرم اول (عبداللہ بن ابی)کو اس جرم پر کوئی سزا نہیں دی گئی۔ حضرت عمر فاروق نے، حتی کہ خود مجرم کے بیٹے عبداللہ نے، اس کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ترین اذیت کے باوجود ، اور یہ جانتے ہوئے کہ وہ ایک ثابت شدہ مجرم ہے، اس کے قتل کی اجازت نہیں دی۔ آپ اس کو چھوڑے رہے، یہاں تک کہ اپنی طبعی موت سے اس کا انتقال ہو گیا۔

یہ ہے نمونہ جو اس طرح کے معاملات میں پیغمبر اسلام نے ہمارے لیے چھوڑا ہے۔ ہمیں اسی نمونہ کو اختیار کرنا ہے۔ عام انسانوں کی روش کا حوالہ دے کر ہنگامہ آرائی کرنا سرکشی کی بات ہے ، نہ کہ ایمان و اسلام کی بات۔

سلمان رشدی کی کتاب کی اشاعت کے بعد مسلمانوں نے لایعنی ہنگامے کیے اس کو دوسرے انسانوں کی روش کو حوالہ دے کر صحیح بتانا لغویت کی حد تک غیر اسلامی ہے۔ کیونکہ مسلمانو ںکے لیے رسول خدا کے عمل میں نمونہ ہے ، نہ کہ دوسرے انسانوں کے عمل میں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content