Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

تعمیل حکم یا سر کشی

Urdu · 11 min

سلمان رشدی کے قتل کے نعرہ پر مسلمانوں نے جو دھوم مچائی ، وہ حقیقۃً نفسانیت اور سرکشی تھی، نہ کہ شریعت خدا وندی کی تعمیل۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ فقہ کی قائم کردہ حدکے اندر نہیں رہے۔ بلکہ عقل اور قانون اور شریعت ہر چیز سے آزاد ہو کر اپنے زبان اور قلم کا استعمال کرنا شروع کردیا۔

مثال کے طور پر مسلمانوں کے ایک نمائندہ عالم کا مضمون انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (یکم مارچ1989) میں چھپا۔ پھر یہی مضمون اردو اخبارات میں نمایا طور پر شائع ہوا۔ اس مضمون میں عبدالقادر عودہ (وفات 1954) کی کتاب التشریع الجنائي الاسلامي (دار الکاتب العربی، بیروت) کے حوالہ سے حسب ذیل باتیں کہی گئی تھیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہم مسلمان بین الاقوامیت پر یقین رکھتے ہیں۔ اور ہمارا قانون ، جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ہر مسلمان پر لاگو ہو تا ہے، چاہے وہ جہاں بھی اقامت پذیر ہو۔ یہ جمہور فقہاء (شافعی، مالکی، حنبلی)کا مسلک ہے۔ البتہ حنفیوں کا خیال ہے کہ دیار اسلام سے باہر رہنے والے مسلمان پر اسلامی سزاؤں کا اطلاق نہیں ہو گا، کیونکہ اسلامی حکومت وہاں احکام نافذ کرنے کے قابل نہیں ہے ( التشریع الجنائي الاسلامي ،جلد1،صفحہ 278)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حوالہ کے ذریعہ مضمون نگار نے یہ ظاہر کرنا چاہا ہے کہ جمہورفقہاء کے نزدیک اسلامی سزا نفاذ کے لیے ’’ قومی سرحدوں ‘‘ کی کوئی اہمیت نہیں ۔ سلمان رشدی اگر مسلم ملک سے باہر (برطانیہ کا باشندہ) ہے، تب بھی اس کو وہاں جاکر قتل کیا جائے گا تو ایسا کرنا عین اسلامی ہوگا۔

مگر یہ ایک لغو بات ہے جس کا کوئی بھی فقيه قائل نہیں۔ مذکورہ حوالہ جس کو اپنی تائید کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اس کا ’’بین الاقوامی نفاذ ِ سزا‘‘ کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس حوالہ کا تعلق دارالسلام اور داررالحرب کی فقہی بحث سے ہے۔ اس میں اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ مسلمان کی جان ومال کی عصمت کا تعلق دار سے ہے یا اسلام سے۔ کتاب کے متعلقہ حصہ کا ترجمہ یہ ہے

اور مسلمان جو کہ دارالحرب میں رہتا ہے اور اس نے دار الاسلام کی طرف ہجرت نہیں کی ہے تو مالک، شافعی اور احمد کے نزدیک وہ دار الاسلام کے دوسرے مسلمانوں کی طرح ہے۔ اپنے اسلام کے ذریعہ وہ اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لے گا، خواہ وہ دارالحرب میں مقیم ہو اور کتنی ہی لمبی مدت تک مقیم رہے۔ وہ جب دارالاسلام میں داخل ہونا چاہے تو اس سے رو کا نہیں جائے گا۔ جب کہ ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ جو مسلمان دارالحرب میںمقیم ہواور اس نے دارالسلام کی طرف ہجرت نہ کی ہو وہ اسلام کے باوجود غیر معصوم ہے۔ کیونکہ ابو حنیفہ کے نزدیک عصمت کا تعلق صرف اسلام نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق دارسے ہے۔ (جلد 1، صفحہ 278)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس محولہ عبارت کا سب و شتم کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا تعلق تمام تر دارالاسلام اور دار الحرب کے ایک خاص مسئلہ سے ہے جس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔

دوملک جب ایک دوسرے سے بر سرِ جنگ (at war)ہوں تو دونوں کے لیے ایک دوسرے کا جان و مال مباح ہو جاتا ہے۔ عبدالقادر عودہ نے اپنی مذکورہ کتاب میں لکھا ہے کہ حربی کا خون اس وقت جائز سمجھا جاتا ہے جب کہ وہ دارالاسلام میں اجازت کے بغیر داخل ہو جائے۔ اسی طرح مسلم اور ذمّی دونوں کا خون حربیوں کے لیے جائز ہو جائے گا جب کہ وہ دار الحرب میں اجازت اور امان کے بغیر داخل ہو جائیں۔ اگر وہ اجازت یا امان کے ذریعہ داخل ہوں تو دونوں مستامن قرار پائیں گے(التشریح الجنائی الا سلامی، جلد1، صفحہ 278)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں ایک سوال یہ ہے کہ وہ ملک جو دارلحرب ہو، یعنی جس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی حالت جنگ قائم ہو۔ وہاں اگر مسلم اور غیر مسلم دونوں بستے ہیں تو کیا یہ دونوں مباح الدم قرار پائیں، یا ان میں سے کوئی ایک مباح الدم ہو گا۔ اس معاملہ میں فقہاء کی دورائے ہے۔ ایک کے نزدیک دونوں ہی مباح الدم ہوں گے۔ کیونکہ عصمت (حفاظت جان و مال)کا تعلق ’’دار‘‘ سے ہے۔ جس ملک سے حالت جنگ قائم ہے، اس کا ہر باشندہ ، خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، جنگی قانون کے ماتحت سمجھا جائے، الّا یہ کہ وہ ہجرت کرکے دارالاسلام میں آجائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

