Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

چند مثالیں

Urdu · 11 min

1۔ سلمان رشدی کی کتاب میں ایک بات نعوذباللہ یہ کہی گئی ہے کہ قرآن میں جبریل علیہ السلام کی لائی ہو ئی آیتوں کے ساتھ شیطان کی القاء کی ہو ئی آیتیں بھی شامل تھیں۔ اسی بنا پر اس نے اپنی کتاب کا نام ’’ شیطانی آیات ‘‘ رکھا ہے۔ یہ نام زیادہ صحیح طور پر خود رشدی کی کتاب پر صادق آتا ہے ۔ تاہم اس نے اپنے خیال کے مطابق، یہ نام قرآن کو دینا چاہا ہے۔

سلمان رشدی نے اپنا یہ نظریہ اس قصہ کی بنیاد پر کھڑا کیا ہے جس کو غرانیق کا قصہ کہا جاتا ہے۔ یہ قصہ، جس کی تفصیل دوسرے مضمون میں بتائی گئی ہے، اس وقت گھڑا گیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے اس لغو قصہ کے ابتدائی مصنف مکہ کے مشرکین تھے۔ 8ھ میں مکہ فتح ہوا تو ان مشرکوں کے اوپر آپ کو مکمل قابو حاصل ہو گیا۔ مگر آپ نے یہ اعلان نہیں فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے غرانیق کا جھوٹا قصہ گھڑا تھا، انہیں قتل کر کے اس سب کو جہنم رسید کردو۔ اس کے برعکس، آپ نے ان سے فرمایا کہ اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر18275)۔ یعنی، جاؤتم سب آزاد ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں اسلام کی نظریاتی طاقت پر بھروسہ کیا، نہ کہ اسلام کی شمشیر ی طاقت پر۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ اگر چہ آپ نے ان پر تلوار استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر اسلام کی نظریاتی طاقت نے ان کو مسخر کر لیا۔ ان کو آزادی دینے کے جلد ہی بعد وہ اسلام کے عقیدہ اور آپ کے اعلیٰ اخلاق سے اتنا متاثر ہوئے کہ کلمۂ اسلام کا اقرار کر کے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے خدا کی غلامی میں دے دیا۔

2۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محاونڈ (Mahound) لکھا ہے۔ یہ ایک استہزائی نام ہے۔ جس طرح بعض لوگ وہابی کو وہا بڑا اور دیوبند کو دیو کے بندے وغیرہ وغیرہ کہتے ہیں۔ اس طرح سلمان رشدی نے آپ کے لیے اس بگڑے ہوئے نام کو استعمال کیا ہے جو صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کے عیسائیوں نے پیغمبر اسلام کے لیے گھڑا تھا۔

اس مجرمانہ حرکت کی مثال بھی زمانۂ نبوت میں موجود ہے۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بتایاگیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اگرچہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے محمد رکھا تھا، مگر مکہ کے قریش نے استہزائی طور پر آپ کا نام مذّمم رکھ دیا۔ محمد کے معنی ہیں تعریف کیا ہوا۔ جبکہ مذّمم کے معنی ہیں مذمت کیا ہوا۔ ابو لہب کی بیوی ام جمیل شاعرہ تھی۔ اس نے مذّ مم کے لفظ کو لے کر شعر کہا تھا اور اس کواس طرح پڑھا کرتی تھی

‌مُذَمَّمًا عَصَيْنَا … وَأَمْرَهُ ‌أَبَيْنَا … وَدِينَهُ قَلَيْنَا

Qur'anQuotes the Qur'an

(سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 356)۔

یعنی ہم نے ایک قابل ِ مذمّت شخص کی نافرمانی کی۔ اس کی بات کا انکار کیا اور اس کے دین سے نفرت کی۔

اس معاملہ میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے یہ فرمایا ہوکہ دیکھو فلاں لوگ میرا نام بگاڑ کر مجھ کو مذّ مم کہتے ہیں، ان سب کو قتل کر دو۔ اس کے برعکس جو ہوا ، وہ تاریخ کے الفاظ میںیہ ہے

