Maulana Wahiduddin Khan
16 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

حکمت اعراض

Urdu · 16 min

قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی (بری) خبر لائے تو تم اچھی طرح اس کی بابت تحقیق کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ پر نادانی سے جا پڑو۔ پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے(49:6)۔

Qur'anQuotes the Qur'an

آدمی کو جب کوئی ناموافق خبر ملتی ہے تو وہ فوراًبپھر اٹھتا ہے اور فریقِ ثانی کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے دوڑ پڑتا ہے۔ مگر ایسے موقع پر اس قسم کا ہنگامی ردِّ عمل سراسر غیر اسلامی ہے۔ صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ خبر پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے اور اس بارے میں جو کاروائی کی جائے سمجھ بوجھ کر کی جائے ، نہ کہ جذباتی ہیجان کے تحت۔ معاملہ جتنا زیادہ سنگین ہوا اتنا ہی غور و فکر کا محتاج ہو تا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے التَّثَبُّتُ ‌مِنَ ‌اللهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ۔(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2012)یعنی، جلدی نہ کرنا اللہ کی طرف سے ہے اور جلدی کرنا شیطان کی طرف سے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

راقم الحروف کا عمل خدا کے فضل سے اسی شرعی حکم پر ہے۔ چنانچہ جب میں نے سلمان رشدی کی کتاب کی بابت خبریں پڑھیں تو سب سے پہلے میں سلمان رشدی کی اصل انگریزی کتاب سٹینگ ورسز (The Satanic Verses)حاصل کی۔ اور 547صفحات کی اس کتاب کو پڑھا ۔ اسی کے ساتھ میں نے اس معاملہ میں شرعی حکم کی دوبارہ تحقیق کی۔ اس سلسلہ میں دوسری فقہی کتابوں کے علاوہ علامہ ابن تیمیہ کی عربی کتاب ’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘ کو حاصل کر کے پڑھا جو 600صفحات پر مشتمل ہے، اور اس موضوع پر اسلامی کتب خانہ کی واحد جامع اور مفصل کتاب سمجھی جا تی ہے۔ اس دوطرفہ تحقیق کے بعد میں اس موضوع پر لکھنے کا کام شروع کیا۔

مگر مسلم رہنماؤں نے جس طرح عاجلانہ اور ناقص انداز میں اپنے بیانات دیے۔ اس سے یہ قیاس ہو تا ہے کہ انھوں نے غالباً اصل کتاب کو پڑھے بغیر محض سنی سنائی باتوں پر اعتماد کر کے اس کے خلاف لفظی ہنگاموں کا جوش دکھانا شروع کردیا۔ مجھے یہ بھی نظر نہیں آتا کہ ان میں سے کسی نے اس احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہو کہ وہ اس معاملہ میں شرعی حکم کی ازسرنو پوری تحقیق کرے، یا علامہ ابن تیمیہ کی مذکورہ کتاب کو مکمل طور پر پڑھے ، اور اس کے بعد اس مسئلہ پر اپنی زبان کھولے۔

اس عجلت پسندی کی ایک مثال یہ ہے کہ ایران کے آیت اللہ خمینی نے جب سلمان رشدی کے قتل کا فرمان جاری کیا تو اس کے بعد مولانا ابوالحسن علی ندوی کا بیان اخبار قومی آواز (20فروری1989) میں چھپا ۔ اس میں انھوں نے آیت اللہ خمینی کے فرمان کی تائید کرتے ہو ئے اس کو حق بجانب قرار دیا۔ مگر کچھ دنوں بعد مولانا موصوف نے تعمیر حیات(10مارچ1989) میں دوسرا بیان شائع کیا۔ اس دوسرے بیان میں سابقہ بیان کی تعدیل کرتے ہو ئے صرف یہ خبردی گئی تھی کہ آیت اللہ خمینی کے فرمان سے مسلمانوں کو خوشی ہوئی۔ پہلے بیان میں آیت اللہ خمینی کے فتوے کی ذاتی تصدیق تھی، دوسرے بیان میں صرف مسلمانوں کے ردّعمل کی ایک اطلاع۔

