حضرت عمر كا قول
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مذکورہ قول بہت بامعنی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک چیز بظاہر یقینی طور پر ’’ باطل‘‘ ہو، تب بھی یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے خلاف جنگ وقتال چھیڑدیا جائے، اور اس کو ہلاک کرنے کے نام پر ہنگامہ کیا جانے لگے۔ باطل کو باطل جانتے ہوئے بھی بعض اوقات ضروری ہوتا ہے کہ اس کی طرف سے خاموشی اختیار کرلی جائے۔
باطل کو باطل ثابت کرنا اس کے حق میں زیادہ بڑا قتل ہے۔ باطل کونظر انداز کرنے کا خاص فائدہ یہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کبھی ہلاک نہ کرنے ہی کا نام ہلاک کرنا ہو تا ہے۔ کبھی نظر انداز کرنا زیادہ بڑی سزا دینے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ مگر نادان لوگ اس راز کو نہیں جانتے۔ شور کی زبان کو سمجھنے والے چپ کی زبان کو نہیں سمجھتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ اس وقت آپ کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جو شخص تم کو توہین کرتا ہوا نظر آئے، اس کو فوراً قتل کردو۔ قرآن میں کثرت سے ایذا رسانی کا ذکر ہے، مگر اس قسم کاحکم کہیں بھی نہیں دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں کہاگیا ہے کہ ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ (33:48)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اہانت اور ایذارسائی کا جواب صرف یہی نہیں ہے کہ مجرم کو سزا دی جائے۔ اس کا ایک کامیاب جواب یہ بھی ہے کہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس کے معاملہ کو اپنے ہاتھ میںلینے کے بجائے اس کو قانون قدرت کے حوالہ کر دیا جائے۔
یہ اسلام کی عظیم الشان حکمت ہے، یہی وہ خاص حکمت ہے جس کو امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نےاس طرح بیان کیا— جہاں میری زبانی تنبیہ کافی ہو، وہاں میں اپنی تلوار نہیں اٹھاتا، اورجہاں میری خاموشی کافی ہو وہاںمیں کلام نہیں کرتا لَا أَضَع سَيفي حَيْثُ يَكْفِينِي سَوْطِي وَلَا أَضَع سَوْطِي حَيْثُ يَكْفِينِي لساني۔ (غريب الحديث لا بن قتيبہ الدينوري، جلد2، صفحہ 413)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