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بگاڑ کر آپ کا نام مذّمم رکھتے ہیں۔ اور پھر اسی نام سے آپ کو گالی دیتے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ کیا تم لوگوں کو اس بات سے تعجب نہیں ہوتا جو اللہ نے قریش کی ایذا رسانی کو مجھ سے پھیردیا۔ وہ مجھ کو گالی دیتے ہیں اور مذّمم کہہ کر میری ہجو کر تے ہیں۔ حالانکہ میں محمد (تعریف کیا ہوا ) ہوں۔ قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ إنَّمَا تُسَمِّي رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‌مُذَمَّمًا، ثُمَّ يَسُبُّونَهُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ أَلَا تَعْجَبُونَ لِمَا يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي مِنْ أَذَى قُرَيْشٍ، يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ ‌مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ (سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 356)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہاں دوبارہ دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بگاڑ کر آپ کو اذیت پہنچائی جاتی ہے ۔ مگر آپ اپنے اصحاب سے یہ نہیں کہتے کہ یہ لوگ ناقابل معافی جرم کے مجرم ہیں ، ان سب کو ایک ایک کر کے قتل کردو۔ اس کے بر عکس آپ اپنے اصحاب کی توجہ قولِ انسانی سے ہٹاکر قولِ خداوندی کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ انسان اگر میری مذمت کرتے ہیں اور میرا سب و شتم کر رہے ہیں تو اس سے کیا ہوا۔ تمام انسانوں کے رب اور ساری کائنات کے مالک نے ابدی طور پر مجھے محمد کے مقام ِ اعلیٰ پر فائز کر دیا ہے۔ پھر ان کی بےہودہ گوئی کی پروا کرنے کی مجھے کیا ضرورت۔

3۔سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں ایک اور نہایت بے ہودہ حرکت یہ کی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ کو نعوذباللہ ایک بد کر دار خاتون کے روپ میں دکھایا ہے۔ یہ بلاشبہ اشتعال انگیز حد تک ایک بے ہو دہ بات ہے۔ کوئی مسلمان کتاب کے اس حصہ کو ٹھنڈے دماغ کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا۔

مگر یہاں بھی قابل لحاظ بات یہ ہے کہ امہات المومنین کی کردار کشی کا یہ جرم پہلی بار رشدی کی کتاب میں نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ شنیع جرم اس سے پہلے خود زمانۂ رسالت میں کیا جاچکا ہے۔ دوسرے مضمون میں ہم نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ کس طرح صفوان ابن معطّل کے ایک واقعہ کو شو شہ بنا کر مدینہ کے کچھ منافقین نے یہ جھوٹا افسانہ گھڑا۔ اور اس کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسائی کی۔

یہ افسانہ اس وقت اتنا زیادہ پھیلایا گیا کہ کئی مخلص مسلمان تک اس سے متاثر ہو گئے۔ ایک مہینہ تک مدینہ کی پوری فضا شرمناک افواہوں سے بھری رہی۔ یہ تکلیف دہ صورت حال صرف اس وقت ختم ہو ئی جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے مداخلت فرمائی۔ اور قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ یہ افسانہ سراسر بے بنیاد ہے۔ محض جھوٹا پروپیگنڈا ہے ، نہ کہ کوئی واقعی حقیقت ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2661)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر اس وقت بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام لوگوں کے قتل کا حکم دے دیں جو کردار کشی کی اس جھوٹی مہم میں ملوث تھے۔ کچھ صحابہ نے ایسے افراد کو قتل کرنے کی پیش کش کی۔ مگر آپ نے اس پیش کش کو قبول نہیں فرمایا۔ امہات المومنین کی کردار کشی کے ان مجرمین کو زندہ چھوڑ دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ میں اپنے طبعی موت مرے۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اپنے آخری حساب کے لیے پہنچا دیے گئے۔

اس واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کا جو اسوہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ مضبوط انداز ميں الزام كي تردید کر کے مجرمین کو چھوڑ دیا جائے تاکہ لوگ ساری عمر ان کی لعنت کریں ، اور پھر مر کر وہ اللہ کی عدالت میں پہنچادیے جائیں تاکہ وہ اپنے خلاف ابدی لعنت کا فیصلہ سنیں اور ہمیشہ کے لیے رسوائی کے گڑھے میں پڑے رہیں۔

یہ ہے اس طرح کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ۔اب اگر مسلمان یہ کہتے ہیں کہ سلمان رشدی کی کتاب سے ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں، اور ہم تو اس کو قتل کرکے رہیں گے، تو میں کہوں گا کہ ’’ مسلمانوں کے جذبات کا مجروح ہونا‘‘ اسلام کے قانونِ ِجرائم کی کوئی دفعہ نہیں ہے۔ مسلمان اگر اس قسم کی کاروائی کرنا چاہتے ہیں تووہ اس کو اپنی قومی سرکشی کے نام پر کر سکتے ہیں ۔ مگر اسلام کے نام پر اس قسم کا فعل کریں تو انہیں ڈرنا چاہیے کہ ایک مجرم کو سزا دینے کی کوشش میںخوداپنے آپ کو اللہ کی نظر میں زیادہ مجرم نہ بنالیں ۔ موجودہ حالات میں تو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ مسلمان صرف اپنے نفس کی پیروی کر رہے ہیں ، نہ کہ خدا اور رسول کی پیروی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content