اسی طرح مولانا ابو اللیث اصلاحی کا ایک بیان نئی دنیا (3-9مارچ 1989) میں چھپا۔ اس میں انھوں نے شیطانی آیات کے مصنف سلمان رشدی کے بارے میں آیت اللہ خمینی کے قتل کے فرمان کو قابل ِ تحسین قرار دیا۔ مگر اس کے بعد انھوں نے اخبار دعوت (28مارچ1989) میں دوسرا مفصل بیان شائع کیاتو اس میں ان کا انداز واضح طور پر بدلا ہوا تھا۔ پہلا بیان اگر آیت اللہ خمینی کی لائنوں پر تھا تو دوسرا بیان اس لائن پر جو ریاض میں 46مسلم ملکوں کی کانفرنس میں متفقہ طور پر اختیار کی گئی۔

بظاہر حالات کو دیکھتے ہوئے، میرا حساس یہ ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب کے سلسلہ میں مسلمانوں کے مذہبی رہنما مذکورہ حکم الٰہی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو ئے ہیں۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب لکھ کر خود اپنے آپ کو ننگا کیا تھا۔ مگر اس کتاب کی اشاعت نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ موجودہ مسلمان دوسروں کو ’’ جہنم رسید‘‘ کرنے کے لیے اتنے زیادہ بیتاب ہیں کہ انھوں نے یہ بات بھی بھلا دی ہے کہ انہیں سب سے پہلے اپنے آپ کو ’’ جنت رسید‘‘ کرنے کی فکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس دنیا میں کوئی بھی شخص نہیں جس کی جنت لازمی طور پر خدا کے یہاں رِزرو ہو چکی ہو۔

مذکورہ قرآنی حکم (49:6)کے مطابق ، مسلم رہنماؤں پر لازم تھا کہ وہ پہلے اس معاملہ کی تحقیق کرتے اور پھر اس کے تمام پہلوؤں کو ذہن میں رکھ کر اس کے بارے میں مناسب کاروائی کا فیصلہ کرتے۔ مگر انھوں نے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہو ئے عجلت کا طریقہ اختیار کیا۔ اور فوری ردعمل کے تحت اس کے خلاف تیزو تند بیانات دیتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی کاروائیوں کا سارا فائدہ سلمان رشدی کے خانہ میں چلا گیا، اور اس کا سارا نقصان صرف اسلام کے حصہ میں آیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلم رہنما اگر اس معاملہ کی تحقیق کرتے تو انہیں یہ معلوم ہو تا کہ سلمان رشدی کی کتاب اگرچہ نہایت بے ہودہ ہے، مگر اسی کے ساتھ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ کتاب ناقابل مطالعہ بھی ہے۔ وہ کوئی تخلیقی ناول(creative novel)نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فنی اعتبار سے وہ اتنی پست اور اتنی غیر دلچسپ ہے کہ وہ سرے سے اس لائق ہی نہیں کہ کوئی شخص اس کو شروع سے آخر تک پڑھے۔ مسٹر خوشونت سنگھ نے اس پر تبصرہ کر تے ہوئے بجا طور پر کہا ہے کہ ناول کسی حیثیت سے بھی پڑھنے کے قابل نہیں۔ ایک اور انگلش جرنلسٹ مسٹرارن شرما نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تیسرے درجہ کا موضوع، دوسرے درجہ کا مصنف، اور اول درجہ کا کاغذ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی موت آپ مرجاتی۔ اس میں کسی قسم کی کوئی زندگی نہیں ۔ یہ صرف مسلمانوں کا احمقانہ شور وغل ہے جس نے اس کو غیر ضروری طور پر زندہ کر دیا۔ اور نہ پڑھنے والے لوگ بھی اس کو خرید نے کی طرف مائل ہو گئے۔اگرچہ ان خریدنے والے لوگوں کے ذوق کایہ بہتر اندازہ ہو گا اگر ہم یقین کریں کہ وہ لوگ پوری کتاب کو پڑھنے کی مشقت بھی ضرور برداشت کریں گے۔

