Maulana Wahiduddin Khan
25 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

دور ازادی

Urdu · 25 min

دور آزادی

انڈیا کے انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا(28فروری1989، سیکشن2) کے صفحہ 3پر ایک بر طانی صحافی ایڈورڈمارٹیمر(Edward Mortimer) کا مضمون چھپا ہے جس کا عنوان یہ ہے— رشدی معاملہ آزاد دنیا کے لیے براہ راست خطرہ ۔

THE RUSHDIE AFFAIR DIRECTLY THREATENS THE 'FREE WORLD'

"We find ourselves caught up in a religious War, a war of ideas... Their (British people) reaction arouses no less passionate feelings of outrage in us because it is equally offensive to our religion. By "our religion", I do not mean Christianity. The Christian establishment is, in fact, very awkwardly placed in this affair: it disapproves strongly of incitement to murder but feels some sympathy with the Muslim demand for censorship of "blasphemy". However, Christianity is no longer the religion of Britain in the sense that Islam is the religion of Iran. It is not Christianity that binds us together as a community because we have long since given up trying to impose religious uniformity on ourselves or to exclude unbelievers and members of other faiths from full participation in our national life. The religion of this country and of the "Free World" to which it belongs is, precisely, freedom. Its founding fathers are Locke, Voltaire, Burke, Wilkes, and Tom Paine, the authors of the American Constitution and the La Déclaration des droits de l'Homme. Unlike Iranians, we are brought up to think it primitive to fight over metaphysical beliefs but to think of fighting for freedom as something admirable. Of course, like other peoples, we practise this religion imperfectly, and not everyone takes it as seriously as journalists, the self-appointed priests or mullahs of the cult. But the idea of sentencing a writer to death for what he wrote is just as offensive to modern Western sensibilities as the idea that Christ might have liked to make love to Mary Magdalene or that the Prophet might occasionally have listened to Satan is to traditional Christian or Muslim ones." (By arrangement with the Financial Times)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مضمون نگار نے جو کچھ کہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے

