← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
پرنٹ میڈیا، الکٹرانک میڈیا
Urdu · 12 min
مسلم رہنماؤں کو یہ جاننا چاہیے تھا کہ اس معاملہ میں ان کا اقدام کوئی سادہ اقدام نہیں ہے۔یہ پوری مغربی دنیا کے ’’مذہب‘‘ پر براہ راست حملہ ہے۔ مسٹر ایڈورڈ مارٹیمر (Edward Mortimer) نے بجا طور پر کہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کا مذہب اسلام ہے، اسی طرح ہمارا مذہب آزادی (Freedom)ہے۔ مسلمان اپنے مذہب کی توہین یا اس پر حملہ سے جس طرح بپھر اٹھتے ہیں، ہم کو بھی اسی طرح سخت تکلیف پہنچتی ہے جب کہ ہمارے مذہب (آزادی) پر حملہ کیا جائے۔ مسلمانوں کے نزدیک اگر رسول کی بے حرمتی کلمۂ کفر(Blasphemy)ہے تو ہمارے نزدیک آزادی کی بے حرمتی اتنی شدت سے کلمۂ کفر کی حیثیت رکھتی ہے(ٹائمس آف انڈیا، 28فروری1989)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی وجہ ہے کہ جس طرح مسلم دنیا سلمان رشدی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے، اسی طرح مغربی دنیا سلمان رشدی کے معاملہ کو اپنا معاملہ بنا کر اس کی حمایت پر کمربستہ ہے۔ مغربی دنیا کی طرف سے سلمان رشدی کی حمایت کا سبب ’’ اسلامی دشمنی‘‘ نہیں ہے، جیسا کہ مسلم رہنما سطحی طور پر اس کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ بلکہ یہ اپنے ’’ مذہب ‘‘ کا دفاع ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح مسلمان اپنے مذہب کے دفاع کے لیے متحرک ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طرح یہ لڑائی ، مسلمان بمقابلہ رشدی نہیں رہی، بلکہ مسلمان بمقابلہ مغرب بن گئی ہے۔ اس کے نتیجہ میں پوری مغربی دنیا ازسرنو اسلام کے خلاف نفرت اور حقارت سے بھر گئی ہے۔ صلیبی جنگوں کے بعد پورے یورپ میں اسلام کے خلاف شدید نفرت کا طوفان آیا تھا جو صدیوں تک پوری طاقت سے جاری رہا۔ تاہم موجودہ زمانہ کے سائنسی انقلاب نے اس مذہبی نفرت کو بڑی حد تک ختم کر دیا تھا۔ اور دوبارہ وہ معتدل ماحول پیدا ہو گیا تھا جس میں اہل یورپ کو اسلام کی دعوت دی جائے اور وہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کریں۔
یہ حالات اس درجہ موافق تھے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ، یورپ اور امریکا میں اسلامی دعوت کاکام اپنے آپ ہو نے لگا۔ اس عمل کو 1979میں پہلا جھٹکا لگا جب ایران میں نام نہاد اسلامی انقلاب آیا۔ اس کے بعد انقلابیوں کے ہاتھوں پیش آنے والے وحشیانہ واقعات نے ساری دنیا میں لوگوں کو اسلام سے بیزار کر دیا۔ ایران کا انقلاب صرف اینٹی شاہ انقلاب تھا ، نہ کہ کوئی اسلامی انقلاب۔ اس کے رہنما اس کو اینٹی شاہ انقلاب بتاتے تو اسلام بد نامی سے بچ جاتا۔ مگرخلاف واقعہ طور پر اسلامی انقلاب اس کو اسلامی انقلاب کہنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام بدنام ہو کر رہ گیا۔
اس کے بعد 1989ميں مسلمانوں نے سلمان رشدی کے خلاف (عملاً پورے مغرب کے خلاف) جوناقابل فہم حد تک غیر عاقلانہ تحریک چلائی ‘اس نے سارے مغرب میں اسلام کے خلاف سوئی ہوئی نفرتوں کو دوبارہ نئے عنوان سے جگادیا۔ مسلمان سلمان رشدی کو قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے البتہ انھوں نے اپنی بے معنی سرکشی کے ذریعہ اسلام کے دعوتی امکانات کو یقیناً قتل کردیا۔
موجودہ زمانہ میںمختلف اسباب کے تحت اسلام کے حق میں جو دعوتی فضا بنی، اس کو بنانے میں مسلم رہنماؤں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ یہ تمام تر اللہ تعالیٰ کا معاملہ تھا جو براہ راست قانونِ قدرت کے تحت پیش آیا۔ مسلم رہنماؤں کی یہ غلطی (صحیح تر لفظ میں سر کشی) بلاشبہ آخری حد تک ناقابل معافی ہے۔ یہ جرم یقیناً سلمان رشدی کے جرم سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔ سلمان رشدی کو مجرم کے کٹھرے میں کھڑا کرنے کی کوشش میں مسلم رہنماؤں نے خود اپنے آپ کو شدید تر قسم کے مجرمانہ کٹہرے میں کھڑا کرالیا۔
ٹائمس آف انڈیا(9مارچ1989، سیکشن2)کے صفحہ اوّل پر پہلی خبر کی سرخی یہ ہے — رشدی کی کتاب اسلام اور مغرب کے ٹکراؤ کو دوبارہ جگاتی ہے
'Verses' rekindle Islam-West conflict