فقہاء کادوسرا گر وہ دارالحرب کے مسلم آبادی اور غیر مسلم آبادی میں فرق کرتا ہے۔ اس کے نزدیک غیر مسلم مباح الدم ہیں ، مگر مسلمان مباح الدم نہیں ۔ کیونکہ ان کے نزدیک عصمت(حفاظت جان و مال)کا تعلق عقیدہ سے هے۔ جو شخص مومن ومسلم هے وه اپنے عقيده کی بناپر معصوم (محفوظ) ہے، خواہ وہ دارالاسلام میں مقیم ہو یا دارالحرب میں اقامت رکھتا ہو۔

یہ ہے وہ اصل مسئلہ جو مذکورہ کتاب (صفحہ278) میں بیان کیا گیا ہے۔ مگر اس مسئلہ کو غیرواقعی طور پر شتمِ رسول کے مسئلہ سے جوڑ کر یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ شاتم کو ہر حال میں قتل کیا جائے گا، خواہ وہ سرحد کے اُس پار ہو یا سرحد کے اس پار۔

2۔دوسری بات مذکورہ کتاب کے حوالہ سے یہ کہی گئی ہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے سلمان رشدی اسلامی قانون کی گرفت میں آتا ہے، جو کہ ارتداد کی سزا موت قرار دیتا ہے۔ مزید برآں اگر اسلامی حکومت یہ سزا نافذ نہ کر سکے تو کو ئی بھی مسلمان اس کو مجرم کے اوپر نافذ کر سکتا ہے۔(جلد1،صفحہ 535)

other sourceWords of another person or source

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص ہندوستان یا پاکستان سے چل کر انگلینڈ جائے اور وہاں اپنے ذاتی فیصلہ کے تحت گولی مار کر سلمان رشدی کو ہلاک کردے تو اس کا یہ فعل عین شریعت (فقہ) کے مطابق ہو گا۔ مگر اس نظریہ کی تائید میں جو حوالہ نقل کیا گیا ہے، اس سے ہر گز یہ بات ثابت نہیں ہو تی ۔

عبد القادرعودہ کی کتاب کا مذکورہ اقتباس سب وشتم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ارتداد کے بارے میں ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اصل یہ ہے کہ مرتد کا قتل اقتدار اورحکومت کا معاملہ ہے۔ اب اگر کوئی فرد حکومت کی اجازت کے بغیر مرتد کو قتل کر دے تو اس پر اس کی گرفت کی جائے گی، بذات خود عمل قتل کی بنا پر نہیں ۔ یہی رائے مذاہب اربعہ کے فقہاء کی ہے۔ البتہ مالکی مذہب ایک مختلف رائے رکھتا ہے۔ اس کے علماء کا خیال ہے کہ مرتد غیرمعصوم ہے۔ مگر ان کي بھی اسی کے ساتھ یہ رائے ہے کہ قاتل کی تعزیر کی جائے گی اور اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ (جلد1 ، صفحہ 535)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عبدالقادرعودہ کی مذکورہ عبارت مرتد کے بارے میں ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ وہ اصولاًاس کو درست نہیں قرار دیتے کہ کوئی شخص ذاتی طور پر کسی مرتد کے اوپر اسلامی سزا کا نفاذ کرے۔ البتہ اگر اتفاقاً کوئی شخص ایسا کر گزرے تو اس کے بارے میںان کا کہنا ہے کہ وہ قانوناً قاتل عمد نہیں قرار دیا جائے گا۔

اس مسئلہ کو ناقص اور غلط شکل میں پیش کر کے کہہ دیا گیا کہ کوئی شخص اگر انگلینڈ جاکر بطور خود سلمان رشدی کو قتل کر دے تو عین شرعی اور اسلامی فعل ہو گا۔ یہ بلاشبہ سر کشی ہے ، نہ کہ اسلام۔

یہ صحیح ہے کہ فقہائے اسلام کی اکثریت اس رائے پرہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے۔ مگر یہ کوئی استثنائی سزا نہیں ہے جس کی کوئی شرط نہ ہو ۔ دوسری اسلامی سزاؤں کی طرح اس کے نفاذ کی بھی کچھ لازمی شرائط ہیں ۔ ان شرطوں کی تکمیل کے بغیر اس کا نفاذ ہر گز درست نہیں۔

عام اصول شریعت کے مطابق ، سب سے پہلے یہ ثابت کیاجائے گا کہ واقعتاً شتم کا فعل سر زد ہوا ہے۔ اس ثبوت کی فراہمی کے بعد ایک بااختیار حکومتی ادارہ اس سزا کو مجرم کے اوپر نافذ کرے گا۔ مزید یہ کہ یہ نفاذ صرف اسلامی حکومت کے حدود میں کیا جائے گا، اسلامی حکومت کے حدود سے باہر ہر گز نہیں ۔ اس معاملہ میں فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔

مگر موجودہ زمانہ کے پر جوش مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ تمام حدود و شروط سے آزاد ہو کر جس طرح چاہیں سزا کا نفاذ کریں اور اگر عملی نفاذ نہ کر سکیں تو کم از کم بے قید الفاظ بول کر اس کی دھوم مچائیں ۔ مگر یہ شریعت اسلامی کی تعمیل نہیں ، یہ یقینی طور پر فکری سر کشی ہے۔ اور یہی فکری سر کشی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والوں کو متعلقہ فقہی مسئلہ میں وہ دھاندلی کرنی پڑی جس کی ایک مثال اوپر کے حوالہ میں نظر آتی ہے۔ راقم الحروف کو مذکورہ فقہی مسئلہ سے اتفاق نہیں ، اس کی بحث ’’قیاسی مسئلہ‘‘ کے تحت اگلے صفحات میں ملاحظہ فرمائیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content