ہم اپنے آپ کو ایک مذہبی جنگ میں گھیرا ہوا پاتے ہیں، نظریات کی جنگ — برطانی لوگوں کے ردعمل سے ہمارے اندر بھی ہتک کا اتنا ہی احساس پیدا ہوتا ہے جتنا مسلمانوں کو ’’شیطانی آیات ‘‘ نامی کتاب سے۔ کیونکہ اس کتاب کے خلاف ردعمل یکساں طور پر ہمارے مذہب پر حملہ ہے۔ ’’ ہمارے مذہب‘‘ سے میری مراد عیسائیت نہیں ہے۔ عیسائیت اس معنی میں اب بر طانیہ کا مذہب نہیں جس معنی میں اسلام ایران کا مذہب ہے ۔ یہ مسیحیت نہیں جو کہ ہم کو ایک قوم کی حیثیت سے مجتمع کرتی ہو، کیونکہ عرصہ ہوا ہم اس کو اس اعتبار سے چھوڑ چکے ہیں۔ اس وقت برطانیہ کا مذہب ،صحیح لفظ میں ،آزادی ہے۔ اس مذہب کے بانی لاک، والٹیر، برک، ولکیز اورٹام پین ہیں۔ امریکی دستور کے مصنفین اور حقوق انسانی کے منشور نے اس کی تشکیل کی ہے۔ ہماری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی ہے کہ ہم آزادی کی لڑائی کو ایک قابل تعریف کام سمجھیں۔ اس میں شک نہیں کہ دوسری قوموں کی طرح ، ہم اس مذہب آزادی پر غیر معیاری اندازمیں عمل کرتے ہیں۔ اگرچہ صحافی جو گویا اس مذہب کے پادری اور ملّا ہیں ، ان کے سوا کوئی اس انحراف کو بہت سنجیدہ معنوں میں نہیں لیتا۔ مگر یہ تصور کہ ایک ادیب کو اس کی لکھی ہوئی چیز کی بنا پر قتل کردیا جائے، یہ جدید مغربی حساسیت کے لیے ویسا ہی تصور ہے جیسا کہ مسیحیوں کے لیے یہ تصور کہ مسیح ، مریم كے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں یا مسلمانوں کے لیے یہ تصور کہ پیغمبر کے الہام میںکبھی کبھی شیطان کا القاء بھی شامل رہتا تھا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ایڈورڈمارٹیمرکی بات جو اوپر نقل کی گئی ، وہ باعتبار واقعہ صد فی صد درست ہے۔ سلمان رشدی کے معاملہ میںنادان مسلمانوں نے جو ہنگامے کیے، اس کے خلاف مغرب کے شدید ردعمل کی وجہ یقیناً یہی ہے۔ جو لوگ اس معاملہ میں مغرب کے رویہ کو اسلام دشمنی یا اسلام کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں۔ وہ صرف اپنی جاہلانہ بے بصیرتی کی خبر دے رہے ہیں ، نہ کہ کسی حقیقت واقعہ کا اعلان کر رہے ہیں۔ جو لوگ حقیقتوں کو اتنا کم جانیں ، ان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان بند رکھیں، نہ کہ سطحی الفاظ بول کر غیر ضروری طور پر عوام کا ذہن خراب کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح کے معاملات کو مغرب کی ’’اسلام دشمنی‘‘ بتا کر لفظی شور کرنے کا فائدہ کچھ نہیں ، البتہ اس کا نقصان یقینی ہے۔ اگر بالفرض یہ دشمنی کا معاملہ ہو تو اخباروں اور جلسوں میں الفاظ کی چیخ پکار کرنے سے اس میں ایک فی صد بھی کمی آنے والی نہیں۔ البتہ اس کا یقینی نقصان ہے کہ مسلمانوں کا دل بغض و انتقام سے بھر جائے۔ مدعو قوموں کے بارے میں ان کے اندر وہ ناصحانہ جذبہ باقی نہ رہے جو داعی کی حیثیت سے ان سے مطلوب ہے۔ دعوت کا تقاضا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان کشیدگی کی فضا نہ ہو۔ مگر اس قسم کے ہنگاموں نے مسلمانوں اور دوسری قوموں کے تعلق کو دعوت کے بجائے عداوت کی بنیاد پر قائم کردیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ چپ رہنا بھی ایک کام ہے، جس طرح بولنا ایک کام ہے۔ بولنے کے موقع پر نہ بولنے والا اگر گونگا شیطان ہے، تو نہ بولنے کے موقع پر بولنے والا ناطق شیطان۔ اور باعتبار نتیجہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

آزادی کا مذکورہ مطلق تصور بظاہر اسلام کے خلاف ہے۔ لیکن اگر اس کو گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو عین اسلام کے حق میں نظر آئے گا، کیونکہ آزادی کے اس جدید انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار عالمی سطح پر ایسی صورت حال پیدا کی ہے کہ دعوت کے دروازے بے اندازہ حد تک کھل گئے ہیں۔ آزادی جتنی زیادہ عام ہو گی اتنا ہی زیادہ وہ مسلمانوں کے لیے دعوت کے زیادہ وسیع مواقع کھولنے کا سبب بنے گی۔ اور دعوت کے مواقع کھلنا، قرآن کے الفاظ میں ، فتح مبین کا دروازہ کھلنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم زمانہ میں اظہارِ خیال کی آزادی کا حق تسلیم نہیں کیاجاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں دین ِ حق کی آزادانہ تبلیغ ممکن نہیں ہو تی تھی، توحید کا نام لیتے ہی داعیان توحید کو قتل کردیا جاتا تھا۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کی بات ہے کہ توحید کی طرف لوگوں کو بلانے میں کوئی سیاسی رکاوٹ حائل نہیں رہی۔