ٹائم میگزین کے ایک قاری (Margareta du Rietz)نے اس معاملہ پر بہترین تبصرہ کیا جو ٹائم(20مارچ1989) میں چھپا ہے۔ اس نے کہا کہ بہت ہی کم لوگوں نے اس ناول پر دھیان دیا تھا، خمینی کا شکریہ کہ آج وہ عالمی شہرت کی کتاب بنی ہوئی ہے

other sourceWords of another person or source

"Very few took note of this novel. Now, thanks to Khomeini, it is world famous."

نیو یارک ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق سلمان رشدی کی یہ کتاب امریکا میں اس وقت سب سے زیادہ بکنے والی کتاب(best seller)بنی ہوئی ہے۔ کتاب کے پبلشر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم امام خمینی کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، کیونکہ وہ ہمارے سب سے بڑے سیلس مین (salesman) ثابت ہوئے ہیں۔

other sourceWords of another person or source

سلمان رشدی کے سلسلہ میں بے شمار چیزیں اخبارات ورسائل میں چھپ چکی ہیں، ایک خط جو ڈبلیو ایم شیخ کے قلم سے تھا، اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے، یہ خط ٹائمس آف انڈیا (9نومبر1988) میں چھپا تھا۔اس کا عنوان تھا— رشدی کو نظر انداز کرو 

Ignore Rushdie

"I have read various comments on Salman Rushdie's controversial novel, 'The Satanic Verses,' including his letter to our Prime Minister, and I believe that the decision to ban the book is both unfortunate and unnecessary. Some years ago, Mr. Rushdie wrote a novel called 'Midnight's Children,' published in 1981, which brought him fame but not substantial wealth. Following this novel, Mr. Rushdie embarked on a lecture tour in India. I had the opportunity to attend two of his lectures, one at the University Hall and the other at the President Hotel. On both occasions, I found Mr. Rushdie to be a delightful intellectual.

unverifiedAttribution could not be verified automatically

However, over the years, Mr. Rushdie has become a shrewd businessman. He strategically revolves his novels around controversial themes. Immediately after 'Midnight's Children,' he wrote the novel 'Shame' about Pakistan, which was promptly banned in the country. This was precisely Mr. Rushdie's intention. Every literate individual in Pakistan likely paid exorbitant prices to purchase and read this novel.

This time, he has employed the same tactic in writing 'The Satanic Verses.' I am sure that every bookseller in India must be secretly selling or will sell this book to the Indian public at inflated prices, ensuring Mr. Rushdie's financial success. Therefore, I urge my Muslim brethren in India and Pakistan not to be deceived by Mr. Rushdie's cunning tricks and strategies.

His comments on the Prophet of Islam appear lukewarm compared to those written by men like Edward Gibbon. The writings of Christian authors about the Prophet of Islam, particularly during the aftermath of the Crusades, are filled with lies and clear defamation. Compared to those works, Mr. Rushdie's writings should not deceive us. He can be considered a mediocre writer and, at worst, an unremarkable wordsmith. If we ignore his book, I am confident it will disappear naturally."

مسلم رہنما اگر اس معاملہ میں قرآنی حکم پر عمل کرتے ، اور اقدام سے پہلے اس کے بارے میں غورو فکر کرتے تو یقیناانہیں معلوم ہوجاتا کہ اس کتاب کے بارے میں صحیح ترین ردّعمل وہ ہے جس کی رہنمائی خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے ایک قول میں ملتی ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ باطل کو ہلاک کرو، اس کے بارے میں چپ رہ کر أَمِيتُوا الباطِلَ بِالصَّمْتِ عَنْهُ (دیکھیے،حلية الاولياء للاصفہانی، جلد 1، صفحہ 55)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content