رائٹر کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام اور مغرب کے درمیان 13صدیوں سے جو سیاسی اور فوجی رقابت قائم تھی، جس نے دونوں کے درمیان تعصب اور غلط فہمی کی تلخیاں پیدا کر رکھی تھیں ، وہ سلمان رشدی کے ناول ’’شیطانی آیات‘‘ کے ذریعہ از سِر نو زندہ ہو گئی ہیں۔ 1979میں ایران کے نام نہاد انقلاب کے ذریعہ اسلام اور مغرب کے درمیان تعصب کی جو فضا پیدا ہوئی تھی اس کے بعد یہ دوسرا شدیدترین واقعہ ہے جو رشدی کی کتاب کے ذریعہ سامنے آیا ہے۔اسلام اور مغرب کے درمیان یہ کشمکش اسپین اور فرانس میں مسلمانوں کے حملہ سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد قرون وسطی میں صلیبی جنگوں اور اس کے بعد 19ویںصد ی میں مسلم دنیا پر یورپ کی فتح کی بنا پر دونوں ایک دوسرے کو دشمن کی نظر سے دیکھتے رہے (صفحہ1)۔ اس طرح کی مختلف تفصیلات دیتے ہوئے رپورٹر نے بتایا کہ کس طرح اسلام اور مغرب کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور حقارت کے جذبات چھپے ہوئے ہیں ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ رپورٹ بطور واقعہ صحیح ہے۔ اس نفرت نے ایک ہزار سال سے مغرب کے درمیان اسلام کی وسیع اشاعت کا دروازہ بند کر رکھا ہے۔ جدید سائنسی انقلاب نے مذہب کو غیر موثر بنا کر اس میں بہت زیادہ کمی کی ہے تاہم سطح کے نیچے اب بھی یہ منفی جذبات اہلِ مغرب کے درمیان موجود ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسی حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ قرآن و سنّت کی رہنمائی میں ہمارے کرنے کاکام یہ ہے کہ یک طرفہ ’’صبر‘‘ کے ذریعہ ہم حالات کو خوشگوار بنائیں تاکہ وہ معتدل فضا قائم ہو جس میں موثر طور پر اہلِ مغرب کے درمیان اسلام کی دعوت و اشاعت کاکام کیاجاسکے۔
دعوت کے حق میں موافق فضا بنانے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل ہر قسم کی توہین اور اذیت کو برداشت کیا۔ حتی کہ دعوتی امکان کو کھولنے کے لیے معاہدہ حدیبیہ کے موقع پر آپ نے لفظ ’’رسول اللہ ‘‘ کو خود مٹا دیا ، حالانکہ یہی آپ کی اصل حیثیت تھی اور اسی کے اعلان کے لیے آپ دنیا میں تشریف لائے ۔
اس سنّت رسول کے مطابق مسلمانوں کو یہ کرنا تھا کہ سلمان رشدی کی کتاب کے بارے میں مکمل طور پر نظر اندازکرنے کی پالیسی اختیار کرتے۔ اس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق، رشدی کی کتاب اپنی موت ہی مر جاتی۔ دوسری طرف اس طرزِ عمل کا یہ فائدہ ہوتا کہ مختلف اسباب کے تحت مغرب میں اسلامی دعوت کے جو امکانات کُھل رہے ہیں ، ان کا عمل بددستور جاری رہتا۔ یہاں تک ک وہ وقت آجاتا کہ مغربی دنیا غیر متعصبانہ ذہن کے تحت اسلام کا مطالعہ کرنے لگے، اور بالآخر وہ خدا کی رحمتوں کے سائے میں آجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف اسباب کے تحت موجودہ مغربی دنیا میں اسلامی دعوت کے نئے امکانات کھلے ہیں، اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ مسلم رہنماؤں نے نہ ان جدید امکانات کو دیکھا اور نہ وہ ان کو استعمال کرسکے۔ کچھ لوگ رنگ کے اندھے (colour-blind)ہوتے ہیں انہیں ایک رنگ دکھائی دیتا ہے اور دوسرا رنگ بالکل نظر نہیں آتا۔ اسی طرح موجودہ مسلم رہنما دعوت کے اندھے (dawah-blind)ثابت ہوئے ہیں۔ انہیں ہر دوسری چیز دکھائی دیتی ہے، مگر دعوت کامعاملہ انھیں نظر نہیں آتا۔
یہی وجہ ہے کہ مسلم رہنما دعوت کے امکانات سے بالکل بے خبر ہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص ایسی حرکت کردے جس سے ان کے قومی وقار کو ٹھیس پہنچے تو اس کووہ مبالغہ آمیز شدت کے ساتھ فوراًمحسوس کرلیتے ہیں ۔ دعوتی امکانات کے بارے میں اپنے اندھے پن کی وجہ سے وہ ایک بار بھی دعوت کے لیے سرگرم نہ ہوسکے۔ دوسری طرف وہ اپنی قومی توہین کے معاملہ میں اپنی بے جا سر گرمیوں کے ذریعہ پوری دنیا کو گرد آلود بنا رہے ہیں۔
اگر خدا کا دین وہی ہے جو قرآن اور حدیث میں بتایا گیا ہے، تو یقینی طور پر مسلم رہنماؤں کی يه سرگرمیاں صرف مجرمانہ سرگرمیاں ہیں، وہ کسی بھی درجہ میں خدا اور رسول کا مطلوب کام نہیں ۔ ان جھوٹی سرگرمیوں کے نتیجہ میں موجودہ مسلم رہنماؤں کو جو شہرت اور قیادت مل رہی ہے، اس نے انہیں اس قابل نہیں رکھا ہے کہ وہ نصیحت کی کوئی بات سن سکیں۔ مگر عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب کہ فرشتے کی چنگھاڑکے ذریعہ یہ حقیقت زمین اور آسمان کے اندر گونجے گی، اس وقت وہ اس کو مان لیں گے۔ اگرچہ اس وقت کا ماننا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