یہ جدید انقلاب تما م تر اسی تصور آزادی کی دین ہے جس کا ذکر ایڈورڈمارٹیمر نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔ اس آزادی نے تاریخ میں پہلی بار ہر ایک کے لیے اپنے فکروخیال کے اظہار کے تمام دروازے کھول دیے ہیں۔ آزادیِ فکر آج ایسامسلّمہ حق بن چکا ہے جس سے انکارنہ کیا جاسکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر یہ آزادی لازمی طور پر سب کے لیے ہوگی ، نہ کہ صرف مسلمانوں کے لیے۔ اپنے لیے آزادیِ کامل کا حق پانے کے لیے دوسروں کو بھی آزادیِ کامل کا حق دینا پڑتا ہے، یہ دنیا دو طرفہ ٹریفک کی جگہ ہے۔ یہاں یک طرفہ ٹریفک کا طریقہ ہر گز ممکن نہیں ، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ سڑک کے اوپر اپنی گاڑی تیز دوڑائیں تو آپ کو دوسروں کے لیے بھی اس کا موقع دینا ہوگا۔ دوسروں کو موقع دیے بغیر اپنے لیے موقع پانا ہرگز ممکن نہیں۔

یہ صحیح ہے کہ ’’ ٹریفک‘‘ کے لیے کچھ اخلاقی ضا بطہ ہونا چاہیے۔ مگر ضابطہ صرف مشترک امور میں قابل عمل ہے، وہ انفرادی اور گروہی امور میں قابل عمل نہیں ۔ یعنی وہ اصول جس کا تعلق تمام لوگوں سے ہو، جو ہر ایک کی عمومی ضرورت ہو، اس کی بندش تو قائم کی جاسکتی ہے۔ مگر کسی شخص یا گروہی دلچسپی کی بات پرعمومی ضابطہ بندی ممکن نہیں۔ اور اگر جوش اصلاح میں کوئی حکمراں ایسی ضابطہ بندی نافذ کرے جو ایک کے موافق اور دوسرے کے خلاف ہو تو وہ عملی طور پر کبھی نافذ نہیں ہو سکے گی۔ وہ صرف ایک کاغذی کاروائی بن کر رہ جائے گی۔

اس کی ایک مثال خود سلمان رشدی کی کتاب ہے۔ اس نزاعی کتاب پر ہندوستان اور پاکستان میں پابندی لگائی گئی۔ مگر دونوں ملکوں میںاس کے غیر قانونی ایڈیشن فروخت ہورہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ کتاب کھلے بازار میں ملتی ، اب وہ بلیک مارکیٹ کے ذریعہ لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔ قانونی پابندی کے باوجود کتاب پر حقیقی پابندی لگانا ممکن نہ ہو سکا۔

جمہوری ملکوں میں آزادانہ تجارت کا حق ہے۔ اس آزادی نے اگرکپڑے اور جوتے اور غلہ کے تاجروں کو موقع دیا ہے کہ وہ تجارتی ادارے کھول کر بڑے بڑے نفع کمائیں تو اسی کے ساتھ شراب جیسی ناجائز چیزوں کی دکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود کروڑوں مسلمان آزادانہ تجارت کے اس ماحول سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ تجارت کے ذریعہ دولت کماکر اپنے خاندان کے لیے اور ملّی اداروں کے لیے نفع پہنچانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ کسی مسلمان نے ایسا نہیں کیا کہ وہ اس آزادی سے صرف اس لیے فائدہ نہ اٹھائے کہ اس کی وجہ سے شراب فروشوں کو بھی آزادانہ تجارت کا موقع حاصل ہو گیا ہے۔

ذاتی انٹرسٹ کے معاملہ میں تمام مسلمان اسی حکمت کوعملاً اختیار کیے ہوئے ہیں، مگر جب ملّت کا سوال سامنے آئے تو فوراً یہ جھنڈا لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ’’ پہلے شراب کی دکان‘‘ بند کرو، اس کے بعد ہم بازار میں ’’ کپڑے کی دکان‘‘ کھولیں گے۔ دوسرو ں پر پابندی قائم کرنے سے پہلے ہم آزادی سے فائدہ اٹھانے والے نہیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدۂ حدیبیہ کے موقع پر فریق مخالف کو اس کا پابند کرنا چاہتے تھے کہ وہ آپ پر یا آپ کے حلیف قبائل پر حملہ نہ کریں۔ اس کی خاطر آپ کو خوداپنے آپ کوبھی اس کا پابند کرنا پڑا کہ آپ فریق مخالف کے اوپر یا اس کے حلیف قبائل کے اوپر حملہ نہیں کریں گے۔ حالانکہ خود خدا کی گواہی کے مطابق ، یہ یقینی تھا کہ آپ پوری طرح انصاف پر ہیں اور فریق ثانی پوری طرح ناانصافی پر۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسروں کی طرف سے یہ حق اس وقت ملا جب کہ آپ دوسروں کو بھی اپنی طرف سے یہ حق دینے پر راضی ہو گئے۔

یہ صحیح ہے کہ موجودہ عمومی آزادی کے نتیجہ میں کچھ بے اعتدالیاں پیدا ہوں گی۔ مثلاً کچھ لوگ اسلام پر بے جا تنقید کریں گے۔ یا ایسی کتابیں چھاپیں گے جو مسلمانوں کو اسلام کی اہانت معلوم ہوں۔ مگر یہاں مسلمانوں کو جس چیز پر اعتماد کرنا چاہیے وہ اسلام کی ناقابلِ شکست صداقت ہے ، نہ کہ قانون کی پشتہ بندی۔ کیونکہ جس شخص کے پاس اپنے بچاؤ کے لیے پستول اور بندوق اور رائفل ہو وہ کبھی غلیل حاصل کرنے کے لیے نہیں دوڑتا۔ جب اسلام ایک کامل صداقت ہے تو ہمیں اس قسم کی باتوں سے ڈرنے کی کیا ضرورت۔

اگر مسلمانوں کو اس حقیقت کاصحیح احساس ہو تو وہ مخالفین کے الفاظ کو مزید طاقتور الفاظ سے رد کریں گے۔ وہ ان کی تحقیر و اہانت کو دلائل کے سیلاب سے ہباءاً منثوراً بنادیں گے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے پاس اپنے مذہب کے حق میں فخروناز کا ذخیرہ تو ضرورت سے زیادہ ہے، مگر دلائل وبراہین کا ذخیرہ ضرورت سے بھی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اہانت کا کوئی لفظ دیکھ کر بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس معاملہ میں مسلمانوںکو اپنی کمی کو دورکرنا ،نہ کہ دوسروں کے خلاف مشتعل ہو کر اسلام کی جگ ہنسائی کا سامان کریں ۔

رشدی یا اس جیسے دوسرے افراد کے خلاف مسلمان جو شور وغل کرتے ہیں، اس کو وہ بطور خود ’’ناموسِ رسول کی حفاظت‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ اگر ان ہنگاموں کا مقصد واقعۃً ’’ناموسِ رسول کی حفاظت‘‘ ہو تو ان کی یہ سرگرمیاں سراسر بے فائدہ ہیں ۔ کیونکہ وہ ناموسِ رسول کی مفروضہ حفاظت میں سراسر ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

سوامی شردھانند ہندوستان میں شدھی تحریک کے بانی تھے۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’ رنگیلا رسول‘‘ تھا۔برصغیر ہند کے مسلمانوں نے اس کتاب کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ کتاب پیغمبر اسلام کی ’’ شان اور عظمت کے خلاف نہایت تو ہین آمیز تھی‘‘۔ آخر کار یہ واقعہ پیش آیا کہ دسمبر 1926کی آخری تاریخوں میں ایک مسلم نوجوان نے سوامی شردھانند کو قتل کردیا۔ اس نوجوان کانام عبدالرشید تھا۔ اس کی بیوہ ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو خوشی خوشی اس کی اجازت دے دی تھی کہ وہ ناموس رسول کی حفاظت کے لیے قربان ہو جائے۔

لیکن اگر ناموس رسول کی حفاظت کا طریقہ یہی ہو تو یقیناً یہ مقصد حاصل نہیں ہوا۔ کیونکہ اس قتل کے بعد شردھانند نے اس ملک کی اکثریت کے درمیان قومی ہیروکی حیثیت اختیار کرلی۔ ملک کی تاریخ میں ان کو ’’ شہید‘‘ کامقام دیا گیا۔ 1947میں ہندوستان آزاد ہوا تو راجدھانی دہلی کے ممتاز مقام (چاندنی چوک) پر ان کا بلند وبالا مجسمہ عین شاہراہ پر نصب کردیا گیا، وغیرہ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے کسی عمل کو ناموس رسول کے نام پر بے فائدہ جان دے دینا تو کہ سکتے ہیں مگر اس کو ناموس رسول کی حفاظت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ قربانی نہیں ہے بلکہ نادانی ہے، جس کاتعلق نہ عقل سے ہے اور نہ اسلام سے۔

مسلمان دوسروں کی جن باتوں پر بھڑکتے ہیں، خود بھی وہ دوسروں کے لیے اسی قسم کے الفاظ بولتے ہیں۔ مگر موجودہ مسلمانوں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ دوسرے لوگ اپنے مذہب کے بارے میں اتنے حساس نہیں ہیں۔ جتنا کہ مسلمان ، اپنی شکست خوردگی کی بنا پر حساس ہو گئے ہیں۔ اس وجہ سے کوئی مسلمان جب دوسروں کے مذہب کے بارے میں سخت الفاظ بولتا ہے تو اس کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔اس کے بر عکس جب دوسرے فرقوں کا کوئی شخص اسلام کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتا ہے تو مسلمان فوراً مشتعل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح مسلمان غیر شعوری طور پر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم دوسروں کے خلاف کچھ نہیں کہتے ، البتہ دوسرے لوگ ہمارے خلاف بولتے رہتے ہیں ، حالانکہ یہ خوش فہمی واقعہ کے مطابق نہیں۔

ایک مثال لیجيے ۔ جنونی افریقہ کے احمد دیدات صاحب دوسرے مذاہب کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں اور لٹریچر چھاپتے ہیں ۔ وہ جس قسم کی زبان بولتے ہیں، اس کانمونہ یہ ہے کہ ان کے انگریزی بلیٹن البرہان (دسمبر1988) میں ان کاانٹرویو چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مختلف مذاہب کا ذکر کیا اور کہا کہ ان سب پر بلڈوزر چلادو

"Bulldoze them all." (p.3).

احمد دیدات صاحب یا دوسرے مقرروں کے اس قسم کے الفاظ مسلمانوں کو بہت اچھے لگتے ہیں۔ وہ ان پر تالیاں بجاتے ہیں۔ لیکن اگر یہی لفظ دوسرا شخص بولے تو وہ غصہ ہو جائیں گے۔ مثلاً ہندوستان میں بال ٹھاکرے اگر یہ کہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بلڈوزر کردو تو تمام مسلمان مشتعل ہوکر ہنگامہ کھڑا کر دیں گے۔ اس قسم کا دو طرفہ معیار موجودہ امتحان کی دنیا میں ہر گز چلنے والا نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلمانو ں کو یہ جاننا چاہیے کہ جو آزادی انھوں نے خود اپنے لیے لے رکھی ہے ، وہ انھیں دوسروں کو بھی دینی پڑے گی۔ دوسروں کے لیے آزادی کا حق تسلیم نہ کرنے سے وہ دوسروں کو اس آزادی سے محروم تو نہ کرسکیں گے جو انھیں خود زمانہ کی طاقت سے ملی ہوئی ہے۔ البتہ جھوٹے ردعمل کا مظاہرہ کر کے مسلمان اپنی اور بالواسطہ طور پر اسلام کی تضحیک کا سامان ضرور کرتے رہیں گے۔ اور موجودہ حالت میں وہ اپنی روش سے یہی کام انجام دے رہے ہیں۔

مسلمانوں کو آزادیِ خیال کا سب سے بڑا حامی اور وکیل ہونا چاہیے۔ کیونکہ آزادانہ مباحثہ میں بالآخر جو چیز باقی رہے گی وہ سچائی ہے، اور کامل اور بے داغ سچائی اسلام کے سوا کسی اور کے پاس موجود نہیں ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content